khalid irshad sufi

کہاں گئے وہ دن؟

بہت سال پہلے کسی ڈائجسٹ میں اے حمید مرحوم کی ایک تحریر پڑھی تھی‘ جس میں انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے والے زمانے میں رمضان‘خصوصی پر سحری کا سماں باندھا تھا۔ اے حمید صاحب کی منظر کشی ملاحظہ ہو:
’’قیام پاکستان سے پہلے کا زمانہ ، دسمبر کی سرد ٹھٹھرتی رات کا پچھلا پہر، امرتسر شہر کے مکانوں کی چھتوں ، منڈیروں ، آنگنوں ، میدانوں اور باغوں پر کہرے کی لطیف یخ چادر سی بچھی ہے۔ امرود کے اجڑتے ہوئے باغوں میں بے برگ وبار درختوں سے ٹھنڈی ٹھنڈی اوس ٹپک رہی ہے۔سحری کا وقت شروع ہو گیا ہے۔ ہماری گلی بیدار ہو رہی ہے۔ دور سے ڈھول بجانے والے کی آواز آئی ہے۔
ڈھول بجانے والا مگرابھی ہمارے محلے میں نہیں پہنچا۔ وہ بجلی والے چوک یا مسجد خیرالدین کے آس پاس ہے۔ ایک بار بڑے زورشور سے ڈھول بجا کر اس نے آواز لگائی ہے ، ’’جاگو ! اللہ کے پیارو ! جلال دین آگیا ! سوتوں کو جگا گیا ! ‘‘میں پلنگ پر اپنے لحاف میں دبکے ہوئے دور سے یہ آواز سنتا ہوں۔باہر صحن میں آپوجی( والدہ ) کے چلنے اور برتن اٹھانے رکھنے کی آواز آ رہی ہے۔سامنے والی مسجد میں موذن ٹونٹی کھول کے وضو کر رہا ہے اور زور سے کھانس کر اپنا گلا بھی صاف کر رہا ہے۔ کہیں کہیں مسلمانوں کے مکانوں سے پانی بہنے کی آوازیں آنے لگی ہیں۔آپو جی نے باورچی خانے سے میری بڑی بہن سرور کو آواز دی ہے۔’ آج اٹھنا نہیں بانو ! ‘بانو کلمہ پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھی ہے اوردوپٹہ اوڑھ کر باہر صحن میں آ گئی ہے۔میں آنکھوں پر لحاف ذرا سے اٹھائے طاق پرجلتے ہوئے کڑوے تیل کے دیے کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے اس کی لو میں روشنی اور نور کی ننھی منی پریاں ناچتی نظر آ رہی ہیں‘‘۔اے حمید صاحب کی یہ تحریر خاصی طویل ہے۔ اس کالم کو محیط نہیں ہو سکتی‘ لیکن اس کے پیچھے چھپے یا ظاہر جذبے ‘ امنگ‘ ترنگ اور آہنگ کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ رمضان المبارک اب بھی ہر سال آتا ہے۔ عیدیں بھی پچھلے زمانوں کی طرح دو ہی آتی ہیں‘ پکوان بھی سحری اور افطاری کے وقت پہلے ہی کی طرح بنتے ہیں بلکہ پہلے سے کہیں سوالیکن وہ ماضی والا جذبہ کہیں نظر نہیں آتا۔ قیام پاکستان سے پہلے کے زمانے کے لاہوریا امرت سر یا کسی دوسرے شہر یا قصبے میں رمضان المبارک کی بہاروں کو تو ستر اسی سال کا عرصہ بیت چکا‘ مجھے تو اپنے بچپن والا رمضان بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ مجھے یاد ہے آج سے چند دہائیاں قبل جب میں نے پہلا روزہ رکھا تھا تو میرے کیا کیا لاڈ لڈائے گئے تھے۔ کیسے کیسے مجھے بہلایا گیا تھا۔ میرا روزہ مکمل کرایا گیا تھا۔ آج بھی یقیناً ایسا ہی ہوتا ہو گا‘ لیکن وہ ماضی والے مزے نہیں رہے۔ وہ معصومیت باقی نہیں۔
پھر رمضان کا پہلا عشرہ مکمل ہونے سے پہلے ہی گلیاں اور بازار عید کارڈوں سے سج جاتے تھے۔ نت نئے ڈیزائن کے کارڈ چھپوائے جاتے اور بڑے شہروں میں عید کارڈوں کی خصوصی میلے لگائے جاتے تھے ۔لوگ ان کارڈوں کی دکانوں میں جمع اور اپنے پیاروں کے لئے کارڈ پسند کرتے نظر آتے تھے۔یہ کوشش بھی ہوتی کہ کارڈ جلد از جلد پوسٹ کر دئیے جائیں تاکہ عید سے پہلے ان لوگوں تک پہنچ جائیں‘ جن کے لئے یہ سارا اہتمام کیا گیا ۔ عید کارڈ بھیجنے والے اور موصول کرنے والے کے مابین یہ ایک طرح کا تجدید عہد ہوتا کہ دیکھو میں تمہیں بھولا نہیں ہوں۔ اب تو عید کارڈوں کی روایت تقریباً ختم ہی سمجھیں۔ بازار جائیں تو کہیں عید کارڈوں کے سٹال نظر نہیں آتے۔ عید کارڈ اب بس بکس شاپس تک محدود ہو گئے ہیں۔ اکا دکا ہی ان کی خریداری کرتے ہیں۔مبارک باد کے کارڈوں میں کمی کی وجہ لوگوں کی قوت خرید میں کمی‘ انٹرنیٹ اور ای میل کے ذریعے ای کارڈوں کا استعمال اور نوجوانوں میں چیٹنگ کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔سوشل میڈیا نے ہماری عیدوں‘ عید کارڈوں اور روزوں کی ساری فیسٹیوٹی ہی ختم کر دی ہے۔ اب ای کارڈوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔کسی کے ای میل یا فیس بک پر بنا بنایا ایک کارڈ بھیج دیجئے اور بس۔ ای کارڈ بھیجنے کے لیے محکمہ ڈاک کی محتاجی بھی نہیں رہی۔ گھر بیٹھے بیٹھے سارا کام ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایک گھنٹہ کمپیوٹر پر بیٹھئے اور اپنے سارے دوستوں‘ عزیزوں‘ رشتے داروں کو بھگتا دیجئے۔ ایک زمانے میں بیس گرام کے کارڈ کے لیے چار روپے کا ٹکٹ لگتا تھا‘عید کارڈ لانے یا لے جانے والے ڈاکیے کو عیدی الگ سے دینی پڑتی تھی‘ لیکن یاہو، ایم ایس این اور دوسری کئی فری سروسزنے یہ سارا ٹنٹا ہی ختم کر دیا ہے۔ مفت کے ای میل اکاؤنٹ کے ذریعے صرف انٹرنیٹ چارجز پر سینکڑوں کارڈ بھیجے اور وصول کئے جا سکتے ہیں۔ یہ نہ ہو سکے تو موبائل پر متعدد پیکیج دستیاب ہیں۔ ایک عید مبارک کا میسیج لکھئے‘ درجنوں افراد کے نمبر سلیکٹ کیجئے اور sendکا بٹن دبا کر سال بھر کے لئے اظہار محبت کے فرائض سے مکت ہو جائیے۔ بہرحال سب سے زیادہ مزاعید کارڈوں پر عجیب و غریب شعر لکھنے میں آتا تھا۔ زیاددہ تر شعر سنے سنائے ہوتے تھے‘ لیکن بوقت ضرورت ہم اپنے شعر بھی بنا بلکہ گھڑ لیتے تھے‘ اکثر جنہیں پڑھ کر میرے دوست میری بڑی تعریف کرتے اور آپس کی بات ہے‘ میں بھی خود کو بڑا شاعر سمجھنے لگا تھا‘ یہی علامہ اقبال کے پائے کا‘ بہت لحاظ کر لیں تو غالب کے برابر کا۔عید کے دن کا انتظار پہلے روزے سے ہی شروع ہو جاتا تھا۔نئے کپڑے‘ نئے جوتے اور نئی واسکٹ۔ میں نے ایسی لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو اپنے پرانے کپڑوں کو نیا رنگ چڑھا کر دو دو عیدیں ایک سوٹ کے ساتھ گزارتے تھے۔ اب تو اللہ کا کرم ہے کہ ہر دن عید اور ہر رات شب برات بن چکی ہے۔ سال میں کئی کئی جوڑے نئے کپڑوں اور جوتوں کے خریدتے ہیں۔ گھر والوں سے دس بیس روپے عیدی ملتی تھی‘ جو ہم سارا دن خرچتے تھے‘ پھر بھی پیسے ختم نہیں ہوتے تھے۔ اب آپ کسی بچے کو سو روپے بھی دیں تو وہ لینے سے انکار کر دے گا۔