bushra ejaz copy

کوئٹہ دہشت گردی اور ذکر فیضؔ !

کوئٹہ اُس وقت لہو کی سڑاند میں لتھرا ہوا تھا۔ شہر میں سر شام چراغ گل کر دیئے جاتے تھے۔ روشنیاں بجھا دی جاتی تھیں۔ لوگ موت کے خوف سے گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تھے۔ شہر کا سانس ٹوٹ چکا تھا۔ شہر کی رگیں نیلی پڑ گئی تھیں۔ ساری آوازیں گم ہو چکی تھیں۔ صرف موت اور خوف کہ اس کے علاوہ اور کچھ باقی نہ رہا تھا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے یہ باتیں، اس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتائیں، جس کا دورانیہ تین گھنٹوں پر مشتمل تھا اور یہ تین گھنٹے پندرہ سو سلائیڈز کو دیکھنے اور جنرل جنجوعہ کی زبانی ان خوفناک حقائق کو سننے میں گزر گئے، جنہوں نے بلوچستان کو مشرقی پاکستان بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ بلوچستان لبریشن آرمی، علیحدگی پسندی کی تحاریک، ڈاکٹر اللہ نظر کی تحریک آزادی، نواب اکبر بگٹی کا قتل اور بھارت کا ان تحاریک کو ہوا دینے اور بلوچستان میں شورش پھیلانے میں خاص کردار، جیسے عناصر نے مل جل کر بلوچستان کو نوگو ایریا بنا دیا تھا۔ جسے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں، جنرل ناصر خان جنجوعہ اور پاک فوج نے اپنی بے پناہ قربانیوں سے دوبارہ نہ صرف زندہ کر دیا بلکہ علیحدگی پسندوں، فراریوں اور انتہا پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر بھی مجبور کر دیا۔ اس وعدے کے ساتھ کہ وہ امن کے دھارے میں شامل ہو کر نہ صرف خود کو تبدیل کریں گے بلکہ اپنے اردگرد کو بھی بدلنے کی پر امن کوشش کریں گے۔ یہ 2015ء کی بات ہے، بعد میں جنرل راحیل شریف بھی ریٹائر ہو گئے اور جنرل ناصر جنجوعہ بھی، رہا بلوچستان تو وہاں امن کی فضا دھیرے دھیرے مستحکم ہونے لگی۔ مگر جب سے سی پیک پر کام شروع ہوا ہے، بلوچستان میں دہشت گردی تیزی سے سر ابھارنے لگی ہے۔ کلبھوشن یادیو نیٹ ورک پکڑے جانے کے بعد تو پاکستان کا دیرینہ دشمن بجائے شرمندہ ہونے کے کھل کر اور بھی سامنے آ گیا ہے۔۔۔ اور اس نے 500 ملین ڈالر بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے، صوبے کا امن تباہ کرنے اور سی پیک روکنے کے لیے مختص کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے گھناؤنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے۔ گزشتہ روز تربت کے قریب گروک کے پہاڑی علاقے سے 15 پنجابی جوانوں کی لاشیں ملیں تو جیسے سب دلوں سے اک قیامت گزر گئی۔ یہ بدقسمت نوجوان روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کے لیے گھروں سے
نکلے تھے۔ انسانی سمگلروں نے انہیں ایران کی سرحد پارکرانے کے بعد کنٹینروں میں بھر کر یورپ کے کسی ساحل پر اتارنا تھا۔ مگر یہ بدنصیب دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ اسی روز اعلیٰ پولیس افسر اور ان کے خاندان کو بھی بے دردی سے شہید کر کے گویا ملک دشمن عناصر نے امن پسند قوتوں کو یہ پیغام دے دیا کہ انہوں نے صوبے کے داخلی امن کو تباہ کرنے اور سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے کمر کس لی ہے۔ اوپر تلے ہونے والی دہشت گردی کی یہ وارداتیں نہ صرف صوبے کے امن بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی خطرے کا باعث ہیں۔ خصوصاً ان حالات میں جب ملک سیاسی ہلچل کا شکار ہے۔ ٹھوس داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کا فقدان ہے۔ اور حکومت اگر کہیں ہے تو وہ اپنے نااہل رہنما کے دفاع کے علاوہ اور کچھ سوچنے کو تیار نہیں۔ وزیر خزانہ لندن میں صاحب فراش ہیں، اور خزانہ، خزانچی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس قابل دکھائی نہیں دیتا کہ وہ ملکی ضروریات کا بوجھ اٹھا سکے۔ ادارے اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمارا دیرینہ دشمن، ہم پر گھات لگائے بیٹھا ہے۔ جسے امریکہ کی تھپکی نے مزید شیر بنا دیا ہے۔ سی پیک، جسے پاکستان کا گیم چینجر کہا جاتا ہے، بھارت کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے، وہ ہر قیمت پر اس منصوبے کو ناکام بنانا چاہتا ہے، تا کہ پاکستان اقتصادی اور معاشی لحاظ سے مستحکم نہ ہو پائے، خلیجی ریاستیں خصوصاً یو اے ای اور دبئی بھی سی پیک کے خلاف ہیں اور گوادر پورٹ کو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں۔۔۔ پچھلے کئی برسوں سے، یہ منصوبہ اسی وجہ سے زیر التواء رہا مگر اس وقت اس پر زور و شور سے کام ہو رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی جو ختم ہو چکی تھی، دوبارہ سر اٹھانے لگی ہے، جس کا نشانہ بے گناہ لوگوں کو بنایا جا رہا ہے۔ وہ بے گناہ اور بدقسمت لوگ جو نئے مستقبل کی تلاش میں گھروں سے نکلے اور تاریک راہوں میں مارے گئے۔ انہیں روشن مستقبل کا خواب دکھا کر، غیر قانونی راستوں سے دوسروں ملکوں کی سرحدوں میں دھکیلنے والے، ہمیشہ سے ہمارے درمیان دندناتے پھرتے ہیں اور ان پر کوئی گرفت نہیں۔ نجانے یہ ظالم کتنے گھروں کے چراغ گل کر چکے ہیں، کتنی ماؤں کے دل اجاڑ چکے ہیں؟ بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو اتنی کھلی چھٹی کیوں؟ کیا یہ سوال ہم پوچھ سکتے ہیں؟ کیا کہیں سے اس کا جواب میسر آ سکتا ہے؟ جن بدبخت گھروں میں ان کے بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کی نچی کھسی میتیں پہنچی ہیں، کسی کو اندازہ ہے، ان گھروں پر قیامت کس انداز سے گزر گئی ہے؟
ان دنوں میرے شہر میں فیضؔ امن میلے کا چرچا ہے، میں فیض احمد فیضؔ جیسے انقلابی، وطن پرست اور انسانیت سے بے پناہ محبت کرنے والے بے مثل شاعر کے ذکر سے اس کالم کا آغاز کرنا چاہتی تھی۔ کہنا چاہتی تھی فیضؔ پھولوں کو آزادی سے کھیلتے، پرندوں کو چہچہاتے اور بچوں کو کھل کر مسکراتے دیکھنا چاہتے تھے۔ فیضؔ ان انسانیت نواز روایات سے تعلق رکھتے تھے، جو ہزاروں سال سے ہماری تہذیب کا خاصہ ہیں۔ وہ امیر خسرو، بھگت کبیر، خواجہ معین الدین چشتیؒ ، بابا فریدؒ ، بابا گورو نانک، ابو الفضل، فیضی، بابا بلھے شاہ ؒ ، پیر وارث شاہؒ ، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور رحمان بابا جیسے بزرگوں کے سلسلے کی کڑی تھے اور کہتے تھے ’’حیات انسانی کی اجتماعی جدوجہد کا ادراک اور جدوجہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں، فن کا بھی تقاضا ہے‘‘۔ فیضؔ انسان کو اس کا کھویا ہوا شرف دلانا چاہتے تھے۔ وہ دنیا کو امن سے بھر دینا چاہتے تھے۔ وہ انسانوں پر سکہ جمانے اور ان کا استحصال کرنے والوں کو بتانا چاہتے تھے کہ ایک دوسرے پر قبضہ جمانے اور ایک دوسرے کو تسخیر کرنے کے بجائے، مل کر تسخیر کائنات کو چلیں جہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں۔ جہاں کسی کو کسی سے الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ فیضؔ نے تمام عمر اسی مساعی میں گزاری اور یہ کہتے دنیا سے چلے گئے۔
اے ظلم کے ماتو لب کھولو
چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو اِن سے اٹھے گا
کچھ دور تو نالے جائیں گے۔۔۔
یہ نالے کہاں تک جائیں گے؟ ظلم کے خلاف اگر آواز نہ اٹھائی جائے تو ظلم مقدر ہو جاتا ہے اور ظالم مظلوموں کو یہ باور کرا دیتے ہیں کہ یہی ان کی تقدیر ہے جبکہ فیضؔ صاحب اور ان کے قبیل کے دوسرے بڑے لوگ ایسا نہیں سمجھتے، وہ انسانی برادری اور سماج کو متشدد رویوں سے بچانے کے لیے ساری عمر جدوجہد کرتے ہیں اور یہ کہتے رخصت ہو جاتے ہیں۔
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے!!