Khawaja-M-Kaleem

کیچڑ اچھالنے سے گریز کیجئے

عمران خان ابھی جشنِ فتح کی تھکن مٹانے نہیں پائے تھے کہ ان کی اپنی ہی جماعت کی ایک رکن قومی اسمبلی عائشہ گلا لئی نے ان کی فتح کا مزہ کر کراکردیا۔لب لباب یہ ہے کہ ’’تحریک انصاف میں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں ‘‘۔ عمران خان پر ہی کیا موقوف ان کے ترجمان نعیم الحق بھی نچلے نہیں بیٹھے ۔ایک ٹویٹ اور پھر پریس کانفرنس کے بعد سے ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن سکرینوں پر صرف اسی معاملے کا چرچاہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں دہشتگردی قصہ پارینہ بن چکی اور ملکی سلامتی کو لاحق بیرونی خطرات بھی ٹل چکے ۔بھارت ،افغانستان،ایران اورامریکہ کے ساتھ ساتھ عرب ملکوں سے بھی تمام تر معاملات نہایت خوش اسلوبی سے طے کر لئے گئے ہیں ،پاکستان میں سول سپرمیسی کو بخوشی تسلیم کر لیا گیا ہے ،آئین حقیقی معنوں میں بالادست ہوچکا اور وطن عزیز کے ہر غریب کو انصاف اس کی دہلیز پر میسر ہے ۔ ہر پاکستانی کو اپنے گھر پر پینے کا صاف پانی مفت میں مہیا کیا جارہا ہے اور صحت کی سہولیات بھی ارزاں ہیں ،گلی کوچوں میں کچرے سے رزق چھانٹتے اور ورکشاپوں میں اپنے نصیب کی کالک اس معاشرے کے منہ پر ملتے اڑھائی تین کروڑ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے بہترین سکولوں میں داخلہ دلواد یا گیا ہے ۔ تعمیروترقی کا عمل نہایت تیز رفتاری سے جاری ہے ، ملک میں بجلی وافر مقدار میں میسر ہونے کی وجہ سے بھارت کو برآمد کی جارہی ہے ، نہ صرف بجلی بلکہ پاکستان کی دوسری برآمدات میں بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہورہی ہے جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر ابل ابل پڑتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے ان سارے خوابوں کی تعبیر ہنوز دلی دوراست کی عملی تفسیر ہے ۔ سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ اگر قوم کے تمام تر مسائل ابھی حل طلب ہیں تو دانشواران قوم پر کیا افتاد آن پڑی ہے کہ اچانک عمران کے کردار کو ’’باٹھ تریٹھ‘‘ کرنے پر تلے ہیں ۔
عائشہ گلا لئی کی طرف سے پریس کانفرنس کے بعد معاملہ عمران خان تک نہیں رکا، تحریک انصاف نے جب دیکھا کہ شیریں مزاری کی سربراہی میں ان کی اپنی خواتین کی پریس کانفرنس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑا تو انہوں نے عائشہ احد سے کمک طلب کی ۔ عائشہ احد کے دائیں بائیں فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر یاسمین راشد براجمان تھیں ۔ گویا مردانگی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے بھی خواتین کو استعمال کیا جا رہا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ خواتین بھی یہ خدمت خوشی سے بجا لارہی ہیں ۔معاشرے کے ناخواندہ اور پسماندہ طبقوں میں خواتین کا ونی ،سوارہ اور غیر ت کے نام پرتو استحصال کیاہی جاتا تھا اب یہ نیا چلن ہے کہ پڑھے لکھے لو گوں کی بدا عمالیوں کی سزا بھی عورت کو ہی بھگتنا پڑے گی۔ کیا یہ عائشہ گلالئی کے الزامات کا جواب ہے ؟اپنے من کی میل دور کئے بغیر دوسروں کے دامن پر کیچڑ اچھالنے سے کیا آپ پا ک صاف ہو جائیں گے ؟مسلم لیگ ن کی انگلی پر ناچنے کا الزام عائشہ گلا لئی پر ابھی ثابت نہیں کیا جاسکا لیکن تحریک انصاف نے اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا کہ اگر ان کی قیادت کی طرف انگلی اٹھائی گئی تو جمہوری طریقے سے جواب دینے کی بجائے وہ خواتین کو استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی ۔ ایک خاتون کے بارے ڈکٹیٹر کے پروردہ فواد چودھری کی بازاری زبان ان کی نیت کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کا احوال بھی آشکار کر رہی ہے ۔ لیڈر شپ تو اپنے کارکنوں کی تربیت کرتی ہے ،یہ کیسی قیادت ہے جس نے اپنے کارکنوں کو شتر بے مہار بنا ڈالا ہے ۔ عائشہ گلالئی کی ٹویٹ کے فوراََبعد خاکسار نے عرض کیا تھا کہ کپتان کو نہیں بلکہ انصاف کے معروف تقاضوں کے عین مطابق عائشہ گلالئی کو عمران خان پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت فراہم کرنا ہیں بصورت دیگر وہ جھوٹی اور خواتین کے لئے باعث شرم مثال بن جائیں گی ۔ اب چونکہ عائشہ گلا لئی پارلیمان کی اخلاقیات کمیٹی کو اپنا اور اپنے والد کا موبائل فون دینے پر تیار ہیں توکمیٹی کا خیر مقدم کرنے کے بعد عمران خان کو یوٹرن نہیں لینا چاہیے ۔ ذاتی طور پر میں کسی کے ذاتی عیوب کو اچھالنے کے حق میں نہیں کہ ہمارا معاشرہ اوردین ہمیں دوسروں کی پردہ پوشی کی تلقین کرتا ہے۔
حمزہ شہباز کی ترجمانی میرا منصب نہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ عائشہ گلا لئی کے الزامات جنسی ہراسگی کا معاملہ ہیں جبکہ عائشہ احد کے الزامات خانگی تنازعات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میرے لئے دونوں خواتین یکساں احترام کے لائق ہیں۔ باوجود اس کے کہ عائشہ احد نے تحریک انصاف کا کندھا بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے لیکن ان کو کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا ۔اول تو عدالت ان کے دعوے کو مسترد کر چکی ہے اور دوسرا وہ میڈیا کو بھی آج تک کوئی ایسا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جو حمزہ شہباز کو ان کا خاوند ثابت کرتا ہو،اپنی پریس کانفرنس میں بھی انہوں نے یہ توبتایا کہ ان کے پاس شریف خاندان کے متعدد افراد کے پیغامات موجود ہیں لیکن ابھی تک ان کی طرف سے میڈیا کے لئے ایسا کچھ جاری نہیں کیا گیا جو ان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہو۔ایک مرد ہونے کے ناتے یہ بات میرے لئے باعث تشویش ہے کہ اس معاشرے کا ہربااختیار اور طاقتور مرد اپنی پسند کی خاتون سے جبری تعلق کو بھی برا نہیں جانتا بلکہ اپنا حق گردانتا ہے لیکن مشکل وقت میں اس تعلق کا اقرار تو درکنا ر خواتین کو بدنام کر نا ہمارا شیوہ ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ اس معاملے میں بعض خواتین بھی مردوں کی معاون بن جاتی ہیں ۔ معاف کیجئے گا !مرد اور خاتون کی تخصیص کئے بغیراگر ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو کتنے ہیں جن کا ضمیر ان کو اس الزام سے بری الذمہ قراردے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ چند مستثنیات کے علاوہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں لیکن دل ہمارے اس قدر فرا خ ہیں کہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو اپنی آزاد مرضی کے ساتھ اپنے خاوند کے انتخاب کا حق دینے کو بھی ہم تیار نہیں ہیں اور نام استعمال کرتے ہیں معاشرتی روایات اور اسلام کا۔ اسلام نے تو کھلے لفظوں میں ان کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھی کا انتخاب کر سکیں ۔ بہتر ہوگا کہ ہر کوئی اپنے کردار کا جائزہ خود لے ۔دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کیجئے کیونکہ اس سے آپ کے ہاتھ اور دامن بھی آلودہ ہوں گے۔انسان خطاکار ہے اور اپنی غلطیوں پر پشیمان ہونے والوں پر رحم کرنا خالق کائنات کی روش ہے ، اس لئے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیجئے اور ان کا بوجھ خواتین کے ناز ک کندھوں پر ڈالنے کی مردانگی مت دکھائیے۔