dr akhtar

کیفیت،بارش ،لومڑی اور چھتری

کسی مشاعرے میں ایک نو مشق شاعر اپنا غیر موزوں کلام پڑھ رہا تھا۔بیشتر شعراءآداب محفل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش تھے۔لیکن جوش ملیح آبادی پورے جوش و خروش سے نوجوان کے ایک ایک مصرعے پر داد و تحسین پیش کیے جارہے تھے۔
گوپی ناتھ امن نے ٹوکتے ہوئے کہا :
” قبلہ !!! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟“
”منافقت“
جوش نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا اور پھر داد دینے میں مصروف ہو گئے۔
خواتین و حضرا ت ! خاطر جمع رکھےے ہم ایسا کچھ نہیں کرےں گے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر جو کچھ کہیں گے،
بالکل سچ کہیں گے۔
اصل بات اتنی ہے کہ آج کی تقریب کے لےے ہمارے مہربان ہر دلعزیز دوست اورسینئر شاعر خالد شریف نے ایک ماہ پہلے کہہ رکھا تھا ۔ہم ان دنوں چونکہ ”قلب لاہور “ سے دور اور کسی حد تک نورجہاں کے سوہنے شہر قصور کے قریب رہتے ہیں۔اس لےے اکثر احباب کی دعوتِ مشاعرہ پر نہیں پہنچ سکتے۔اسی سبب دوست ناراض بھی رہتے ہیں۔سو گزشتہ ماہ خالد شریف کے ماہانہ مشاعرے پر نہ پہنچنے کے سبب شرمندہ تھے لہٰذا اس بار ہم سے انکار نہ ہوسکا۔مگر اس بار ایک شرط کاجرمانہ بھی ہوا اور وہ جرمانہ یہی تھا کہ اس مشاعرے کے ہمراہ ایک عدد کتاب پر تبصرہ کی فرمائش بھی دعوت نامہ کے ساتھ لف تھی۔۔۔کتاب پر بات کرنا جرمانہ ہر گز نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن سبب یہ ہے کہ اگر ہم کتابوں پر مضامین باندھنے لگے تو
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
کتاب پڑھنا ہمیں بہت اچھا لگتا ہے مگر اس پر لکھنے میں ذرا سے شفیق احمد خان ہیں۔شفیق خان ہمارے شفیق اوردیر ینہ دوستوں میں سے ہیںاور آدھے سے زیادہ شہر ان کی ” منہ زبانی “ تنقید سے نالاں ہے۔شفیق زبانی مضمون تو گھنٹہ بھر سنا سکتے ہیں لیکن لکھنے میں وہ ہمارے بھائی واقع ہوئے ہیں۔خیر تمہید کچھ زیادہ لمبی ہوگئی۔ہم عامر رانا کی کیفیت پر بات کرنے کے لےے پر تول رہے ہیں۔عامر رانا سے ہماری ایک ہی ملاقات ہے وہ بھی زیادہ قدیم نہیں۔وہ چند روز قبل کالج میں ہمیں اپنا مجموعہ کلام دینے تشریف لائے تھے۔ہمیں اس لےے عزیز ہےںکہ ان کے نام سے ملتان کے دنوں کے ایک دوست عامر یاد آتے ہیں۔وہ عامر شیخ تھے ۔ایک روز بہت فسردہ تشریف لائے۔ اُن دنوں خیر سے انہیں بھی شاعری کا شوق ہو ا کرتا تھا۔اب تو خیر سے سعودیہ میں ہوتے ہیں اور ریالوں میں کھیلتے ہیں۔کبھی فون آئے تو بتاتے ہیں کہ شکر ہے میں نے ان دنوں شاعری ترک کر کے ڈپلومہ کر لیا تھا وگرنہ اب تک بس شاعر ہی ہوتا ۔
جی ہاں وہی عامر صاحب تشریف لائے تو بولے آج ایک شخص نے محفل میں میری بڑی بے عزتی کی ہے۔ہم نے پوچھا وہ کیسے؟؟ بولے :” محفل میں ایک شخص نے پوچھا تھا کہ کیا آپ شاعری کرتے ہیں؟“
ہم نے کہا: تواِس میں بے عزتی کی کیا بات تھی ،اس نے سیدھا سا سوال پوچھا تھا ،جواب دے دےتے“۔
شیخ عامر بولے : لیکن یہ سوال انہوںنے کافی دیر میری شاعری سننے کے بعد کیا تھا۔یار آج میری بڑی بے عزتی ہوئی ہے“۔
خواتین و حضرات آج کی کتاب کے مصنف ایسے ہر گز نہیں ہےں۔ان کی کتاب کے نام سے ان کی فنکارانہ صلاحیت کا احساس ہوتا ہے۔شاعری کی کتاب کا ایسا ہی نام ہونا چاہےے۔شعر ملاحظہ ہو :
یہ جو برسات لگی ہے تیری گلیوں میں یہاں
استعارہ ہے مری آنکھ کی کیفیت کا
اس شعر کو تو پنجاب کے دل لاہور کے نام ہونا چاہے تھا کہ بارش اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سے ٹریفک کئی کئی گھنٹے جام رہتا ہے۔شہر کو پیرس بنانے والوں نے اسے برباد کر کے رکھ د یا ہے۔عامر رانا کی شاعر ی میں مزاحمتی رنگ شامل ہے۔
عامر امیر شہر کے اطوار کے طفیل
ہم اگلی نسل سر بہ کفن دیکھتے رہے
شاعری میں وہ دو ٹوک اور کھرے انداز میں سچ کہنے والے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ورنہ تو ان دنوں سچ کو گالی سمجھ لیا گےا ہے۔کوئی برداشت ہی نہیں کر سکتا۔
لطیف ساحل ہمارے دیرینہ دوستوں میں سے ہیں۔خود بھی کمال شعر کہتے ہیں ۔ان کا یہ شعر تو اکیسویں صدی کے بہترین شعر وں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
ٹکرائیے ہجوم سے اور جان جائےے
دیوار کون کون ہے رستہ ہے کون کون
اس تیز رفتار معاشرے کی بے حسی اور کرب کو جس طرح کہنہ مشق شاعر لطیف ساحل نے بیا ن کیا ہے۔انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عامر رانا بھی اپنا راستہ بنا رہے ہیں۔
چند اشعار ملاحظہ کیجئے اور خود اندازہ لگا لیں کہ ہمارا کہا کتنا بجا ہے۔۔۔
چوروں کو کوئی خوف نہیں احتساب کا
حاکم نے رنگ اوڑھ لیا ہے نقاب کا
جو دیکھتا ہوں وہی کچھ بیان کرتا ہوں
کسی یزید صفت سے کہا ںمیں ڈرتا ہوں
ہمیشہ پیار بھرے لفظ زندہ رہتے ہیں
زباں سے زخم لگے تو سلا نہیں کرتے
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو تو مجھے بتلانا
میں تمہیں ریت کے ذروں سے بھی چن سکتاہوں
عامر رانا ایسے شعراءمیں سے ہیں جو لفظوں کے تیشے سے چٹانوں میںسے مجسمے نکالنے کا فن جانتے ہیں۔ان کے ہاں ہمارے ارد گرد کی سچائیاں نمایاں ہیں۔ان کے مصرعوں میں ہمارا آج سانس لیتامحسوس کیا جاسکتاہے۔وہ مایوسی دیکھ کر بھی مایوس نہیں۔
امید کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا
گو خونچکاں زمینِ وطن دیکھتے رہے
میرے سائے میں آجاﺅ مسافر
کہیں تم کو ٹھہر جانا پڑے گا
عامر نے اپنے دل کی کیفیات کو شعروں کا روپ دے کر کاغذ پر نقش کر دیا ہے۔ان کیفیات کو لطیف دل کے لو گ زیادہ بہتر بھانپ سکتے ہیں۔اگر اسی طرح انہوں نے اپنا شعری سفر جاری رکھا تو وہ دریا ئے شاعری کے ساحل پر ضرور اترےں گے۔بات کچھ زیادہ لطیف ہو گئی سو اس لطیفے پر ہی ختم کرتے ہیں۔
ہالی ووڈ کی ادا کارہ ایک لومڑی کی کھال کا کوٹ خریدنے گئی۔دیر تک جھک جھک اور بک بک کرنے کے بعد اس نے کوٹ پسند کر لیا۔دام چکائے اور پوچھا یہ بارش میں بھیگ کر خراب تو نہیں ہو جائے گا۔دکاندار جو پہلے ہی اس کی بے تکی
بحث سے تنگ آچکا تھاجھنجلا کر بولا :
” محترمہ ! آپ نے کسی لومڑی کو بارش میں چھتری لگائے ہوئے دیکھا ہے“۔