khalid irshad sufi

کھیل: ہم زوال پذیر کیوں ہیں؟

ہنگری یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے‘ جس کا کل رقبہ 93,030مربع کلومیٹر اور آبادی 9,830,485 نفوس پر مشتمل ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا 88واں بڑا ملک ہے۔ ملک کا دارالحکومت بوڈا پسٹ ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان رقبے کے لحاظ سے 36واں بڑا ملک ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی آبادی بیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہنگری اولمپک گیمز میں اب تک 175سونے کے تمغے جیت چکا ہے اور سونے کے تمغوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چاندی اور کانسی کے تمغوں کی تعداد کتنی رہی ہوگی۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس اولمپک سونے کے تمغوں کی تعداد10 ہے‘ جن میں سے تین سونے کے‘ تین چاندی کے اور چار کانسی کے ہیں۔ حتیٰ کہ ہنگری سے چھوٹے کئی ممالک کے پاس بھی اولمپک گیمز میں جیتے گئے سونے کے تمغوں کی تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ جیسے فِن لینڈ 101‘ سویڈن 147‘ ناروے 56‘ نیوزی لینڈ 46‘ جمائیکا 23‘ ڈنمارک 45‘ بلغاریہ 51۔ پھر فن لینڈ نے اب تک کل 303میڈل جیتے ہیں۔ باقی چھوٹے چھوٹے ممالک کے کل اولمپک میڈلز کی تعداد اس طرح ہے: ہنگری 491‘ سویڈدن 494‘ ڈنمارک 194‘ بلغاریہ 214‘ ناروے 152 اور نیوزی لینڈ 117۔ آپ کے خیال میں اس تفاوت‘ اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ میرے خیال میں اس کی ایک ہی وجہ ہے: کھیلوں میں ہماری حکومتوں کی عدم توجہ‘ ورنہ یہ وہی پاکستان ہے جو ایک وقت میں کرکٹ‘ سکواش‘ سنوکر اور ہاکی کا چمپئن تھا۔ اس زوال کی کیا وجہ ہے؟ میرے خیال میں ایک ہی : سارٹ کٹ اور پیسے کی دوڑ۔ہر کوئی راتوں رات امیر بننا چاہتا ہے اور کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ نہ صرف امیر امیر ترین بنتے جا رہے ہیں بلکہ کل آبادی کے لحاظ سے غربت کی شرح میں
اس سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کا نتیجہ ہے کہ نہ تو کوئی قابل قدر منصوبہ مکمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی کھیلوں جیسی تفریحی سرگرمیوں پر ہی توجہ مرکوز کی جا سکی ہے۔ حکومت اور حکمرانوں کو اس شعبے میں ترقی اور ملک کا نام روشن کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں ہے۔
حال ہی میں یونس خان نے کرکٹ میں اپنے دس ہزار رنز پورے کئے تو پوری قوم خوشی سے پھولے نہیں سما رہی ۔ ایسا ہونا بھی چاہئے کہ بہرحال یہ ایک بڑا سنگ میل ہے‘ جو پہلی بار عبور کیا گیا‘ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہم ستر سال سے کرکٹ کھیل رہے ہیں ۔ اس دوران ہم نے کئی ٹورنامنٹ جیتے اور 1992کا ورلڈ کپ بھی جیتا‘ لیکن یونس خان پہلا کھلاڑی کیوں ہے‘ جس نے دس ہزار رنز پورے کئے‘ جبکہ انڈیا کے تین کھلاڑی سنیل گواسکر‘ سچن ٹینڈولکر اور راہل ڈریوڈ‘ آسٹریلیا کے بھی تین کھلاڑی ایلن بارڈر‘ سٹیو وا اور رکی پونٹنگ ‘ سری لنکا کے دو کھلاڑی کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے‘ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا‘ شیو نارائن چندرپالیہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور دس ہزار کلب کے باقی بارہ کھلاڑی یہ سنگ میل عبور کرنے کے باوجود کھیلتے رہے‘ ہمارا دس ہزار بنانے والا اکلوتا کھلاڑی ریٹائر ہونے جا رہا ہے۔ یعنی اگلے چند برسوں میں کرکٹ کے کسی کھلاڑی کے اس سنگ میل تک پہنچنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ہمارے مقابلے میں ہنگری اور دوسرے ممالک کھیلوں پر بھرپور توجہ دیتے ہیں اور جس بچے میں تھوڑا سا بھی ٹیلنٹ ہو ‘ اس کو سرکاری سطح پر اولمپکس کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور یہ کام دس بارہ سال کی عمر میں شروع کرا دیا جاتا ہے۔ ان کے کھلاڑی ایسے ہی تو سونے‘ چاندی اور کانسی کے تمغوں کے ڈھیر لگا دیتے۔اور تیاری کا یہ کام وہاں سرکاری طور پر بنے ہوئے جمنیزیمز میں ہوتا ہے‘ جہاں ہر طرح کے ان ڈور کھیلوں کے انسٹرکٹرز کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے‘
پاکستان کا شمار آج ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں دہشت گردی کا عفریت پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ اوپر کیا جا چکا کہ کرپشن اور حکومتوں کی جانب سے معیشت کو ترقی دینے کے سلسلے میں مناسب پالیسیاں مرتب نہ کرنے کی وجہ سے ملک میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہی دو عوامل کی وجہ ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتیں اور توانائیاں ضائع جا رہی ہیں اوور وہ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہی دو عوامل دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں سٹریٹ کرائمز کی شرح بڑھ رہی تو یہ بے سبب نہیں۔اگر ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لئے جامع حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے تحت ٹھوس اقدامات کئے جائیں تو نہ صرف اس سے معاشرے میں صحت مندانہ اور صحت بخش سرگرمیوں کا آغاز ہو گا اور انتہا پسندی کے دیو کو قابو میں کیا جا سکے گا بلکہ ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن بھی کیا جا سکے گا۔
مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے تین بڑے شہروں کراچی کوئٹہ اور پشاور میں گزشتہ تیرہ سال سے ان ڈور گیمز کے لئے شروع کئے گئے جیمنیزیمز اب تک مک مل نہیں ہوئے۔ 2004میں پاکستان سپورٹس بورڈ نے مختلف ان ڈور گیمز میں پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت کے مواقع
فراہم کرنے اور ان کے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لئے کثیر رقوم سے بین الاقوامی معیار کے جیمنیزیمز بنانے کے کام کا آغاز کیا۔ 2005میں آنے والے زلزلے کی بنا پر ان جیمنیزیمز کے ڈیزائن میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس عمل میں چارسال گزر گئے۔ اپریل 2009میں ان جیمنیزیمز کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع ہوا‘ لیکن دسمبر 2010میں فنڈز کی عدم دستیابی پر ان کی تعمیر کا کام ایک بار پھر رک گیا۔ تلخ ترین حقائق یہ ہیں کہ تینوں شہروں کے جمنیزیمز 80فیصد تک مکمل ہو چکے ہیں‘ لیکن موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ان ڈور گیمز کا فروغ اور اولمپکس میں پاکستان کے لئے اعزازات حاصل کرنانہیں ہے‘ لہٰذا قوم کے خرچ ہونے والے کروڑوں روپے ملک کے تین بڑے شہروں میں کھنڈرات بنے کھڑے ہیں اور ٹیبل ٹینس‘والی بال‘ کراٹے‘ بیڈ منٹن جیسی کھیلوں میں پاکستان کے لئے نام کمانے کی آرزو رکھنے والے نوجوان ان جیمنیزیمز کی تکمیل کے لئے بے بسی میں ڈوبے لہجوں میں دعائیں مانگ رہے ہیں۔ حضور جہاں اتنے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں‘ کچھ رقم ان جیمنیزیمز کے لئے بھی مختص کر دیجئے کہ آج پاکستان کو صحت مندانہ سرگرمیوں اور کھیلوں کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔