hafiz muzafar mohsin copy

’’ ہار ۔۔۔ جو عمران خان نے مان لی؟ ‘‘

بڑے بڑے دعووں کے باوجود کل جب حلقہ 120 کے الیکشن میں ’’پھر‘‘ پی ٹی آئی بری طرح شکست سے دو چار ہوئی تو میرے دماغ میں جو سب سے پہلا خیال آیا ۔۔۔ وہ تھا کہ ’’اب پھر شور شرابہ ہو گا‘‘ ۔۔۔ اور اسلام آباد چوکوں گلیوں میں دھرنے ہوں گے اور بڑے بڑے سپیکروں پر موسیقی کے شور میں عمران خان اور شیخ رشید کی موجودگی میں ’’خٹک‘‘ ڈانس بھی ہو گا جو خٹک صاحب کریں گے اور لوگوں کو عمران خان بلند آواز میں بتائے گا کہ ہم ’’ہارے نہیں‘‘ ۔۔۔ صرف اس حلقے میں نواز شریف اور اُس کے ساتھی نو (9) بار جیتے ہیں۔ اور بیک گراؤنڈ میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا گانا ۔۔۔‘‘
قمیض تیری کالی ۔۔۔ کدی لا لئی کدی پا لئی ۔۔۔
چلے گا اور غمزدہ حاضرین دل کھول کر سٹیج پر آ کر اپنے ’’غم‘‘ کا اظہار کریں گے؟ ۔۔۔ پھر معاً ۔۔۔ میرے دل میں یہ سوچ ابھری کہ کیوں نہ میں اپنے محبوب گلو کار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی سے درخواست دوبارہ کروں کہ عمران خان کی پارٹی کی ہار کی ’’خوشی‘‘ میں ایک غمگین گانا بھی تیار کریں کیونکہ عوام کی نواز شریف سے محبت دیکھ کر لگتا ہے عمران خان کو اکثر اب ایسے دکھی گانوں کی ضرورت پڑتی ہی رہے گی ۔۔۔ ابھی تو سینیٹر گلزار خان کی خالی ہونے والی سیٹ پر بھی الیکشن ہونے جا رہا ہے ۔۔۔ نہ جانے کیا نتیجہ نکلے ۔۔۔ اور دکھی گانوں کی ضرورت کب پڑ جائے ۔۔۔ ویسے آخری خبریں آنے تک عمران خان نے حلقہ 120 کا الیکشن تسلیم کر لیا ۔۔۔ ویسے عطاء اللہ خان کو چاہیے وہ یہ دکھی گانا اُس شاعر سے لکھوائیں جس نے نواز شریف کی محبت میں پشتو طرز کا گانا لکھا ہے ۔۔۔
ہمارے سارے دلوں کی دھڑکن نواز شریف ۔۔۔
اس الیکشن نے مجھے وہ وقت یاد دلا دیا جب ہم جمعیت کے باقاعدہ بڑے ہی سر گرم رکن ہوتے تھے ۔۔۔ جہاں ہمارے سرپرستوں میں، ہمارے سینئر میں صحافی حافظ شفیق الرحمن، جبار بٹ اور ضیاء الدین انصاری آف رام گلی ہوتے تھے ۔۔۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں ضیاء الدین انصاری جب ہمارے لیڈر تھے ہم فسٹ ائیر میں تھے تو ضیاء الدین انصاری کالج میں چھ سات سال گزار چکے تھے پھر بھی دو سال وہ ہمارے ساتھ جمعیت کی سرگرمیوں میں ’’ملوث‘‘ رہے جہاں مرحوم عبیداللہ شیخ، حافظ شفیق الرحمن، جبار بٹ بھی ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ ایک دفعہ جب ہم مستی میں نعرہ لگا رہے تھے ’’سرخے ٹھاہ‘‘ ۔۔۔ (اُس وقت ایشیا سبز اور سرخ ہوتا تھا) ہم سبزے تھے، جب نعرہ لگاتے لگاتے گرمی میں پسینے میں شرابور ضیاء الدین انصاری نے ’’سرخے ٹھاہ‘‘ کی جگہ غلطی سے نعرہ لگوا دیا ۔۔۔ ’’مودودیؒ ٹھاہ‘‘ ہم سب مولانا مودودیؒ سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔ جو پھر ’’ٹھاپوں‘‘ کی بارش ہوئی ضیاء الدین انصاری پر ۔۔۔ خدا کی پناہ ۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی جب میں نے کل سنا کہ ضیاء الدین انصاری کی ضمانت ضبط ہو گئی ہے ۔۔۔ شکر ہے گھر والوں نے تو ہمارے پیارے ضیاء الدین انصاری کو ووٹ ڈالے ورنہ سراج الحق کسی بڑے جلسے میں اعلان کرتے ۔۔۔ نہایت جذباتی انداز میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر غصے میں ۔۔۔ خود کو بڑا لیڈر سمجھتے ہوئے ۔۔۔
’’دیر بالا سے میدانوں میں اکرام نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔۔۔ یعنی ہمارے 120 کے امیدوار نے ایک ووٹ حاصل کیا ۔۔۔ اور امیدوار اقرار پایا‘‘ ۔۔۔
کل رات جب ’’فیس بک‘‘ پر جذباتی مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے تو ہم نے بھی ایک سچ اُگل دیا ۔۔۔ کیونکہ جذبات میں آ کر عمران خان کی طرح انسان اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے، چھوٹے بڑے کی تمیز بھول جاتا ہے، اچھا برا سب کہہ ڈالتا ہے ۔۔۔ ہم نے فیس بک پر وہ تاریخی بے ایمانی رقم کر ڈالی ۔۔۔ ملاحظہ کریں ۔۔۔ انجوائے کریں ۔۔۔ گہرائی میں نہ جائیں ۔۔۔
’’تیس سال تک میں حافظ مظفر محسن جماعت اسلامی کو قربانی کی کھالیں دیتا رہا ۔۔۔ پھر جب حافظ سعید کی پارٹی نے ملکی سطح پر عوامی فلاحی کاموں کا بیڑا اٹھایا تو ہم نے اپنی قربانی کی کھالیں ۔۔۔ ’’فلاح انسانیت‘‘ کو دینا شروع کر دیں۔ افسوس کہ ’’سیاست چمکانا‘‘جیسا محاورہ بھی اُن کا ساتھ نہیں دیتا ۔۔۔ جماعت کے جلسوں کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ نہایت منظم انداز میں جماعت کے جلسوں میں سٹیج پر ڈیڑھ دو سو آدمی چڑھا ہوتا ہے اور سب خود کو لیڈر سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ میں خوشی کے ساتھ آپ کو بتا رہا ہوں کہ اُن میں سے ایک بھی لیڈر نہیں ہوتا جبکہ حاضرین میں پچیس تیس لوگ بھی ہوں یا نوے فیصد کرسیاں بھی خالی ہوں تو یہ وہ پارٹی ہے جس کو اس بات پر ذرا بھی ’’شرم‘‘ محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔ اوہ سوری ۔۔۔ دوستو میں شرمندہ ہوں میں نے کیا کیا کچھ لکھ ڈالا جیسے تاریخ رقم کر رہا ہوں حالانکہ حلقہ 120 کے الیکشن میں جماعت اسلامی کی یہ خواری تو آپ نے خود دیکھ لی ہے ۔۔۔ میں کیا بیان کروں ۔۔۔ اس آمیز شکست پر بے چارے شیخ رشید صاحب اب تک کیوں چپ ہیں؟ بڑی بری بات ہے میں ایسی گفتگو میں کھو گیا حالانکہ فیس بک پر میں نے اور دوسرے سینکڑوں لوگوں نے بھی محترمہ یاسمین راشد کو مشورہ دیا کہ ’’آخری شکست‘‘ کے عنوان سے ایک تو آپ ناول لکھیں جس میں عمران کو ’’مقدر کا سکندر ‘‘ قرار دیں اور بالآخر اپنے پی ٹی آئی میں شمولیت کے فیصلے پر شرمندگی کا دل کھول کر اظہار کریں ۔۔۔ دوسرا مشورہ یاسمین راشد کو یہ دیا کہ وہ دور افتادہ کسی گاؤں دیہات میں جا کر کلینک کھول لیں اور حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کریں ۔۔۔