کوّا، فرعون اور پاکستان

میں بابا جی کے قدموں میں سر جھکائے مایوسی کے عالم میں بیٹھا دل ہی دل میں رو رہا تھا، کیونکہ پاکستان اور عالم اسلام کی گرتی ہوئی حالت دل اور روح پر بوجھ بن رہی ہے۔ دل سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ کچھ دنوں سے میں آئینے میں دیکھتا ہوں میری آنکھیں بے نور اور بجھی بجھی سی لگ رہی ہیں۔ ایک دم سے بابا جی بولے، جب ہندوستان، پاکستان ابھی بنے نہیں تھے ہمارے علاقے میں کاشت کار دالیں کاشت کرتے تھے تو چھ سات کوّے مار کر درختوں پر لٹکا دیا کرتے تھے۔ وہ کیوں بابا جی، میں نے استفہامیہ لہجے میں پوچھا۔ وہ اس لئے ، بابا آسمان میں گہرا دیکھتے ہوئے بولے۔ ’’باقی کوّے بھاگ جاتے تھے اور کاشت کاروں کی بیجائی کے لئے دانے بچ جاتے تھے‘‘۔ گہرا سا ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے بولے ’’ بس جب کوئی کوّے ٹانگنے والا آ گیا، یہی کوئی دس گیارہ کوّے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انشاء اللہ۔۔۔ ہمارے گاؤں کی کاشت ہی دالیں تھیں، زیادہ تر۔۔۔ ایک روایت تھی ریت تھی کہ کسان پیداوار فصل کا ایک حصہ گھر لے جاتا، ایک حصہ بازار میں فروخت کر دیتا اپنا کاروبار زندگی چلانے کے لئے اور ایک حصہ کھیت کو واپس کر دیتا۔ پاکستان بھی تو کھیت ہی ہے۔ تم نے آج تک اس کو کتنا لوٹایا ہے؟ میں نے اعترافیا لہجے میں کہا ’’بابا جی لوٹایا تو نہیں لوٹا ہی ہے‘‘۔ بابا جی کے گورے
رنگ میں لالی پھیل گئی۔ ’’تو پتر پھر چوروں کے سردار ڈاکو ہی ہو سکتے ہیں وَلی نہیں‘‘۔ اپنے حصے کے پاکستان کی خدمت کرو۔ اپنے حصے کے پاکستان کی خدمت، میں حیرت سے گویا ہوا۔ ’’ہوں، اپنے حصے کے پاکستان کی‘‘۔ اس جملے میں زور بھی شامل تھا۔ بولے ’’تمہارے حصے کا پاکستان، تمہارا گھر ہے اور تمہارے کام کی جگہ۔ تم باہر کے ملک بھاگنا چاہتے تھے نا۔ مجھے یہ بتاؤ جب ماں بیمار ہو جائے تو اس کو چھوڑ کے بھاگ جانا چاہئے۔ کیانہیں دیا پاکستان نے ہم سب کو؟‘‘۔ تھوڑی سی خاموشی، پھر ان کی آواز نے سکوت توڑا اور فلسفیوں کے انداز میں بولے، تم تو پڑھے لکھے ہو، میں گھبرا سا گیا، ایسے لگا جیسے میرے اندر کے چور کو کسی نے پکڑ لیا ہو، جیسے میرے اندر کی جہالت کی سیاہی ان پر عیاں ہو گئی ہے۔ میں نے ہلکا سا ہوں کہا، میرے اندرایک طنز سی ہنسنے لگی۔ اس ’’ہوں‘‘ کی حقیقت میں جانتا تھا کہ میں کتنا جانتا ہوں۔ وہ اچانک بولے یہ جو امریکہ ہے یہ گروہ دجال ہے اور اس گروہ کے کتنے ہی آدمی تیرے اور میرے پاکستان میں بھی ہیں۔ اصل میں امریکہ کے پینٹاگون کے اندر ایک ایسا ہی شعبہ ہے جہاں پر ویسے ہی نجومی اور جادوگر بیٹھے ہیں جیسے نجومی اور جادوگر فرعون کے دربار میں بھی تھے۔ وہ سب حساب کتاب لگا کر دنیا کے نقشے پر ایک ایسے حصے پر نشان لگا کر امریکہ کو کہتے ہیں کہ یہ وہ بچہ ہے جو تیری تباہی اور بربادی کا باعث بنے گا۔ اور وہ حصہ ہے پاکستان۔ اوئے پتر! جب کسی فرد واحد یا قوم سے بڑا کام لینا ہوتا ہے تو اسے آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے، مضبوط کرنے کے لئے۔۔۔ یہ جو پاکستان ہے ایک مشن کا نام ہے۔ ’’وے پتر! اقبالؒ ایک وَلی آدمی تھا اور ولیوں کو سچے خواب آتے ہیں۔ پاکستان کا خواب بھی اُسے ہی آیا اور اس میں رنگ بھرنے کے لئے محمد علی آ گیا جو محمدؐ اور علیؓ ناموں کا مجموعہ اور بہن فاطمہ۔۔۔ تمہیں پتا ہے محمد علی جناحؒ کے کتنے بہن بھائی اور تھے اور ان کے نام کیا تھے،
اُن کے حالات کیا تھے، ان کی نسلوں کا کیا بنا۔۔۔کراچی میں ہی ہیں نا۔۔۔ کسی کو پتا ہے کراچی میں کہاں، کیا کرتے ہیں؟ پاکستان کی تشکیل اور وجود کے مقدمے کے لئے انگریزوں اور ہندوؤں سے لڑنے کے لئے ایک مضبوط اور لائق مسلمان وکیل کی ضرورت تھی جسے بھیج دیا گیا۔ بس پتر یہ قوم حالات اور مشکلات کی گٹھالی میں تپ کر کندن بننے والی ہے۔ پر بابا جی یہ لوٹ مار، آئے روز کرپشن کی خبریں، اردگرد تو یہی نظر آتا ہے۔ پتر! پاکستان کو سونے کی تھیلی سمجھ لو اور اس میں چند چور ہاتھ ڈال کر کوئی دس گرام تو کوئی کلو، جتنا جتنا ہاتھ پڑتا ہے نکال رہے ہیں، لیکن تمہیں تو پتا ہے پتر ہمارے دین میں چور کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان اللہ کی عنایت ہے۔ اس کو جتنا جتنا کوئی نقصان پہنچائے گا اتنی اتنی سزا بھی ملے گی۔ غزوہ ہند بھی تو آخر اسی علاقے میں ہونا ہے۔ غزوہ کہتے ہیں اُسے جس میں آقا کریمؐ خود شامل ہوں۔ اور میرے نبیؐ کی ایک ایک بات سچ اور حق ہے۔ موتیوں جیسی ہے۔ ستائیس رمضان کو ہی قرآن اترا اور ستائیس رمضان کو ہی پاکستان معرض وجود میں آیا۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے تو پختہ یقین رکھو کہ پاکستان بھی قیامت تک رہنے کے لئے بنا ہے۔ انشاء اللہ ۔میری آنکھوں میں رونق سی آنے لگی میرا دل مسکرانے لگا۔ مجھے صبح خوبصورت لگنے لگی، شام کا انداز رومینٹک سا ہو گیا۔