Awais-Ghauri

ہمیں حسینؓ کا ساتھ دینا ہے یا یزید کا؟

پاکستانی قوم تضادات سے بھرپور ہے ۔ یہ زندگی بھر پلٹ کر ماں باپ کی خبر نہیں لیتے اور اپنی گاڑیوں پر بہت فخر سے لکھواتے ہیں ’’یہ سب میرے والدین کی دعا ہے‘‘۔رشوت سے دولت کما کر اپنے خوابوں کا محل بنواتے ہیں اور اس پر کتبہ لگواتے ہیں’’ہذامن فضلِ ربی‘‘۔زندگی بھر یورپ کا ویزا لینے کے لیے قطاروں میں لگے رہتے ہیں مگر اٹھتے بیٹھتے کہتے رہتے ہیں،مغربی تہذیب نے ہمارا بیڑا غرق کر دیا۔کالی کملی والے کا میلاد تو بہت شوق سے مناتے ہیں مگر اس کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا بھول جاتے ہیں۔زندگی ساحل سمندر پر آنکھیں ٹھنڈی کرتے گزارنا چاہتے ہیں مگر آخری خواہش یہ ہوتی ہے کہ گنبد خضرا کے قریب موت آئے اور جنت البقیع میں دفن ہوں۔کشمیری بھائیوں سے بہت پیار کرتے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں ، لیکن دن رات انڈین گانے سننے اور انڈین فلمیں دیکھنے سے بھی باز نہیں آتے۔
جارج برنارڈ شاہ کا کہنا تھا ’’دنیا کے عظیم سچ کفر و توہین بن کر شروع ہوئے‘‘۔ بہت سے عناصر کے نزدیک یہ اعتراف غداری ، مایوسی کا انجکشن ، ملک دشمنی قرار پائے گالیکن یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ من حیث القوم ہم تضادات سے بھرپور قوم ہیں ، ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے اور ہمیں شدید تربیت کی ضرورت ہے ، تربیت کا وہ عمل جو آج تک شروع نہیں ہو سکا اور جس دن بھی شروع ہوا ہمیں ایک قوم بنتے بنتے تقریبا آدھی صدی ضرور لگ جائے گی۔
ہمارے معاشرے میں قول و فعل کا تضاد چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ آپ کسی کے گھر جاتے ہیں اور کھانے کا وقت بھی ہے تو آپ سے ضرور پوچھا جائے گا کہ ’’بیٹھیں کھانا کھا کر جائیں‘‘۔ آپ تو مہمان ہیں اور آپ نے مروتاً یہ ہی کہنا ہوتا ہے کہ ’’جی نہیں ، تکلف کی ضرورت نہیں‘‘ جبکہ آپ کے پیٹ کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دوسرے کا بھائی ہے ، آپ چاہے پہلی دفعہ کسی بزنس میٹنگ میں کسی سے مل رہے ہیں وہ آپ کو پہلے جملے میں ہی کہہ دے گا ’’یار تم تو میرے بھائی ہو‘‘ اور بعد میں وہی ’’بھائی‘‘ آپ کو دھوکہ دے گا توآپ حیران رہ جائیں گے۔معاشرے کو راہ دکھانے والے طبقے کی طرف دیکھیں تو یہاں ہر طرف انتہا پسندی کا دور دورہ ہے ، سوشل میڈیا ، نجی محفلوں ، بلاگنگ سائٹس ہر فورم پر دوسرے طبقہ فکر کو جاہل قرار دینا ہی علم کی خدمت قرار پاتا ہے ، اگر یہاں کوئی مذہبی ہے تو اس کی نظر میں ہر لبرل جہنم کا ایندھن ہے اور اگر کوئی لبرل ہے تو اس کی نظر میں ہر مذہبی جاہل ہے جو سچ کی کھوج نہیں کر سکا ہے ، یعنی جو جس جگہ پر بھی ہے وہاں انتہا پسند ہی ہے۔افغان جہاد کی مثال لے لیں۔جس اسلامی ملک میں بیرونی اشاروں پر جہاد کا لبادہ اوڑھ لیا جائے ،پورے ملک میں جنگ بدر کی کیفیت طاری ہو جائے ، کافروں کے خلاف جہاد میں کافروں کے پیسوں سے کافروں کے بخیے ادھیڑ دئیے جائیں اور پھر ایک کافر کے حکم پراسی جہاد کو دہشت گردی قرار دے دیا جائے اورجو بھی جہاد کا ذکر کرے اسے غدار قرار دیا جائے جبکہ ان دونوں صورتوں میں علماء کرام اس عمل کو قرآن و حدیث کی مدد سے حلال قرار دیں اور ساری قوم اس پر سر بھی دھنے تو کچھ غلط تو ہو گاجو غلط ہو گا ؟۔
پاکستانی عوام کا کیا کہنا یہاں کے حکمران بھی لتا ، دلیپ کمار کے فین نظر آتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف ، سابق صدر پاکستان آصف زرداری انڈین گانے گنگناتے دیکھے گئے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر پرویز رشید تو سنا ہے چلتی پھرتی فلم لائبریری ہیں لیکن اس کے باوجود انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بات آئے تو ہم اپنے اصولی مؤقف سے کبھی بھی نہیں ہٹتے ۔ہماری سرحدوں پر شدید کشیدگی بھی ہو لیکن ہم دیکھتے انڈین چینلز ہی ہیں۔ہمارے اپنے ٹی وی چینلز پر غور کیا جائے تو ہر دوسرا اشتہار یا تو بھارت میں تیار ہوا تھا یا اس میں بھارتی اداکار ہوتے ہیں۔ شیمپو کے کسی اشتہار میں رنبیر سنگھ ڈانس کر رہا ہوتا ہے ، سرف کے اشتہار میں بھارتی دادی نوٹ گم کر رہی ہوتی ہے ، کریم کے اشتہار میںیامی گوتم رنگ گورا کرنے کے طریقے بتا رہی ہوتی ہے۔
وجہ صرف اتنی سی ہے کہ انہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بجٹ سے ٹی وی چینلز اپنے سٹاف کو تنخواہیں دیتے ہیں تو پھر یہ پاکستانیت کا ڈرامہ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے ، سب یہ اعلان کر دیں کہ ہم بزنس مین ہیں اور پاکستان ، اسلام کارڈ کو اپنے اپنے پیٹ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
معاشرتی اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ ہم لوگ مردہ جانوروں کا حرام گوشت کھا رہے ہیں جس میں ہمارے اسلامی تاجر بھائی انجکشنوں کے ذریعے پانی داخل کرتے ہیں۔ بال صفا پاؤڈر ، حیوانی چربی ملا دودھ پی رہے ہیں جس کو ٹیٹرا پیک ، محفوظ اور نہ جانے کون کون سا نام دیا جاتا ہے ، جو دودھ ہے ہی نہیں۔ ڈبوں میں بند جو جوس ہم تک پہنچ رہا ہے وہ بھی فریش جوس نہیں صرف فلیور ہے جس میں فریش جوس والی کوئی خوبی نہیں ہے اور یہ انتہائی مضر صحت ہوتا ہے۔ ہم کیمیکلز میں ڈوبی
ہوئی سبزیاں استعمال کر رہے ہیں اور ایک فرقے والا بغیر علم ، تعلیم ، پڑھے لکھے دوسرے فرقے کو کافر قرار دے رہا ہے صرف اور صرف اپنے فرقے کے آقاؤں کی پیروی میں۔ ان سب معروضات کی روشنی میں کیا ہم اس دوہرے معیار زندگی کی بہتری کی طرف کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں یا اب بھی یہی سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کیا ہم ایک بااصول قوم ہیں۔۔۔؟
قول و فعل میں تضاد کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ فروعی معاملات میں الجھے رہتے ہیں۔ شاہ دماغ آپ کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتے رہتے ہیں اور آپ کی اپنے حقوق تک رسائی ناممکن بنا دی جاتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ایک ملک ہے جہاں پر اگر عوام کی ذہانت کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو ہم دنیا کے نقشے پر خوشحال قوم کے طور پر ابھر سکتے ہیں لیکن ہم اپنے ذاتی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں اور شاہ دماغوں کے 97ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے انڈے دے رہے ہیں ، سوئس بینکوں میں پاکستانی عوام کا یہ پیسہ اگر واپس آ جاتا ہے تو پاکستان بھی ایک فلاحی ریاست بن سکتا ہے ، اضافی ٹیکس ختم ہو سکتے ہیں ، کروڑوں بیروزگاروں کیلئے روزگار میسر آ سکتا ہے ، صحت ، تعلیم ، انرجی کی سہولیات مفت فراہم کی جاسکتی ہیں۔
میرے ایک بہت عزیز ساتھی نے ایک بار مجھے کہا تھا ’’ زندگی میں انسان کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ حسینؓ کے ساتھ ہے یا یزید کے ساتھ‘‘۔ ہمیں بھی من حیث القوم اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہمارے لئے انسانیت کا کون سا سبق درست ہے۔ ہمیں حسینؓ کا ساتھ دینا ہے یا یزید کا ؟