Shakeel-Amjad-Sadiq

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

عجیب سی بے دلی، عجیب سی بے قراری اور عجیب و غریب سی بے کلی نے دامن گھیر رکھا ہے۔ اور مرزا غالب کا شعر بار بار دماغ کے نہاں خانوں میں شور مچائے جا رہا تھا۔
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میرا خیال تھا کہ گھر چھوڑے ساتواں دن ہے اور راولپنڈی میرے لیے نیا شہر ہے۔ اس لیے یہ بے دلی اور بے قراری ہے۔ اسی کش مکش میں لال حویلی کے بھی دو چکر کاٹ لیے کہ شاید فرزند راولپنڈی جناب شیخ رشید احمد سے ملاقات ہو جائے۔ مگر یہ بھی ممکن نہ ہو سکا۔ لیاقت باغ سے تو مجھے وحشت ہوتی ہے کہ اس نے ملک کی تباہی میں ڈھیروں کر دار ادا کیا ہے۔ اگر لیاقت علی خاں کچھ دیر زندہ رہتے تو ملک کی حالت اتنی دگر گوں نہ ہوتی۔ ملک کے لیے کچھ آئین، کچھ قانون اور کچھ ضابطے ہوتے ۔ ملک آج کرپٹ نگری نہ بنتا۔؟ کرپشن کا اس قدر رواج نہ ہوتا۔ کچھ اخلاقی اقدار ہوتیں۔ کچھ معاشرتی اور سماجی رویے باقی
رہتے۔ اخلاقی گراوٹ نہ ہوتی ۔ ملک کسی ڈگر پر چل رہا ہوتا۔ کرسی کی جنگ نہ چھڑ تی ۔ آف شور کمپنیاں نہ بنتیں۔ جاتی امراء وجود میں نہ آتا۔ بنی گالہ کی جگہ کوئی ہسپتال ہوتا۔ بلاول ہاؤس کی جگہ کوئی میڈیکل کالج ہوتا۔ بھٹو کی زمینوں میں اتنے ریلوے سٹیشن نہ ہوتے۔ سعودی شہزادے کے لیے سیر گاہیں اور شکار گاہیں نہ بنائی جاتیں۔ ( جس کی آڑ میں نجانے وہ کتنے کتنے گھناؤنے کھیل کھیلتے ہیں) اور سب سے بڑی بات سرمایہ داری کا اس قدر رجحان نہ ہوتا۔ روٹی غریب کی پہنچ سے دور نہ ہوتی۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں آپ کے در پر ہوتیں۔ دوسرے جان اس باغ میں بے نظیر بھٹو کی گئی۔ جس کے قاتلوں کے نشان تک مٹ گئے بقول غالب۔
سب کہاں لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورت ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
بی بی کے جانے کے بعد پی پی پی اس قدر پھیکی پڑ گئی کہ نہ پہلے جیسا جوبن اور نہ ہی پہلے جیسا جوش رہا۔ ان تمام باتوں کو ذہن کے کسی کونے میں چھپا کر ہوٹل پہنچا۔ کمرہ کھولا اور ٹی وی آن کیا؟ ہجوم کا ایک شور اور اجتماع نظر آیا۔ ساتھ ہی خبر چل رہی تھی کہ پولیس کی فائرنگ سے دو لوگ مارے گئے۔۔۔ اتنا سننا تھا کہ ذہن میں ماڈل ٹاؤن والا واقعہ یاد آ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسی ہی صورت حال ادھر بھی کشیدگی اختیار کر لے۔ غور کرنے پر پتا چلا کہ معصوم زینب کو اغوا کرکے زیادتی اور پھر قتل کر کے گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا اور ملزم ابھی تک فرار ہے۔ بس یہ سننا تھا کہ بدن کی ہر شے جواب دے گئی اور دماغ ماؤف ہو گیا۔ ہم مسلمان ہیں۔۔۔؟ ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ یہاں انسان کی کوئی قدر اور قیمت ہی نہیں۔ ہمارے قانون بنانے والے کدھر چلے گئے؟ ہمارے مذہب کے پیروکار کدھر گئے؟ ہمارے علماء کدھر گئے؟ ہمارے مذہبی اور روحانی پیشوا کدھر گئے؟ آئیے اب ستمبر 2017ء اور اکتوبر 2017ء کے واقعات پر نظر دوڑائیں تا کہ آپ کے اندر احساس کی شمع روشن ہو۔ آپ انسانیت کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے روشناس ہو سکیں۔ 25 ستمبر 2017ء کو بہاولنگر میں سترہ سالہ لڑکی سے اغوا کے بعد زیادتی کی گئی اور پنچایت نے اسے ونی قرار دے دیا؟ 3 اکتوبر 2017ء کو شیخوپورہ میں غریب محنت کش کی دس سالہ بیٹی کو اغوا کیا گیا اور پھر زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ 7 اکتوبر 2017ء کو بھاٹی گیٹ لاہور 9 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش ہمسائے کی چھت پر پھینک دی۔ 9 اکتوبر 2017ء کو بہاولنگر میں محنت کش کی نابالغ بیٹی کو اغوا کر لیا گیا اور ملزم گرفتار نہ ہو سکے۔ 19 اکتوبر 2017ء کو جلال پور پیر والا چیئرمین میونسپل کمیٹی یتیم لڑکی سے کئی ماہ تک زیادتی کرتا رہا۔ پھالیہ 5 اوباشوں کی طالبہ کو اغوا کر کے کئی روز تک زیادتی کی واردات۔ 23 اکتوبر 2017ء کو سود خور جاگیردار کا غریب کی اراضی پر قبضہ اور نابالغ لڑکی کو برہنہ کر کے تشدد۔ 23 اکتوبر 2017ء بورے والا فیکٹری مالک کے بیٹوں کا مزدور پر برہنہ کر کے تشدد۔ 23 اکتوبر 2017ء کو قصور میں تھانیدار کے بیٹے کی اغوا کے بعد بچی سے زیادتی ۔ اسی طرح اکتوبر 2017ء میں ہی قصور اور شیخوپورہ میں بھی ایسی وارداتیں وقوع پذیر ہوئیں۔ اسی طرح سات سالوں میں ستربچے اغوا ہوئے، جن میں چند ایک بھی بازیاب نہ ہو سکے۔ بتائیں اب عدالتیں کہاں ہیں۔۔۔؟ بتائیں اب سوموٹو ایکشن
کیوں نہ ہوا؟ پارلیمنٹ کیوں نہ بل منظور کر سکی؟ اسمبلی کیوں نہ آئین نافذ کر سکی؟ درد اس کو ہوتا ہے جس کی جان پر بنتی ہے۔ دوسرا کیا خاک اس درد کو محسوس کرتا ہے؟ یہ غریبوں کے بچے ہیں۔ ان کو شاید اس ملک میں جینے کا کوئی حق نہیں ہے؟ بھوک، پیاس، بیماری اور جہالت ان کا مقدر ہے؟ اگر آج زینب کسی امیر شہر کی بیٹی ہوتی تو کسی درندے کی جرأت تھی کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا۔ خدانخواستہ اگر ایسا واقعہ ہو جاتا تو ملزم کو اس کی ماں کی کوکھ سے دوبارہ نکال لیا جاتا۔ خدارا چیف جسٹس صاحب کسی ایک درندے کو سولی پر لٹکا دیں۔ کسی ایک کو اس کے جرم کی سزادے دیں تا کہ آنے والی معصوم کلیاں ایسے لوگوں کے ہاتھوں مسلی نہ جا سکیں۔ حضور والا ہمارا امیج خراب ہو رہا ؟ باقی ملکوں کے میڈیا جس قدر آگ لگا رہے ہیں اور ہمیں درندہ صفت کہنے پر تلے ہوئے ہیں، اس سے بچا لیجیے۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو بقول مظہر سلیم
ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں