dr-zahid-munir-amir

ہائیرایجوکیشن کمیشن کایوم اقبال اورعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

انقلاب ستاون کے زمانے میں جب غالب اپنے گھر میں محصورہوکررہ گئے تھے تو انھوں نے کچھ اشعارمیں اس کیفیت کا نقشہ کھینچاتھا ۔یہ قطعہ شعری اعتبارسے تو زیادہ بلند پایہ نہیں البتہ اس زمانے کی معاشرتی صورتِ حال کی اچھی تصویرپیش کرتاہے :
گھرسے بازارمیں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتاہے آب انساں کا
کوئی واں سے نہ آسکے یاں تک
آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
میں نے مانا کہ مل گئے پھرکیا
وہی روناتن و دل و جاں کا
اس طرح کے وصال سے یارب
کیامٹے دل سے داغ ہجراں کا
غالب نے توان اشعار میں دلی کا نقشہ کھینچاتھا مگرہم نے یہ صورت حال اپنے حالیہ سفراسلام آبادمیں دیکھی ۔مظاہرات کے باعث شہرکا ٹریفک درہم برہم تھا اور جس گاڑی نے ہمیں لینے کے لیے ایرپورٹ آناتھا وہ راستہ بنددیکھ کر واپس چلی گئی اب جوکچھ کرناتھا ہمیں خودہی کرناتھا۔ قریب و دورکے تمام امکانات پر غوربلکہ ٹیکسی ڈرائیورسے مذاکرات کرنے پر معلوم ہواکہ مظاہرین نے کوئی رستہ بھی سیدھانہیں رہنے دیا۔بہ ہر حال ایک مشاق ڈرائیور کسی نہ کسی طرح ہمیں ہمارے ہوٹل تک تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا، یوں کہ بذریعہ ہوائی جہاز کیا گیا لاہورسے اس ہوٹل تک کا سفر پانچ گھنٹے میں مکمل ہوا۔ ایساہی حال واپسی کے سفرمیں ہوا جب لاہور آنے والی صبح نوبجے کی فلائٹ تاخیردرتاخیرکا شکارہوتی رہی اور صبح نوبجے کی بجائے دوپہرسواایک بجے روانہ ہوئی۔اس طویل دورانیے میں خراب حال مسافر پی آئی اے کی نگاہِ التفات سے یکسرمحروم رہے ۔ ہم تو جیسے تیسے واپس لاہور پہنچ گئے لیکن جڑواں شہروں کے باسی ہنوز اسی صورت حال سے دوچار ہیں ،سڑکیں بند ہونے سے کاروبارِ زندگی بری طرح متاثر ہے۔ مسافر،بیمار ،بچے، بڑے سب پریشان ہیں اورزندگی تقریباً مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔
اسلام آباد کا یہ سفر وفاقی دارالحکوت میں منعقد ہونے والی یوم اقبال کی سب سے بڑی تقریب سے خطاب کرنے کی دعوت پر کیا گیا تھا۔ یہ تقریب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیراہتمام منعقد ہوئی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد کا ایک امتیازیہ ہے کہ وہ قومی دنوں کو بہت اہتمام سے مناتے ہیں۔ ،ہمیں ایوان صدر کی جن تقریبات سے خطاب کرنے کا موقع ملا ان کے پس منظر میں بھی ہائرایجوکیشن کمیشن اور اس کے فعال سربراہ ڈاکٹرمختاراحمد دکھائی دیے۔ اس بار یوم اقبال کی تقریب ،اسلام آبادکے پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹرمیں منعقدکی گئی ۔شہر میں راستوں کی بندش کے باوجود آڈیٹوریم میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔اس تقریب کے انعقاد کے لیے ہائرایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹرزمعین الدین قریشی،اویس احمدملگانی، ثمینہ درانی اور لاہور سے ڈائریکٹرجنرل نذیرحسین اور ڈپٹی ڈائریکٹر محمد بشیر صاحب بہت دنوں سے انتظامات اور تیاریوں میں مصروف تھے ۔تقریب کے انتظامات اور مہمانوں سے ربط ضبط کے ذریعے ان کی محنت کا اندازہ کیا جا جا سکتا تھا۔
تقریب سے پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد اور وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے بھی خطاب کیا ۔راولپنڈی اسلام آبادکے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا وطالبات کی شرکت بہت بھرپور تھی ۔کلام اقبال کی گائیکی اور بیت بازی کے مقابلوں میں شریک ہونے والے نوجوانوں کی کارکردگی سے ان کی محنت عیاں تھی ۔اس تقریب کے ذریعے ہماری ملاقات کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ اردوکی سربراہ ڈاکٹرتنظیم الفردوس سے بھی ہوئی اوراس دورے کے پروگراموں میں اکٹھے شریک ہونے کا موقع ملا۔ ادارہ فروغ قومی زبان (سابقہ مقتدرہ قومی زبان)میں افتخارعارف ، ڈاکٹر راشد حمید، سید سردار احمد پیرزادہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں ۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی شعبہ اردوکے صدر ڈاکٹرعبدالعزیز ساحر نے لنچ ترتیب دے رکھاتھا جس میں راقم اور ڈاکٹر تنظیم الفردوس کے علاوہ وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی،ڈین آف فیکلٹی ڈاکٹرثمینہ اعوان اور استادشعبہ اردوڈاکٹرظفرحسین ظفر بھی شریک تھے ۔اس موقع پر ڈاکٹرشاہدصدیقی نے اوپن یونی ورسٹی میں کیے جانے والے کچھ ایسے ترقیاتی پروگراموں سے آگاہ کیاجو سربراہِ ادارہ کی تخلیقی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں ڈاکٹر شاہدصدیقی ،انگریزی کے استاد ہیں لیکن وہ آج کل ایک اردواخبارمیں کالم بھی لکھ رہے ہیں۔اس سے پہلے وہ ایک اردوناول ’’آدھے ادھورے لوگ‘‘بھی لکھ چکے ہیں۔
تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین یقیناًڈاکٹر ثمینہ اعوان کے اس علمی کام سے آگاہ ہوں گے جو آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس سے ’’پولیٹیکل اسلام ان برٹش انڈیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکاہے ۔اس کتاب میں انھوں نے ہندوستانی سیاست میں مجلس احرارکے کردارکا تجزیہ پیش کیاہے ۔مجلس احرارکے راہ نما چودھری افضل حق کی پہلی کتاب ’’دنیامیں دوزخ‘‘ تھی ۔جس میں انھوں نے جیل خانوں کے غیرانسانی ماحول کی دردناک نقشہ کشی کی تھی ۔ جیل جانے کے پہلے تجربے کے بعد وہ عمربھر جیل خانوں کی اصلاح کے لیے کوشاں رہے ۔ ’’دنیامیں دوزخ ‘‘کی یادڈاکٹر شاہدصدیقی کی گفتگوسے تازہ ہوئی ۔جنھوں نے یہ بتاکر حیران کیاکہعلامہ اقبال اوپن یونی ورسٹینے قیدیوں کے لیے تعلیم مفت کردی ہے اور قیدیوں کو اس جانب متوجہ کرنے کے لیے انھوں نے بنفس نفیس جیل خانوں میں جاکر قیدیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کررکھاہے اوروہ اب تک کوئٹہ ، کراچی، لاہور اور راولپنڈی کی مختلف جیلوں کے دورے کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں جیلوں میں بندایک ہزار سے زائد قیدی اوپن یونی ورسٹی کے اس پروگرام سے استفادہ کررہے ہیں۔
یہی نہیں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں، بلوچستان کے طالب علموں ،نابیناؤں، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والی بچیوں،معذورافراداورمخنثوں کے لیے بھی تعلیم مفت کردی گئی ہے ۔چھوٹے درجے کے ملازمین ،نائب قاصدوں اورمالیوں کے لیے ضروری تعلیم کا پروگرام شروع کیاگیاہے جس میں انھیں ریاضی، اردواورانگریزی پڑھائی جارہی ہے۔ کیاہی اچھاہواگر اس کے ساتھ بنیادی دینی اور تہذیبی موضوعات پربھی ان کی راہ نمائی کی جائے ۔نصاب کی نظرثانی ،نئے مضامین کے اجرا ،قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاداور اساتذہ کے لیے ریسرچ گرانٹ اور اوارڈز کا اہتمام ان امورپر مستزاد ہے ۔ اوپن یونی ورسٹی کے انھی اقدامات کی بناپر سینیٹ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیم کی خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر اوپن یونی ورسٹی کو دوسری یونی ورسٹیوں کے لیے قابل تقلید نمونہ قراردیاہے ع
این کار از تو آید و مردان چنین کنند