tariq mehmood ch

گلہ کس سے۔۔۔؟

ترجمان کو گلہ ہے کہ جاوید ہاشمی کو پی ٹی آئی نے ضرورت سے زیادہ اہمیت کیوں دی؟
سیاست پر لکھنے کا ارادہ ہر گز نہ تھا۔ سیاست کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے سے پہلے بے قرار ہو کر، بے سمت، بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ تین ہفتوں میں معاملہ، مطلع صاف ہو جائے گا۔ سو! ابھی سیاست پر کوئی بات، خبر ہے نا کوئی بڑی پیش رفت بنتی نظر آتی ہے۔ ایسے میں سیاست پر کیا لکھا جائے۔ پھر یوں ہوا کہ تحریک انصاف کے ترجمان کا بیان نظر سے گزرا۔ ابھی ایک روز پہلے، پی ٹی آئی کا جلسہ تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے سے ذرا دور، سرائیکی وسیب کے گڑھ لیہ شہر میں۔ ناظرین پریشان نہ ہوں۔ تحریک انصاف کے متعلق کچھ لکھنا ہر گز مقصد نہیں۔ انصاف پسندوں کی جماعت کو اب اس سے ہر گز فرق نہیں پڑتا کہ اس کے متعلق کیا لکھا، بولا جا رہا ہے۔ ایسے بھی ان کے پاس ہر لکھنے والے کا شافی علاج موجود ہے۔ ایسی گالی، ایسی دشنام طرازی کہ ناقد کی سات نسلیں بھی تنقید نگاری کے حق سے دست بردار ہو جائے۔ سو! قائد محترم عمران خان کا خطاب لائیو سنا اور اس لائیو خطاب میں قائد محترم کے کئے گئے انکشاف کو ہضم کئے بغیر جا سویا، صبح جلدی اٹھنے کیلئے۔ قائد نے فرمایا کہ ٹوکیو شہر میں ایک ہزار یونیورسٹیاں ہیں۔ جوانی میں پہلا غیر ملکی سفر، جاپان کا کیا تھا۔ سو! غیر ملکی سفر بھی، پہلے عشق، پہلے نشے کی مانند ہوتا ہے۔ اس کا خمار کبھی نہیں اترتا۔ پھر ایسا ہوا کہ پاؤں کا چکر، ایک آدھ مرتبہ پھر ٹوکیو لے گیا۔ ایک ہزار یونیورسٹیاں؟ ٹوکیو ایسے شہر میں، زمانہ جدید کے رواج کے مطابق آن لائن، تعلیمی اداروں کو شمار کر لیا جائے تو گنتی ہزار کے نصف تک نہیں پہنچ پاتی۔ جاپانی دوستوں سے درخواست کی ہے کہ وہ تحقیق کر کے حتمی سکور بتائیں۔ کپتان غلط نہیں ہو سکتا۔ جاپانی بے خبر ہو سکتے ہیں۔ ایک سال میں بارہ موسم ہو سکتے ہیں تو ٹوکیو میں ہزار یونیورسٹیاں کیوں نہیں؟ ایک صوبے میں ڈیڑھ ارب درخت اگ سکتے ہیں، ساڑھے چار سالوں میں سینکڑوں ڈیم تعمیر ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹیاں کیوں نہیں؟ 12 گھنٹوں سے بھی کم عرصہ میں پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی اگلا حیرت ناک بیان سننے کی ہمت اس بندہ مزدور میں تو ہر گز نہیں۔ مضبوط اعصاب چاہئے، اس کام کیلئے۔ منگل کی صبح جناب ترجمان کا بیان نظر سے گزرا۔ فرماتے ہیں، جاوید ہاشمی کو ہم نے خواہ مخواہ عزت اور شہرت دی۔ حالانکہ وہ اس قابل نہ تھے۔ اب ان ترجمان صاحب کا نام کیا لکھنا۔ عوام الناس ان کا نام اب تقریباً بھول چکے۔ اب وہ صرف ترجمان ہیں۔ آج ایک پارٹی کے، کل کسی اور کے تھے۔ آنے والی کل کسی اور کے بھی ہو سکتے ہیں۔ لوگ، ٹی وی پر شکل دیکھ کر فوراً کہہ دیتے ہیں، وہ دیکھو ترجمان آ گیا۔ بس نام کے آگے، پارٹی کا پرچم تبدیل ہوتا ہے۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑی، پارٹی قائد کی تصویر۔ شاید ہی کوئی پارٹی اور کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے، جس کی ترجمانی نہ فرما چکے ہوں
اور الحمدللہ کوئی ایسا سابق قائد، پارٹی ایسی ہو، جو ان کی گل افشانی سے اپنی پگڑی بچا پائی ہو۔ معترضین خواہ مخواہ ان کی گل افشانی کو بدزبانی کا نام دیتے ہیں۔ محنتی انسان ہیں۔ ڈیوٹی پوری کرتے ہیں۔ ماضی بعید میں پیپلزپارٹی کے کارکن ہوا کرتے تھے۔ کیونکہ خاندان کے بڑے، اس جماعت میں تھے۔ پرویز مشرف کا دامن کشادہ دسترخوان وسیع اور دل کھلا تھا۔ ان کے مشیر بن گئے۔ خوب ترجمانی کی۔ عوضانہ پایا۔ مشرف پر زوال آیا تو براستہ برادری نیٹ ورک، مسلم لیگ (ق) میں چلے گئے۔ عہدے کا حق ادا کیا۔ مسلم لیگ کی ہوا اکھڑی تو سامنے پیپلزپارٹی کا بورڈ جگمگاتا نظر آیا۔ ماضی کے رشتے کام آئے اور سیدھے صدر مملکت آصف زرداری کے ترجمان بن گئے۔ ڈنڈی، یہاں بھی نہ ماری۔ پیپلزپارٹی پر زوال آیا، لمبی اڈاری ماری اور پی ٹی آئی جوائن کر لی۔ خوبی ترجمان موصوف میں یہ ہے کہ پارٹی سربراہ سے نیچے کمپرومائز نہیں کرتے۔ کوئی ایسا ہنر ضرور ہے۔ پرانے قائدین، ابھی سنبھلتے بھی نہیں کہ موصوف رائٹ ہینڈ کے منصب پر نامزد ہو چکے ہوتے ہیں۔ انقلابی جماعت میں بھی ایسا ہی ہوا۔ پلک جھپکتے میں دیرینہ کارکنوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ سارا تنظیمی ڈھانچہ بدل کر رکھ دیا گیا۔ فی الحال پی ٹی آئی میں ہیں۔ جاوید ہاشمی ابھی مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ شامل نہیں ہوئے، ابھی کچھ شرائط طے ہونا باقی ہیں۔ کونسا حلقہ انتخاب ہوگا؟ ان کی سفارش پر کس کو ٹکٹ ملے گا؟ ملتان میں تنظیمی عہدوں پر ان کا کتنا حصہ ہوگا۔ ان کو پارٹی سے نکلوانے والوں کا کیا مقام ہوگا؟ لیکن اصولی طور پر واپسی کا فیصلہ ہو چکا۔ لہٰذا یہ معاملہ آج کا موضوع نہیں۔ جاوید ہاشمی، پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تو ترجمان موصوف پیپلزپارٹی کے ماؤتھ پیس تھے۔ وہ شاید یہ بھول گئے کہ جاوید ہاشمی ان کی پیدائش سے قبل ہی قومی سطح کے لیڈر تھے۔ زمانہ طالب علمی کے وقت سے، ترجمان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جاوید ہاشمی متحدہ پاکستان میں چلنے والی ختم نبوت تحریک کے اولین قائدین میں سے ایک ہیں۔ ترجمان کو یہ بھی شاید معلوم نہیں کہ جاوید ہاشمی عین اس وقت، جب پاکستان دو حصوں میں بٹ رہا تھا، اس وقت بھی وفد کے ہمراہ ڈھاکہ کی بے مہر سرزمین پر جا اترا تھا۔ پھر وہ جاوید ہاشمی ہی تھا جس نے بنگلہ دیش، نامنظور تحریک کی سربراہی سنبھالی۔ اس مقام تک پہنچتے پہنچتے جاوید ہاشمی درجنوں مرتبہ اسیری کا اعزاز حاصل کر چکے تھے۔ ترجمان کبھی سیاسی قیدی رہے یا نہیں۔ فی الحال تاریخ خاموش ہے۔ جاوید ہاشمی کا سیاسی سفر، کبھی رکا نہیں۔ وہ ون مین آرمی کی مانند اکیلا لڑتا رہا۔ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک ہو یا نظام مصطفیؐ موومنٹ۔ جاوید ہاشمی ہر تحریک میں صف اول میں رہے۔ جاوید ہاشمی نے مختصر عرصے کیلئے آمر کی حکومت کو جائن کیا تھا۔ آج وہ نہ صرف اس غلطی پر معذرت کر چکے بلکہ ہر آمر وقت کے سامنے کھڑے ہیں۔ کفارہ ادا کرنے کی مشق، مسلسل بھی کر رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد جاری ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے لکھے خط کو پڑھنے کی پاداش میں طویل قید بھگتی۔ وہ پرتشدد قید کاٹنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن باغی سدا باغی ہی رہا۔ باغی نے اس وقت مسلم لیگ (ن) کو قیادت فراہم کی جب شریف خاندان جلاوطن ہو چکا تھا۔ جاوید ہاشمی کی جنگ صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ طبقاتی بھی ہے۔ یہ بات وہ بخوبی جانتے ہیں۔ طاقتور طبقے نے ان کو مسلم لیگ (ن) میں نہ ٹکنے دیا۔ بہت سی کہانیاں ہیں، جن کو دہرانے کا موقع محل نہیں۔ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ہاشمی کبھی مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر کسی اور جماعت میں چلے جائیں گے۔ لیکن ایسا ہوا۔ جاوید ہاشمی جتنا عرصہ پی ٹی آئی میں رہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ جماعت کے سربراہ بھی تھے اور سب سے مقبول لیڈر بھی۔ پی ٹی آئی نے دھرنے کی شکل میں فکس میچ کھیلنے کی کوشش کی تو جاوید ہاشمی بھانپ گئے۔ وہ اس دھرنے کی راہ میں کھڑے ہوئے۔ انگلی نہ اٹھ سکی۔ دھرنا ناکام ہو گیا۔
ترجمان کو شکوہ ہے کہ جاوید ہاشمی کو غیر ضروری عزت کیوں دی گئی؟ جاوید ہاشمی، پی ٹی آئی کے صدر تھے۔ ترجمان کو یہ سوال اپنے چیئرمین سے پوچھنا چاہئے کہ اگر وہ اس عہدہ کے قابل نہ تھے تو یہ مہربانی کیوں کی؟ جواب وہ دیں۔ ورنہ جاوید ہاشمی کل بھی جمہوریت پسندوں کا ہیرو تھا اور آج بھی ہے۔