tofeeq butt

کنہوں حال سناواں دل دا؟!

میں اِن دنوں عجیب مشکلات کا شکار ہوں۔ رات کو تین تین نیند کی گولیاں کھا کر سونے کی کوشش کرتا ہوں نیند نہیں آتی ۔ نہ کچھ اور آتا ہے، بس ڈراﺅنے ڈراﺅنے خواب آتے ہیں۔ کل میں اپنے معالج سے کہہ رہا تھا کوئی ایسی دوا ایجاد نہیں ہوئی جس سے ڈراﺅنے خواب آنا بند ہو جائیں، اُس نے کہا ”دواتو کوئی ایجاد نہیں ہوئی البتہ اِن دنوں بسیار خوری تھوڑی کم کردیں، تو ڈراﺅنے خواب بھی کم آئیں گے۔ کیونکہ ڈراو¿نے خوابوں کی ایک وجہ خوراک کی زیادتی بھی ہوتی ہے۔ افسردگی کے عالم میں کچھ لوگوں کی بھوک کم ہوجاتی ہے اور کچھ کی بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ شکر ہے میری بھوک زیادہ ہوگئی ورنہ اِن دنوں اِس واحد مزے سے بھی میں محروم ہو جاتا ۔ ایک رات پہلے میں نے خواب دیکھا اسحاق ڈار کو پکڑ کر جی ایچ کیو لے جارہے ہیں اور وہ آگے سے کوئی مزاحمت نہیں کررہا ۔ میں اُسے بار بار فون کررہا ہوں، وہ میری کال اٹینڈ نہیں کررہا ۔ میں اصل میں اُسے کچھ ”وظائف “ وغیرہ بتانا چاہتا تھا جِن سے اُس میں جھوٹ بولنے کی تھوڑی سکت پیدا ہو جائے کیونکہ جتنا میں اُسے جانتا ہوں وہ زیادہ پریشر برداشت نہیں کرتا۔ اکثراوقات تو ایسے ہوتا ہے وہ کھانے کے فوراً بعد ہی واش روم چلے جاتا ہے۔ خواب میں میرے پسینے چھوٹ رہے تھے کہ پریشر میں آکر اُس نے سچ بول دیا میرا کیا بنے گا؟ ۔ خوف کے اِسی عالم میں میری آنکھ کھل گئی۔ میری نبض تیز چل رہی تھی۔ کچھ دِن پہلے ایسے میری زبان بڑی تیز چلتی تھی، اب ہلکا ہلکا مجھے یہ احساس ہونے لگا ہے زبان کی اتنی تیزی ٹھیک نہیں ہوتی۔ زبان کی نرمی اللہ کو بڑی پسند ہے۔ شاید اِسی لیے اللہ نے زبان میں ہڈی نہیں رکھی۔ ویسے مجھے صرف بکرے کی زبان پسند ہے۔ ساتھ اگر گرما گرم تلوں والے کلچے بھی ہوں تو اُس کا اپنا ہی لطف ہے۔ اگلے روز میں مریم بیٹی کو بھی زبان کی افادیت بتارہا تھا۔ وہ کہنے لگی ” آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ورنہ جِس مقام پر ہم آن پہنچے ہیں اُس سے شاید بچ ہی جاتے۔ چودھری نثارعلی خان اکثر مجھ سے کہتے تھے ”زبان کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا کریں“۔ میں سمجھا وہ شاید بکرے کی زبان کی بات کرتے ہیں، اب جاکر مجھے احساس ہوا وہ میری زبان کی بات کررہے تھے، حالانکہ میری کوئی زبان ہی نہیں ہے۔ شاید اِسی وجہ سے بار بار مجھے نکال دیا جاتا ہے۔ اگلے روز زرداری کہہ رہا تھا ” آپ نکلے کیوں؟“….ویسے وہ بڑا سمجھ دار آدمی ہے کہ وزیراعظم نہیں بنا تھا، اُسے پتہ تھا ہمارے ہاں صرف وزرائے اعظم کو ہی نکالا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ صدر بن گیا۔ اب میں صرف پارٹی کا صدر ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کاش میں ملک کا صدر ہوتا۔ میں نے ایسے ہی ممنون حسین کو صدر بنادیا۔ اُس بے چارے کو اب تک یقین ہی نہیں آرہا وہ صدر ہے۔ نہ مجھے اب تک یقین آرہا ہے کہ میں اب وزیراعظم نہیں ہوں۔ کل کسی انگریزی چینل پر پاکستان کے وزیراعظم کے طورپر کسی نے شاہد خاقان عباسی کا نام لیا میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے سوچا وہ یقیناً میرے ادب میں ہی کھڑے ہوئے ہوں گے کیونکہ اِس وقت بے عزتی اور ذلت کے جس مقام پر میں پہنچ گیا ہوں سوائے رونگٹوں کے میرے ادب میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا …. میرا خیال تھا سارے جرنیل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ وحید کاکڑ بھی تو جنرل ہی تھا۔ ویسے ہم سے بڑی غلطی ہوئی، اُس کے زمانے میں ہم آئین میں یہ ترامیم کروالیتے کہ فوج میں کیپٹن سے اُوپر تک کے تمام تقرریاں وتبادلے وزیراعظم اور اِس سے نچلے عہدوں کے وزیر دفاع کرے گا، داخلی و خارجی امور میں فوج مداخلت کی جرا¿ت نہیں کرے گی، پاکستان، ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہے ، خصوصاً پاکستانی حکمران ہندوستان کے ساتھ اپنے ذاتی کاروباری معاملات کو ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر فروغ دینا چاہیں فوج کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، سیاسی حکمرانوں سے ”سکیورٹی لیکس“ وغیرہ ہو جائیں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں آرمی چیف کے عہدے کا اضافی چارج وزیراعظم کے پاس ہوگا ….اِن ترامیم کے بعد کسی کو جرا¿ت ہی نہ ہوتی مجھے نکالے۔ ویسے اِس بار نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ غلطیاں مجھ سے ہو گئیں۔ اصل میں خواجہ آصف اور احسن اقبال وغیرہ بار بار مجھے یقین دلاتے رہے جرنیلوں میں پہلے والا دم خم نہیں رہا۔ ڈان لیکس پر آئی ایس پی آر کے ٹویٹ واپس لینے سے خود میں نے بھی یہی سوچا خواجہ آصف اور احسن اقبال ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کاش ججز کے بارے میں بھی کوئی مجھے بتادیتا وہ بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔ میں بس بھلیکھے میں مارا گیا۔ اور اُس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک بار پھر بیر لے لیا جو مجھے اقتدار میں لے کر آئی تھی۔ میری یادداشت اتنی کمزور ہوگئی ہے میں بھول گیا تھا جو اقتدار میں لاسکتے ہیں وہ نکال بھی سکتے ہیں۔ پر اِس بار مجھ پر ظلم یہ ہوا صرف مجھے ہی اقتدار سے محروم کردیا گیا، جبکہ میری پارٹی ابھی تک اقتدار کے مزے لُوٹ رہی ہے۔ میں نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا میری پارٹی میرے بغیر اقتدار کے مزے لُوٹے۔مجھے پتہ ہوتا میری زندگی میں یہ سانحہ ہونا ہے اِس سے پہلے کہ میرا عہدہ ختم ہوتا، میں پارٹی ختم کردیتا ،….اگلے روز شاہد خاقان عباسی کو میں نے حکم دیا ہے لگتے ہاتھوں آئین میں ایک ترمیم یہ بھی کروالے کوئی شخص مرنے کے بعد بھی پارٹی کا سربراہ رہ سکتا ہے۔
زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں ….بہرحال میں جب یہ سوچتا ہوں میری موجودگی میں پارٹی کا کوئی اور شخص وزیراعظم ہے تو میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ اگر یہ سب ہوگیا ہے اور بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے اگلا وزیراعظم شہباز شریف اور پنجاب کا وزیراعلیٰ حمزہ شہباز ہو۔ اِس قسم کی کوئی ہلکی سی سازش بھی میرے خلاف ہوئی، دِل ہی دِل میں، میں نے یہ سوچا ہوا ہے جنہوں نے مجھے نکالا اُن کے قدموں میں گر کر معافی مانگ لوں گا کہ وہ جو چاہیں ظلم مجھ پر کرلیں، یہ نہ کریں ، ویسے شہباز شریف کے بارے میں تو میں کہہ سکتا ہوں میری مرضی کے بغیر وہ شاید وزارت عظمیٰ قبول نہ کرے، مگر حمزہ کے بارے میں مجھے یقین ہے اُسے ہلکا سا اشارہ بھی کسی نے وزارت ِ اعلیٰ کے لیے کیا وہ چُوم چاٹ کر قبول کرلے گا ،…. بہرحال اِس ظلم کو روکنے کے لیے مجھے لُوٹی ہوئی دولت بھی پاکستان لانا پڑی، میں اُس سے دریغ نہیں کروں گا ، ایسی صورت میں حسن، حسین اور مریم شریف کو بھی دولت واپس لانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، ….پتہ نہیں اِن دِنوں میری سوچ کو کیا ہوتا جارہا ہے ؟۔ کبھی کبھی میں دل سے یہ سوچنا چاہتا ہوں کہ اِس بار بھی دوران اقتدار بے شمار غلطیاں مجھ سے ہوئیں، خصوصاً جو لُوٹ مار میں نے کی وہ مجھے نہیں کرنا چاہیے تھی۔ مگر کوئی ”غیبی قوت“ ایسا سوچنے سے مجھے روک دیتی ہے۔ البتہ جب میں یہ سوچتا ہوں کاش میں تاحیات وزیراعظم ہوتا، بلکہ پوری دنیا ایک ہی ملک کی صورت میں ہوتی ، اور میں اُس کا ”بادشاہ سلامت“ ہوتا تو کوئی غیبی قوت یہ سوچنے سے مجھے نہیں روکتی ،…. ویسے شاہد خاقان عباسی کی تو لاٹری نکل آئی ہے۔ اُس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ وزیراعظم بن جائے گا، نہ میں نے کبھی سوچا تھا اپنے ہوتے ہوئے کسی اور کو میں وزیراعظم بنادوں گا، سچ پوچھیں مجھے ابھی تک یہ سب خواب لگ رہا ہے۔ میری ساری زندگی خواب دیکھتے گزری۔ پر اتنا ڈراﺅنا خواب شاید ہی اِس سے پہلے میں نے کبھی دیکھا ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے ابھی میری آنکھ کُھل جائے گی اور فواد حسن فواد مجھے بتائے گا ”سر پچھلے دو گھنٹے سے آرمی چیف آپ سے ملنے کے لیے آپ کے دفتر کے باہر بیٹھے ہیں“، جواباً میں اُس سے کہوں گا ”اُنہیں دو گھنٹے مزید بٹھاﺅ“ ۔اُس کے بعد ایک فائل میرے پاس آئے گی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کچھ ججوں کے تبادلے کرنے کے لیے مجھ سے اجازت طلب کی ہوگی۔ میں اُس فائل پر نوٹ لکھوں گا ”مینوں نوٹ دِکھا، میرا موڈ بنے “ ….ویسے یہ نوٹ بھی اللہ جانے کیا چیز ہیں ؟آتے ہیں تو آتے ہی چلے جاتے ہیں، جاتے ہیں تو جاتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے اب کے بار نوٹ گئے تو شاید ہی کبھی واپس آئیں گے ….بہرحال میں کوشش کروں گا عنقریب پاکستان واپس جاﺅں۔ ایک بڑا جلسہ کروں، اور لوگوں سے پوچھوں ”گزر گئیں گرمیاں …. آگیا پالا…. مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا ؟؟؟“