riaz ch

کلبھوشن کی اہلیہ سے ملاقات، دباؤ نہیں انسانی ہمدردی

پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو اس سے ملاقات کی پیشکش خالصتاً انسانی بنیاوں پر اور اسلامی روایات کے تحت کی لیکن بھارت نے حسب معمول پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈ یا نے اس معاملے کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے دباؤ پر کلبھوشن یادیو کو بیوی سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔ جبکہ ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق عالمی عدالت کا اس پیشکش سے متعلق پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ پاکستان نے صرف انسانی ہمدردی اور اسلامی اقدار کے تحت بھارتی جاسوس کی اہلیہ کو ملنے کی اجازت دی۔ پاکستان میں گرفتار ہونیوالا کل بھوشن یادیو 2013ء سے را کیلئے کام کر رہا تھا۔ حسین مبارک پاٹیل کے نام سے پاسپورٹ بنوا رکھا تھا۔ وہ تین سال سے براہ راست را سے منسلک تھا اور دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔ کل بھوشن یادیو بلوچستان میں ’’را‘‘ کا سب سے بڑا ایجنٹ تھا۔ وہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ کل بھوشن پہلے بھارتی نیوی میں ملازم تھا، بعدازاں ’’را‘‘ میں شامل ہوا۔ اس سے تفتیش میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ۔ اس کے مطابق اس کے زیر سایہ کراچی سمیت سندھ میں فسادات پھیلانے کیلئے کئی میٹنگز ہو ئیں۔
کلبھوشن نے گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ وہ را کا ایجنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کیلئے بھیجا گیا۔اس نے اعترافی بیان میں کہا ’’ میں کلبھوشن یادیو اعتراف کرتاہوں کہ میں ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہوں اور بطور کمیشنڈ افسر میری ریٹائرمنٹ 2022 میں ہوگی۔میں نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991 میں بھارتی
نیوی میں شمولیت اختیار کی جہاں دسمبر 2001 تک فرائض انجام دیئے۔میں نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا اور چاہ بہار(ایران )میں کاروبار کا آغاز کیا۔میں نے 2004 اور 2005 میں کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ’’را‘‘کیلئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا۔2013 کے آخر میں ’’را‘‘کیلئے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کیں۔میں 2016 میں ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوااور فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں کیں اور گھناؤنی کارروائیوں میں انکی مددکرتارہا۔اگر آپ ہندوستان کو میری گرفتاری کا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں خفیہ کوڈ ’’your monkey is with us‘‘ (آپ کا بندر ہمارے پاس ہے) بتائیں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے۔ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور میری گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے۔ ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی اور نہیں ہوسکتا۔میں گوادر میں چینی انجینئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے اور مہران بیس پر حملے میں ملوث ہوں۔سی پیک اور گوادر بندرگاہ میرے بڑے اہداف تھے۔ میں ’’را‘‘ کیلئے دہشت گردی کا نیٹ ورک بنانے، اپنے کارندوں کو فنڈنگ اور اسلحہ مہیا کرنے میں بھی ملوث ہوں‘‘۔
پہلے پہل تو بھارت نے کلبھوشن کی اس اعترافی ویڈیو کو نہ صرف جھوٹ کا پلندہ قرار دیا بلکہ اْس سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر دیا۔ لیکن ’’را‘‘ کے حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو کا پاسپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد بھارتی دفتر خارجہ نے کل بھوشن یادیو کو بھارتی شہری اور بحریہ کا سابق اہلکار تسلیم کیا مگر قلابازی کھاتے ہوئے جان چھڑانے کی کوشش بھی کی جا تی رہی۔یہی کلبھوشن یادیو جس سے بھارت اعلان لاتعلقی کر چکا تھا ، اْسی کو سزائے موت سنائے جانے پر بھارتی تِلملاہٹ دیدنی تھی۔ بی جے پی کے وزیر نے کہا کہ یادیو کو سزا دینے پر بھارت کو پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کرنی چاہیے۔ اس نے پاکستان کو یہ دھمکی بھی دی کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ مودی سرکار نے کہا کہ بھارتی شہری کی سزا پر عمل درآمد ہوا تو اْسے سوچا سمجھا قدم قرار دیا جائے گا۔ بھارت نے اپنے ایجنٹ تک قونصلر کی رسائی مانگی مگر اسے منع کر دیا گیا کیونکہ ہمارے دفاعی تجزیہ کاروں نے مشورہ دیا تھا کہ بھارت کو کسی صورت بھی گرفتار ہونے والے ’’ را‘‘ کے ایجنٹ تک قونصلر رسائی نہیں دینی چاہئے۔ بھارت کے ساتھ جاری ہر طرح کے مذاکرات کا عمل فی الفور روک کر اس معاملے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے۔ بھارتی نیول کے حاضر سروس افسر کی پاکستان میں سرگرمیاں چھوٹا معاملہ نہیں۔ پاکستان پر دن رات الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے بھارت کا اپنا نا قابل تردید ثبوت ہاتھ آگیا ہے اور اس سے پاکستان میں موجود ’’را‘‘ کے دیگر نیٹ ورکس کا بھی پتہ چلایا جا سکے گا۔
پاکستان کو چاہئے کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کرے اور اس سے پوری دنیا کو آگاہ کیا جائے۔ بھارت کا اس سے بڑا ثبوت ہاتھ نہیں آ سکتا۔ اب ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت افغانستان میں رہ کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کارروائیوں میں مصروف ہے۔
را کے ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا گیا ۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے کلبھوشن سدھیر یادیو کو تمام الزامات کا مرتکب قرار دیا اور سزائے موت کا حکم سنایا۔ بھارتی جاسوس کو قانونی تقاضوں کے مطابق دفاع کیلئے آفیسر فراہم کیا گیا تھا ۔
فوجی عدالت کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت آگ بگولہ ہوگیا اور نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ طلب کر لیا گیا تاہم اس دوران پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ایک تو آپ دہشت گردی کریں اور ہمیں بلا کر احتجاج بھی کریں۔دہشت گردوں کو سزا ملنی چاہیے۔ کلبھوشن کو سزا دے کر کوئی غلط کام نہیں کیا۔ دہشتگردی کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔
بھارت نے کلبھوشن یادو کو پاکستان میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔بھارتی دروغ گوئی‘ جعلسازی اور پاکستان کیخلاف اسکے خبث باطن کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کلبھوشن کی سزائے موت کیخلاف اسکی دائر کردہ درخواست کی ابھی عالمی عدالت انصاف میں سماعت بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس نے عالمی میڈیا کو کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد روکے جانے کی جھوٹی خبر جاری کردی۔ بھارتی میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادو کی پھانسی کی سزا معطل کر دی ہے۔تاہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ۔
کلبھوشن کی سزائے موت کیخلاف بھارت کا عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا کوئی جواز بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست آئی سی جے کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ آئی سی جے کے روبرو بھارت نے کلبھوشن کا اپنا شہری ہونا تسلیم کیا مگر اسکی بے گناہی کا کوئی ثبوت بھارت کے پاس نہیں تھا۔ اسی تناظر میں بھارتی لاء کمیشن نے کلبھوشن کے معاملہ میں بھارتی کیس کے کمزور ہونے کا اعتراف کیا اور کمیشن کے سربراہ نے یہ تک کہہ دیا کہ کلبھوشن کو بچایا نہیں جا سکتا۔
اب بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عالمی عدالت نے پاکستان کو کلبھوشن کی ملاقات کرانے سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا لیکن بھارت پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے اسلامی اقدار کے تحت بھارتی جاسوس کی اہلیہ کو اس سے ملاقات کی اجازت دی۔