Farrukh Shehbaz Warach

ہم نے ماضی سے کیا سبق سیکھا؟

کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ کیا صرف بارہ اکتوبر کے دن کو سیاہ دن کہہ کر سیاسی جماعتیں اپنی جان چھڑا سکتیں ہیں۔۔۔؟ پھر مرحوم شیر افگن نیازی یاد آتے ہیں جو مشرف دور میں پارلیمانی امور کے وزیر تھے، 12اکتوبر 1999ء کے پانچ سال بعد جب پی پی پی کے اراکین بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ اس دن کوتاریخ کا سیاہ دن کہہ رہے تھے اور پارلیمنٹ میں نحیف سی آوازیں ’’گو مشرف گو ‘‘کی آرہی تھیں، تب ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے ہماری سیاسی جماعتوں کو آئینہ دکھایاتھا ’’یہ وہی پیپلز پارٹی ہے جس نے نواز شریف حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں بانٹی تھیں اب اپنے مفادات کے لیے یہ مل گئے ہیں‘‘
12اکتوبر1999ء کو شام چھ بجے کے قریب اچانک ٹی وی پر خبر نشر ہوئی کہ حکومت نے فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر آئی ایس آئی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کو ملک کا نیا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف نے فیصلے کو رد کر دیا، ان کے حکم پر فوج بیرکوں سے سڑکوں پر آ گئی، ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرلیا۔ سرکاری ٹی وی، ریڈیو اور تمام ہوائی اڈوں کا کنٹرول فوج کے ہاتھ میں آگیا۔
14 اکتوبر کو پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا اور ایک عبوری آئینی حکمنامہ جاری کیا گیا۔ پرویز مشرف نے ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں۔
کارگل جنگ پر نالاں پرویز مشرف نے نواز شریف اور شہباز شریف سمیت کئی حکومتی شخصیات کو گرفتار کرایا، نواز شریف پر جنرل پرویز مشرف کا طیارہ اغواء کرنے کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔
کیا یہ سب کچھ اتنی جلدی ہو گیا تھا تو اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ صدیق الفاروق مسلم لیگ ن کے ترجمان رہ چکے ہیں وہ اپنی کتاب’’سرخرو کون‘‘ میں 12اکتوبر کے متعلق لکھ چکے ہیں کہ جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا گیا اس منظر کو فلمایا گیا تاکہ پی ٹی وی پر نشر کیا جا سکے بعد ازاں وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری برگیڈیئر جاوید ملک اسے نشر کروانے میں بھی کامیاب ہوگئے مگرکچھ ہی دیر میں فوجیوں کی بڑی تعداد نے ایوان صدر،وزیراعظم ہاؤس ،پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر سمیت تمام اہم عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ یہ کارروائی مغرب تک مکمل ہوچکی تھی۔
دو تہائی اکثریت سے منتخب ہوکر وزیراعظم بننے والے نواز شریف،کیلئے ایک نہ بھولنے والا دن تھاجب پاک فوج کی ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیر اعظم ہاؤس پر قبضہ کر لیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کسی ڈیل کے نتیجے میں اس دوران نواز شریف اور شہباز شریف اہل خانہ کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے۔ یوں سابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی جلاوطنی کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف بلا شرکت غیرے ملک کے حکمران رہے۔
12 مئی 2000ء کو سپریم کورٹ کے 12 رکنی بنچ نے بھی پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کو جائز قرار دیا اور آئین میں ترامیم کی اجازت دے دی، پھر پارلیمنٹ نے صدر مملکت کی حیثیت سے مشرف کے اقدامات کو آئینی قرار دیتے ہوئے ان کی منظوری بھی دی۔
تاہم مارچ 2007ء میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع نے ملک میں سیاسی بھونچال کھڑا کر دیا۔ اسی دوران محترمہ بے نظیر بھٹو بھی جلا وطنی ختم کر کے وطن آگئیں۔
جنرل پرویز مشرف یہ سیاسی دباؤنہ سہہ سکے۔ فروری 2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں پرویز مشرف کے حامیوں کو شکست ہوئی۔اور پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی شراکت سے حکومت قائم کی۔پرویز مشرف اکتوبر 1999ء کو اقتدار پر قابض ہوئے۔ اُن کی کہانی 18 اگست 2008ء کو اُن کے استعفیٰ پراختتام پزیر ہوئی۔یہ کہانی تو یہاں ختم ہوگئی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہمارے سیاست دانوں نے اس سے کیا سبق سیکھا؟ کیا سول اور ملٹری تعلقات ہمیشہ اسی سمت میں سفر کریں گے؟ کیا اس ملک میں جمہوریت آج بھی ملٹری ڈکٹیٹر شپ کا مقابلہ کرسکتی ہے؟ ایک سوال جو سب سے اہم ہے ہماری سیاسی قائدین، سمیت طاقت کے لیے نظام کو لپیٹنے والوں نے کیا ماضی سے کچھ سبق سیکھا ہے؟