Asif-anayat-final-new

کوئی پوچھنے والا نہیں

چند محاورے مختلف معاشروں میں عام ہوا کرتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے اپنی مادری اور دھرتی کی زبان میں یہ فقرہ یا محاورا پورے کرب اور شعور کے ساتھ نہ بولا ہو۔ پہلے پہل تو اپنی ہی مادری زبان میں اکثر سنا اور بولا بھی کہ ’’کوئی پچھن والانئیں‘‘ مگر جب پورے معاشرے کو ایک درویش کی طرح کھنگال ڈالا دوست و دشمن، مخلص و منافق، نیک و بد، اعلیٰ وادنیٰ ، حاکم و محکوم سب کو دیکھا بھگتا اور سمجھا تو کئی بار بے اختیار زبان سے نکلا ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔ تقریباً ہر سال کی طرح جنوری 2017 ء کے دوسرے ہفتے میں خبر پڑھی کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن نمبر کی نیلامی لاکھوں میں ہوئی۔ نمبر 1، نمبر 786 اور دیگر نمبروں کی بولیاں لاکھوں روپے میں چلی گئیں جبکہ دوسری جانب باپ نے فیصل آباد میں غربت کی وجہ سے بیٹے کو بے کفن دفنا دیا جس کو بعد میں اہل علاقہ نے قبر کشائی کے بعد دوبارہ کفن پہنایا، بھی پڑھنے کو ملا مگر ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔ اسی طرح منو بھائی کی تحریروں سے ملنے والی اور کبھی نہ بھولنے والی کرشن نگر کی گونگی پاگل بے بیاہتا کی سڑکوں پر بچہ جنتے ہوئے چیخ و پکار پر اس کو حاملہ اور اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے درندوں سے ’’کوئی پوچھنے والا نہ تھا‘‘۔ اور نہ حسن نثار کے کالموں کا چن زیب جو نواز شریف کے دوسرے دور میں وزیراعظم کے گھر کے باہر اپنے اوپر تیل چھڑک کر آگ لگا کر مرگیا اور اس جیسے ہزاروں دوسرے جو کسمپرسی کی زندگی سے تنگ آ کر خود کشی کر جاتے ہیں کے معاملات میں بھی ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘ ۔
ہر معاملے کی طرح یوں لگتا ہے ایک سازش کے تحت وطن عزیز کے بچوں سے تعلیم حاصل کرنے کا حق چھین لیا گیا۔ سکولوں ، کالجوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں اور والدین کی گھٹتی ہوئی سانسوں پر ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔ پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکوں میں ڈاکٹروں کے کھلے ہوئے ۔۔۔تہذیب اجازت نہیں دیتی مجبوراً کلینکس ہی لکھوں گا۔ 3، 4 ہزار روپے فیسیں اور دو منٹ نہ دے سکنے پر ڈاکٹروں کو ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘ اور دوسری جانب لاکھوں روپے لگا کر ڈاکٹر بننے والوں کو سڑکوں پر حقوق مانگتے ہوئے در بدر ہونے پر ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔ ان گنت واقعات ایسے کہ میاں بیوی نے اپنے بچوں کو زہر دے کر خودکشی کر لی عید کے کپڑے نہ ملنے پر، انصاف نہ ملنے پر خودکشی جیسی خبریں پرانی بات ہے بلکہ یہ بربادیاں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ابھی جاری تھیں کہ چند سالوں سے ہر سطح پر اخلاقیات کی ارتھی ایسی اٹھائی گئی کہ شہرت اور بدنامی ، نیکی اور بدی میں تمیز مٹ گئی، اخلاق باختہ لوگوں کے ہاتھ موبائل فونز، فیس بک، انٹر نیٹ کیا لگے کہ کھلی بے غیرتی، بے شرمی نے ہر سو ایسی دھما چوکڑی مچائی کہ الامان و الحفیظ۔ چہ جائے کہ پہلے درجے کی نام نہاد قیادتیں نہ صرف خود ملوث ہیں بلکہ حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے 10 اپریل 1986 ء کو محترمہ بینظیر جلاوطنی کے بعد لاہور آئیں۔ لگتا تھا اللہ رب العزت کی کائنات میں اس دن صرف بی بی کا استقبال ہوا تھا۔ اس سیاسی دورہ کے دوران گوجرانوالہ میں کمال درجے کا جلسہ تھا۔ معظم علی معظم کی نظمیں تھیں ۔ عوام مسرور ہو رہے تھے کہ ہجوم نے وقت کے حاکم کے لیے کتا کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ بی بی شہید سٹیج پر تھیں فوراً کرسی سے اُٹھ کر مائیک پر آ گئیں اور ہجوم سے کہا کہ انسان چاہے کتنا ہی گر جائے اس کو کتے سے تشبیہ نہیں دینا چاہیے۔ لہٰذا یہ نعرہ مت لگائیں حالانکہ وہ حکمران ان کے والد کو سولی چڑھا چکا تھا۔ مخالفین اور پیپلزپارٹی کے حمایتیوں کے لیے کوڑے، قید،قلعہ بندیاں، پھانسیاں، جلا وطنیاں اس نے اُن کا مقدر بنا دیا تھا ۔ مگر اپنے ووٹرز کو بدترین مخالف کے لیے بھی برے القاب دینے سے منع کر دیا جبکہ آج کی قیادت کا طرز تفکر اور تربیت ہی مختلف ہے۔
دراصل بدتہذیبی ، بدتمیزی، ذات برادری، طبقاتی اور فرقہ واریت کی ہی طرح سیاست میں کرپشن کو میاں نواز شریف، شیخ رشید و دیگر لوگوں کے ذریعے جنرل ضیاء الحق نے ہی بلکہ بطور پالیسی رائج کیا تھا اور متعارف کروایا تھا۔ نواز شریف نے ہر وقت دو چار لوگ پال رکھے ہوتے ہیں جو مختلف مخالف سیاستدانوں پر فقرے بازی، بازاری زبان ’’بولتے‘‘ رہتے ہیں۔ کبھی شیخ رشید اور ہمنوا تھے آج کل مریم اورنگزیب اور طلال چوہدری و ہمنوا ہیں۔
حکومتی ایوان، حزب مخالف اور مقتدر ادارے مختلف سمتوں میں بھاگ رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہماری پالیسی کیا ہے سوائے اس کے کہ دوسروں کی پالیسیوں کو ہم اپنے اوپر مسلط کر رہے ہیں۔ ہماری حالت اس غریب دشمن دار جیسی ہے جس کے گھر میں دوائی ، خوراک اور پوشاک تو نہیں مگر کندھے پر کلاشنکوف ہے۔ بین الاقوامی قوتوں کے آلۂ کار ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندے ، ہمارے عوامی نمائندے ہونے کی اداکاری کر رہے ہیں ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔ہمیں ہندوستان کی دشمنی شاید اتنا نقصان نہ پہنچائے جتنی ہمالیہ سے اونچی سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستیاں نقصان پہنچائے چلی جائیں گی کیونکہ بدقسمتی سے اپنے حکمران طبقوں اور اداروں کی وجہ سے ہم ضرورت مند، سوئے ہوئے اور کرپٹ لوگ جانے جاتے ہیں، سی پیک جیسے معاہدے پر عمل درآمد کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے نتیجے میں وطن عزیز اور اس کے عوام کی بھلائی، بہتری اور کاروباری آزادی کا اہتمام اور آئندہ حکمت عملی، منصوبہ بندی داخلہ و خارجہ پالیسی کے لیے جس مرد میدان، عقل و دانش فہم فراست کی حامل شخصیت یا قیادت کی ضرورت ہے، لمحہ موجود میں ہمارے درمیان موجود نہیں اور نہ ہی ایسا مربوط نظام جو شخصیات اور قیادت کے بغیر مملکت کو پیش آمدہ حالات کے مطابق ضروریات مہیا کرے، سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ جج بیان اور ریمارکس دیئے جا رہے ہیں، قومی ادارے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور اُن کے جواب میں وزیر داخلہ لمبی چوڑی تقریر داغ دیتے ہیں جس کو بھی لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چند دن بعد ٹویٹ واپس لے لیے جانے کے اعلان ہوتے ہیں۔ ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔۔۔ فیصلے کسی کے، زبان کسی کی، خواہش کسی کی اور اظہار کسی کا جبکہ معصوم و محکوم جرم ضعیفی میں مبتلا لوگ سب جانتے ہیں مگر ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ یہ سی پیک ہمارے پیک اپ کا پیش خیمہ ہو۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں ایٹمی پروگرام کے بانی اور پودا لگانے والے کوتو سولی پر لٹکا تے ہیں اور پھل کاٹنے والوں کو کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے فیصلوں پر عمل درآمد ہو چکنے کے سالوں بعد عدلیہ کے کردار کا تعین کرتے ہیں۔ حالیہ (پاناما) فیصلے میں کل کلاں اگر مؤرخ نے لکھ دیا کہ مدافعت تین ججوں نے کی تھی اور دو نے نہیں تو کیا کریں گے۔ اس سے بڑا قحط الرجال کیا ہے کہ نواز شریف کو خطے کی قد آور شخصیت قرار دیا جانے لگا، بھٹو صاحب کی جگہ زرداری محترمہ بی بی کی جگہ گویا خان صاحب بونی قیادت ہر سطح پر ہر شعبے میں قوم پر مسلط ہے مگر ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔
تمام ہمسایہ ممالک ہمارے خلاف زہریلی زبان بول رہے ہیں۔ امریکہ کو اپنی تھانیداری، سعودیہ کو ملوکیت، ایران کو ملائیت، چائنہ کو تجارت کی فکر ہے جبکہ ہمارے حکمران طبقوں کو قیامت تک کے لیے اپنی اور اپنی نسلوں کے لیے دولت و اقتدار کی فکر ہے۔ جنہوں نے پوچھنا ہے اُن سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وطن عزیز کے سٹیک ہولڈرز اور عوام جب تک غیر جانبدار ہو کر قومی سطح پر اور اجتماعی مفاد کے تابع ہو کر نہیں سوچتے، آج کوئی پوچھنے والا نہیں تو کل کوئی یہ کہنے والا بھی نہیں ہو گا کہ ’’کوئی پوچھنے والا نہیں‘‘۔