riaz ch

کیا صرف بھارتی برہمن ہی محب وطن ہیں؟

بھارت کے وزیر ثقافت مہیش شرما ان دنوں سیاسی رہنما کم اور فلسفی مورخ اور دانشور کی شکل میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سکول کے نصابوں میں صرف ہندو مذہبی کتابوں کے اقتباسات ہی شامل کیے جانے چاہیں کیونکہ اسلام اور مسیحی مذہب بھارت کی روح سے مطابقت نہیں رکھتے۔ان کے بیان سے واضح طور پر مراد یہ تھی کہ بھارت کا مسلمان ملک سے محبت نہیں کرتا اور وہ ملک کا وفادار نہیں ہو سکتا اور ان کا مذہب بھی بھارت کی اقدار کے لیے موزوں نہیں ہے۔
اعلیٰ ذات ہندوؤں کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلمان دہشت گرد ہیں جبکہ ان ہی کی ہندو برادری کے اچھوت دلت دہشت گردوں کے ہمدرد ہیں۔ قبائلی نیکسلائٹ اور سکھ خالصتانی ہیں۔ کشمیریوں کو اگروادی قرار دیا اور بھارتی عیسائیوں کو بھارت کا خون چوسنے والے کیڑے کہا۔ ان کے مطابق صرف برہمن ہی بھارت کے وفادار اور محب وطن ہیں۔
12بلین آبادی پر مشتمل ملک بھارت میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ آبادی کا قریباً 80فیصد ہندو ہیں باقی 20فیصد میں مسلمان، عیسائی، جین، سکھ اور پارسی شامل ہیں۔12 بلین کی آبادی میں تقریباً 172.2ملین مسلمان 27.8ملین کرسچن،20.8 ملین سکھ اور 4.5 ملین جین شامل ہیں۔
با اثر ہندو خاندان جو زیادہ تر برہمن ہیں جن کو پوچھنے والا اس نام نہاد سیکولر ملک میں کوئی نہیں، طبقاتی تقسیم کے ذمہ دار ہیں۔ بھارت میں ذات پات کے نظام کی وجہ غیر برہمنی کے پیروکاروں کیساتھ بھی امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ کھشتری ویشن کے بعد شودر ایسی ذات ہے جس کو ہندو برہمن اپنے پاس بھی آنے نہیں دیتے ۔سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں نچلی ذات کے ہندو اور اقلیتی طالبعلم ایک جماعت میں پڑھتے ہیں جبکہ برہمنوں کے بچوں کیلئے الگ سہولتیں کلاس روم اور اساتذہ ہیں۔اگر وہ احتجاج کریں تو ان پر دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولت کار اور ہمدرد کا لیبل لگ جاتا ہے۔ اسی لیے بھارت میں مسلسل غیرانسانی سلوک کا نشانہ بننے والے دلتوں نے برہمن سامران سے بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے بھیم آرمی کو اپنی نئی پناہ گاہ بنا لیا۔برہمنوں ہی نہیں بلکہ اونچی ذات کے دیگر ہندوؤں کے رویوں سے نالاں دلتوں کی بھارت میں برہمنوں سمیت اونچی ذات کی تینوں ہندو ذاتوں کے غیرانسانی سلوک کا نشانہ بننے والے دلتوں میں تبدیلی مذہب کا رجحان بھی غالب رہتا ہے۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو وہ تو شروع دن سے ہی بھارتی ہندوؤں کو قبول نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں مسلمان شامل تھے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ دہشت گردی کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ انتہا پسند ہندو تنظیمیں بھارت میں دہشت گردی کرتی ہیں۔ گائے ذبیحہ کے مسئلے پر ہندو اور دیگر اقلیتوں میں شدید اختلاف اور کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ دلیت، عیسائی اور مسلمانوں کے نزدیک گائے کا گوشت غذائیت سے بھرپور ہے۔ ذبیحہ گاؤ سے متعلق عدالتوں میں بہت دفعہ اس کو چیلنج کیا گیا لیکن افسوس اقلیتوں کی کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔خاص طور پر کشمیری مسلمان تو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ بھارتی برہمنوں کے نزدیک تو وہ اگر وادی اور غدار ہیں ۔
3 جون 1984ء کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کی سربراہی میں خونی آپریشن بلیو اسٹار کے دوران بے پناہ طاقت کے استعمال نے وقتی طور پر 70 ء اور 80 ء کی دہائی میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری علیحدہ ملک کی سکھ تحریک کو کچل دیا تھا۔ لیکن جیسا کہ آزادی کی تحریکوں میں ہوا کرتا ہے، طاقت کا استعمال وقتی طور پر تو کارگر ثابت ہوتا ہے لیکن اگلی نسلوں کے جوان ہونے تک طاقت کا استعمال بذاتِ خود تحریکوں میں نئے جذبے پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے 80ء کی دہائی میں سکھوں کے علیحدہ ملک کی تحریک کے روحِ رواں تھے۔ آپریشن بلیو اسٹار کا ہدف بھی انہی کی قیادت میں ‘خالصتان’ حاصل کرنے کے لیے منظم ہونے والے نوجوان سکھ جنگجو تھے جو سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں مورچہ زن تھے۔ تحریک خالصتان آج کل پھر اپنے عروج پر ہے اور بھارت کی مزید تقسیم کا بہانہ بھی بن سکتی ہے۔ لہذا سکھ بھی بھارتی وفادار ی کے بنائے گئے پیرا گراف سے نکل گئے۔
دیگر اقلیتوں کی مانند بھارتی عیسائی بھی سنگھ پریوار کے مظالم سے محفوظ نہیں۔ دہلی میں چھ گرجا گھروں پر حملے
کیے جا چکے ہیں۔ اس سے پہلے بھی جب مارچ 1998ء میں ’’بی جے پی ‘‘کے مرکز دہلی میں برسراقتدار آئی تو بھارتی عیسائی بھی انتہا پسند ہندوؤں کے زیر عتاب آگئے تھے۔ ان کی زندگی بھی اجیرن کر دی گئی۔یوں تو اس سے پہلے کی بھارت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ہندو اکثریت نے کبھی بھی بھارتی عیسائیوں کے وجود کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔اس امر کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی کہ کوئی بھی بھارتی عیسائی اگر کسی بھی شعبہ میں کوئی اعلی مقام پیدا کرتا تو ہندو انتہا پسند گرہووں کی جانب سے اس کی کردار کشی کے لیے طرح طرح کے الزام لگانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔یہاں تک کے ’’مدر ٹریسا‘‘ کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے یہاں تک کہا گیا کہ یہ عورت بھارت میں عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی عیسائی خون چوسنے والے کیڑوں کی مانند بھارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ غرض صرف برہمن ہندو ہی بھارت کے وفادار اور محب وطن ہیں باقی سب قومیں جن میں دیگر مذاہب اور خود ہندو نچلی ذاتیں شامل ہیں ، بھارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ یہ تو حال ہے بھارتی حکمرانوں کا جن کو سب ہی اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ بھارتی برہمن کیونکہ پیسے اور اثر و رسوخ والے ہیں اسی لئے حکمرانی کرنا اور دوسروں کو ذلیل کرنا ان کو ہی بھاتا ہے۔