Prof Ghulam Shabbir

ہو جس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار!!!

چندروزپہلے زلزلے کے چندجھٹکے آئے،لوگ بھاگم بھاگ عمارتوں سے نکلے، ہم بھی اللہ سے فضل مانگتے دفترسے باہرآئے تو عجیب سماں تھا۔کوئی کہہ رہاتھا یہ ہماری بداعمالیوں پروارننگ ہے،کچھ لوگ بے نیازی سے ٹانگ پرٹانگ دھرے سگریٹ کا کش لگاتے سقراط اورافلاطون کے لہجے میں محوکلام نظرآئے۔ارے بھائی! یہ فطرت کا خودکارسسٹم ہے،زمین کی پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں،جتنی شدت سے ٹکرائیں گی اتنا بڑا زلزلہ ہوگا، عمارتوں اور انفرااسٹرکچرکا پختہ ہونا ضروری ہے، حکومت توجہ دے تاکہ 8اکتوبر2005 ء کی تاریخ خودکو نہ دہرائے،بس!طبقہ زہاد!فلسفہ وفکرسے کم ہی تعلق رکھتاہے مذہب کے خارجی پہلومیں محویہ طبقہ دین کے باطن سے بے نیازہے۔میرا مشاہدہ ہے کہ ایسی آفات اہل مذہب کوزندگی کے محاسن پرکم ہی مائل کرپاتی ہیں، جغرافیہ دانوں سے معذرت! میرا خیال ہے جب زمیں میں گیسیں بھرجاتی ہیں، پلیٹیں بے راہروی کا شکارہوتی ہیں تو جتنا توازن بگڑتاہے اسی شدت سے زلزلے آتے ہیں اورتوازن لوٹ آتاہے، شایدیہ اہل زمین کوکرداروعمل میں توازن برپاکرنے کی دعوت ہو، وہ توازن جسے قرآن تقویٰ قراردیتاہے ۔بہرحال قرآن کی روسے مظاہرفطرت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن اپنے جملوں کوآیات(نشانیاں) قرار دیتا ہے، جس طرح سائن بورڈتیرکے نشان سے بتاتاہے کہ اسپتال،مدرسہ وغیرہ اس سمت ہے،آیات بھی دراصل حقیقت مطلقہ کی طرف نفیس اشارہ ہوتی ہیں، بعینہ قرآن مظاہر فطرت مثلا بارش، ہواؤں، پہاڑوں، سمندروں، بے خیمہ آسمان، ستاروں اورکہکشاؤں وغیرہ کو بھی آیات قراردیتاہے جو نہ صرف اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے خالق کی طرف توجہ مبذول کرواتی ہیں، بلکہ کائنات کا اجتماعی نظم بذات خود آیت ہے ، اقبال نے پیغمبرؑ کیلئے فرمایاتھا”آیہ کائنات کا معنی دیریاب تو”۔”وہی ذات اقدس ہے جس نے سات آسمان بنائے، تجھے رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بگاڑنظرآتاہے؟، اٹھا آنکھ زمیں دیکھ ، فلک دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ! پھر اٹھاآنکھ یہ تھک ماندکرواپس آئیگی مگرخالق کی تخلیق میں اسے کوئی کجی نہیں ملے گی”۔کائنات کا نظم اجتماعی خداکا عظیم معجزہ ہے۔حجۃالاسلام امام غزالی نے جہاں قرآن کو کتاب المسطور(written Book) لکھا وہاں کائنات کوکتاب المنشور(Outspread Book) قراردیااورکہا کہ اگرقرآن(Text) اور کائنات (context) میں تضادہوتوکسی ایک کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، حق وہی ہے جس کی Text& Contextدونوں سے تصدیق ہو ۔جب عقل محض کے بجائے چشم بصیرت قرآن اورکائنات کا مطالعہ کرے،تودونوں ایک دوسرے کی بازگشت ، ایک دوسرے کے متعلق اور ایک خداکے بارے بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ Radical Reforms In Islam” میں ڈاکٹر طارق رمضان لکھتے ہیں امام غزالی کا یہ الٰہیاتی تصورجب پہل پہل آکسفورڈیونیورسٹی میں پڑھایاجانے لگا تو تاریخ میں پہلی بارمسیحی یورپ نے مظاہرفطرت اورسائنس کو سنجیدہ لیاجس نے یورپ کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھ دی۔غلام جیلانی برق نے اسی تصورکے تحت “دوقرآن “لکھی جس میں فرقان الحمید اورکائنات دونوں کو قرآن سمجھا گیاہے، مجھے توایرانی نژادامریکی اسکالر حسین نصرسے اتفاق ہے جس نے نفس انسانی کو بھی قرآن قراردیا ہے کیونکہ قرآن کہتاہے” ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے خود ان کے نفس میں اور آفاق میں” اسی لیے مومن کیلئے اقبال نے کہا تھا”قاری نظرآتاہے ، حقیقت میں ہے قرآن”۔لہٰذا کتاب الٰہی، کائنات اور نفس انسانی تینوں آیات پرمشتمل ہوتے ہوئے قرآن ہی سمجھے جائیں کہ یہ تینوں حقیقت کبریٰ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
عظیم الجثہ کائناتی مشین اپنی کارکردگی میں آٹومیٹک توہے آٹوکریٹک یا مطلق العنان ہرگزنہیں ہے کہ خالق مطلق کے ودیعت کردہ قوانین کی پابندیہ کائنات قرآن کے نزدیک مسلم ہے کہ اسے ان قوانین سے سرموانحراف نہیں۔انسان کا مسئلہ ہے یہ منظم مشینری مضبوط ومربوط کارکردگی پررہے، تووہ خداکو بھول جاتاہے، جب اس میں خلل آئے جو خودفطرتی ہے تو اس سمے شدت سے خدا کویادکرتاہے” جب لوگ بحری جہازمیں سفرکررہے ہوتے ہیں، ہوائیں سازگارہوں، پانی کی سطح پرسکون ہو،وہ انتہائی موافق حالات میں خداکوبھول جاتے ہیں،مگرجب انہیں طوفان گھیرلیتاہے، اورلہریں کوڑا بن کرانہیں حصارمیں لے لیتی ہیں، کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی،نا امیدی کی اس گھڑی وہ انتہائی خلوص سے رب کوپکارتے ہیں، جب نجات ملتی ہے تو وہ پھربغاوت اورمنفی رویوں کیطرف لوٹ جاتے ہیں”۔
مسئلے دو ہیں،پہلایہ کہ محروم فکر انسانوں کی اکثریت نظم کائنات کوآیت کے مفہوم میں نہیں لیتی۔ ہرکوئی ولیم ورڈزورتھ کی آنکھ سے مظاہرفطرت کو نہیں دیکھ سکتا،اقبال نے کہا تھا ورڈزورتھ کامطالعہ نہ کرتاتو کفروالحادکا شکارہوجاتا، جوش نے کہاتھا” ہم ایسے اہل نظرکو ثبوت حق کیلئے،،، اگررسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی” ابن العربی نے کیا خوب کہا ہے کہ ” صبح صادق خداکے ظہورکا وقت ہوتاہے” قرآن کہتاہے زمین اپنی پشت پرانسانوں کواٹھائے ہوئے ہے اورڈوبتی نہیں، خیمہ افلاک اتنے خلاء کے باوجود چیتھڑے نہیں ہوتا، یہ بذات خودکتنا عظیم معجزہ ہے، مگرلوگ کارہائے فطرت کے انقباض اورتعطل کے منتظر ہوتے ہیں اور جب اشارہ فطرت کو نظرانداز کیا جائیگا تو پھرطوفان، سیلاب، بھاری بارشیں، قحط اور وباؤں سے خدا اپنے ہونے کا یقین دلاتاہے۔اوریہ تب ہوتاہے جب انسانیت پروعظ ونصیحت کااتمام حجت ہو چکا ہو اور چشم دل واکرنے کیلئے ایسا ناگزیر ٹھہرے۔ دوسرامسئلہ ایک اقلیتی گروہ کا ہے جو کائنات کو (self-suffecient) سمجھتا ہے۔ اس تصورکی آگ سے مظاہرفطرت کی معنویت راکھ ہوجاتی ہے اور دنیا لعوولعب اورظلم وستم کاگہوارہ بن جاتی ہے،اسٹالن کا روس اورماؤکا چین ملاحظہ ہو!
خلاصہ بحث یہ ہے کہ کائنات، قرآن اور نفس انسانی تینوں آیات پرمشتمل ہیں جوخالق حقیقی کیطرف تیرکا نشان ہیں،قرآنی آیات تبیین الآیات، نصرف الآیات یا فصلنالآیات ہیں کہ وہ کائنات اورنفس انسا نی میں بکھری آیات کی وضاحت ہیں ان کی تلاوت کی جاتی ہے، اس لیے ان کیلئے “نتلوہا” تتلیٰ” کہا گیاہے۔مظاہرفطرت، ضمیرانسانی اورکتاب حق کی آیات کوشدت معنویت اوراثرپزیری کی بنیادپرچاردرجوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا درجہ ان آیات کا ہے جوروٹین ورک ہے، مثلآ آسمان سے بارش ہونا، سورج ، چاند، تارے یا دیگرمظاہرفطرت جوخودمعجزات ہیں مگرمعمول کا حصہ ہیں اس لیے حساس قلب سلیم ہی ان کی معنویت کو محسوس کرسکتاہے، یہ آیات کہلائیں گی۔ جب انہیں آیات کو اور کھول کربیان کیا جاتا ہے تو یہ “بینات”کہلاتی ہیں۔یہ وہ نشانیاں ہیں جو آیات کے برعکس سب کے محسوسات اور فہم پراثراندازہوتی ہیں ، صحیح یا غلط انداز سے سمجھی ضرورجاتی ہیں انکارنہیں کیا جاسکتا، قرآن اورپیغمبرؑ کو بینہ کہاگیاہے جنہیں خواہ ردکیا جائے انفرادیت سے مفرنہیں۔قرآن کے علاوہ بینات کا ذکرتین دفعہ آیا ہے، ایک دفعہ قوم لوط کی تباہی کوبینہ کہا گیا
ہے دودفعہ موسیٰ اورقوم موسی کے متعلق بیان ہوا ہے۔ بینات آیات کی وہ قسم ہے جسے جادو، کرتب، شاعری یا دھوکہ کہا جاسکتاہے، مگرمکرا نہیں جاسکتا۔خودقرآن سے متعلق کفارمکہ نے کیا کیا نہیں کہا، دربارفرعون میں عصائے موسیٰ یا خود پیغام مو سیٰ سے متعلق کیا کہاگیا، بہرحال قوم لوط کی تباہی کوقرآن نے بینات کہاہے اوریہ عذاب جرم لواطت کا شاخسانہ تھاتو جوتہذیبیں زلزلوں، طوفانوں اورسیلابوں سے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں ان کے بارے کیا خیال ہے؟ موئنجودڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا، بابل ونینواکا کیا قصہ ہے؟ بینات میں بہرحال غلط سمجھے جانے کا سامان بھی ہوتاہے، محکمہ آثارقدیمہ ان کے جتنے گن گائے قرآن تو ایسے مناظرکو سامان عبرت کے طورپرپیش کرتا ہے۔آیات کا تیسرا درجہ “برہان”کا ہے یہ حقیقت کا (Demonstrative Proof) ہوتی ہیں عقل ونفسیات کوقبول کرنے پرمجبورکرتی ہیں، قرآن کو برہان کہاگیاہے۔چوتھادرجہ آیات “سلطان” کہلاتاہے,ایسا ثبوت جوجسمانی طورپرہلا کے رکھ دے۔ اے جن وانس! اگرتم قدرت رکھتے ہو توآسمان اورزمین کے پردوں سے نکل کردکھاؤ، نہیں نکل سکتے الایہ کہ تمہیں اتھارٹی دی جائے۔بات چلی تھی زلزلے سے مگرکئی پیچیدہ موڑدرآئے، زلزلے کو عذاب الٰہی سمجھا جائے، مگرقرآن کیمطابق دوسری قوموں سے پیچھے رہ جانابھی عذاب ہے، اس سے نجات کا راستہ عظیم قیادت سے ہی ممکن ہے جو خیال وفکرمیں زلزلہ برپاکردے۔
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار