Ahmed-Qureshi

کلبھوشن کیس: ہم نے عالمی ثالثی کیوں قبول کی

18 مئی 2017ء کو حکومت پاکستان کو ایک بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کے مضبوط کیس پر عالمی سفارتی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس ہی دن نادیہ مجلد نے ایک شمع ’ایلی کوہن‘ کیلئے روشن کیا۔ اس دن ایلی کوہن کی وفات کو 52 برس گزر گئے تھے۔
18مئی کو ایلی کوہن کو پھانسی دی گئی۔ 18مئی کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی روک دی گئی۔
الیاہو بن شاؤول کوہن کی پیدائش 1924ء میں مصر کے سب سے بڑے شہر اور بندرگاہ اسکندریہ میں ہوئی۔ یہ مصری تھے لیکن انکے خاندان کا تعلق شام کے دوسرے بڑے شہر اور تجارتی مرکز حلب سے تھا۔ دوستوں نے الیاہو بن شاؤول کوہن کا نام مختصر کر کے ایلی کوہن کر دیا۔ ایلی نے بھی یہ نام اختیار کر لیا۔ یہ دور تھا انقلابی سوچ اور نظریہ کا۔ اس دور میں نوجوان اخوان المسلمین کی سوچ اپنا رہے تھے، تو کچھ مارکسی نظریات سے منسلک ہو گئے تھے۔ ترکی میں اتاترک کی سوچ کو نوجوانوں میں پذیرائی مل رہی تھی جبکہ عرب اور ایران میں نیشنلزم کا دور تھا۔ لیکن خطے کے یہودی نوجوانوں میں صہیونی نظریہ فروغ پا رہا تھا۔ ایلی کوہن باقی مصری یہودی نوجوانوں کی طرح صہیونیت سے بہت متاثر تھے اور یونیورسٹی میں صہیونی سوچ اور قیام اسرائیل کیلئے پرامن طریقے سے کام کررہے تھے۔ نیشنلسٹ اور مذہبی تنظیموں کے طلبا کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگیں تو ایلی کوہن نے یونیورسٹی کلاسز چھوڑدیں اور گھر میں پڑھنا شروع کردیا۔ ایلی کوہن جیسے دیگر عرب یہودی سکون کی زندگی بسر کر رہے تھے لیکن اسرائیلی حکومت نے کچھ عرب یہودی نوجوانوں کو اس بات پر قائل کردیا کہ وہ اپنے ملک اور قوم کے ساتھ بے وفائی کریں اور مذہب کی بنیاد پر ایک غیر ملک، اسرائیل، کے مفادات کیلئے متحرک ہو جائیں۔ چناچہ ایلی کوہن مصر میں بیٹھے ہوئے ایک خفیہ اسرائیلی منصوبے کا حصہ بن گئے۔ اس منصوبے کا نام تھا ‘آپریشن سوزانا’۔ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے مصری یہودی نوجوانوں کو منظم کر کے 1955ء میں امریکی اور برطانوی سفارتخانوں پر دھماکے کروائے۔ ان دھماکوں کا مقصد مغربی ممالک کے ساتھ مصر کے تعلقات کو خراب کرنا اور دشمنی پیدا کرنا تھا۔ ان دنوں مصری فوج نے برطانوی حمایت یافتہ شاہ فاروق کو برطرف کیا تھا اور جنرل محمد نجیب مصر کے پہلے صدر بن گئے تھے۔ برطانیہ اس بات پر ناراض تھا۔ مصر اور مغربی ممالک کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کرنا اسرائیل کے مفاد میں تھا۔ اس کام کیلئے مصری یہودی نوجوانوں کے ذریعے مغربی سفارت خانوں پر دھماکے کروائے گئے۔اس منصوبے میں ملوث کئی مصری یہودی نوجوان پکڑے گئے لیکن ایلی کوہن کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسے گرفتار نہ کیا گیا۔ لیکن مصر میں حالات خراب ہوتے جا رہے تھے۔ ایلی نے دسمبر 1956ء میں اسرائیل ہجرت کرلی۔یہ سمندری جہاز کے ذریعے اسکندریہ سے اٹلی گیا اور پھر وہاں سے دوسرے جہاز کے ذریعے اسرائیل کے شہر حیفا پہنچ گیا۔ ایلی کے والدین اور بھائی پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے اور اسرائیل میں مقیم تھے۔
اپنے ملک مصر میں اسرائیل کیلئے اتنا کچھ کرنے کے بعد ایلی کو توقع تھی کہ اسرائیلی حکومت اس سے بڑا کام لے گی۔ لیکن1957ء میں اسرائیل کی ایم آئی، یعنی کہ ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی، نے ایلی کوہن کو بطور تجزیہ کار بھرتی کر لیا۔ اس کا کام خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنا اور اسرائیل کے خلاف کام کرنے والی دشمن خفیہ ایجنسیوں کے منصوبوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ ایلی کوہن کو محسوس ہوا کہ ریاست اس سے کلرک کا کام لے رہی ہے، چنانچہ اس نے موساد میں کام کرنے کی درخواست دے دی۔ موساد بیرون ملک بڑے آپریشنز کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایجنسی تھی اور ایلی کچھ ایسے ہی کام کرنا چاہتا تھا، لیکن موساد نے اس کی درخواست مسترد کردی۔ ایلی کو اس پر بڑا افسوس ہوا اور رنجش میں اس نے ایم آئی سے استعفیٰ دے دیا۔ اگلے دو سال ایلی نے تل ابیب میں ایک انشورنس کمپنی میں نوکری کی۔ پھر نادیہ مجلد سے ملاقات ہوئی۔ نادیہ عراقی یہودی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، دونوں نے 1959ء میں شادی کرلی اور ان کے تین بچے ہوئے۔
ایلی کوہن کی زندگی عام اسرائیلی شہری کی طرح گزر جاتی، لیگن ایسا نہیں ہوا۔ دو سال بعد موساد کو شام میں جاسوس بھیجنے کی ضرورت پڑی لیکن ایجنسی کے پاس کوئی ایسا ایجنٹ نہیں تھا جو ایک عربی ملک میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شام کا مسئلہ یہ تھا کہ یہ ملک سوویت یونین کا حلیف تھا، عرب قومیت اور نیشنلزم کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اس کے قبضے میں جولان کی پہاڑیاں تھی جو اونچائی کی وجہ سے شمالی اسرائیل کیلئے مسلسل خطرہ بنی ہوئی تھیں۔
موساد نے اپنی فائیلیں چھانٹیں تو ایلی کوہن کی درخواست برائے نوکری سامنے آ گئی۔ موساد کو ایلی کوہن سے زیادہ بہتر ایجنٹ نہیں مل سکتا تھا۔
سو سال قبل لشام اور لبنان سے بہت لوگ ہجرت کر کے لا طینی امریکہ کے ممالک آئے۔ ان میں سے ایک ملک ارجنٹینیا ہے جہاں شامی اور لبنانی نژاد تاجروں نے بڑی ترقی کی۔ موساد نے منصوبہ بنایا کہ ایلی کوہن ایک ارجنٹینی شامی نژاد تاجر کا روپ دھارے گا جو سرمایہ کاری کیلئے اپنے وطن واپس آیا ہے۔ایلی کوہن اپنے شامی روپ میں کامل امین ثابت بن گیا اور جاسوسیت کی تاریخ میں ایک بڑا کردار ادا کر گیا۔کامل امین ثابت سمندر کے ذریعہ بیروت پہنچ گیا۔ اور پھر ایک گاڑی میں اپنا جاسوسی سامان سمیت، جس میں اس دور کے خفیہ برقی آلات بھی تھے، شام کے بارڈر سے گزرتا ہوا دمشق پہنچ گیا۔ بارڈر پر گارڈرز کو رشوت دے کر تفتیش سے بچ گیا تھا۔
ایلی کوہن خوش شکل تھا، باتیں کرنے اور تعلقات بنانے کی مہارت رکھتا تھا۔ کامل امین ثابت کے روپ میں اس نے مال دار تاجر کی عادتیں اور حلیہ اپنایا۔ اس کی مہارت کا عالم یہ تھا کہ دمشق پہنچتے ہی اس نے حکومتی دفاتر کے سامنے ایک مہنگا فلیٹ کرائے پر حاصل کرلیا اور شہر کے امیر طبقے میں گھل مل گیا۔ محض تین سالوں میں کامل امین ثابت نے شام کے اہم سیاسی معاشی اور عسکری راز اسرائیل بھیجے۔ اس نے حکمران ‘بعث’ پارٹی، فوج اور حکومت میں قریبی تعلقات بنا لئے۔ شامی وزیر دفاع اس کا اچھا دوست بن گیا، اور شامی صدر امین الحافظ سے قریبی مراسم استوار ہوگئے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ شام کی حکومت نے کامل امین ثابت کو نائب وزیر دفاع کے عہدہ کی پیشکش کردی۔ کامل امین ثابت نے تین مرتبہ جولان کی پہاڑیوں کا دورہ کیا۔ یہ حیران کن بات تھی کیونکہ شامی فوج کے چیف کی مرضی کے بغیر کوئی شخص اسرائیل سے ملحقہ علاقے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ کامل امین نے جولان میں شامی فوج کی ایک ایک چوکی کی تفصیلات اسرائیل پہنچائیں۔ اس نے شام کی حکومت کو مشورہ دیا کہ جولان میں شامی ایئر فورس کے خفیہ اڈوں کے ارد گرد ایک مخصوص درخت لگوا دئیے جائیں۔ اس طرح1967ء کی جنگ میں اسرائیلی ایئر فورس نے شامی طیاروں کو ٹیک آف سے پہلے ہی تباہ کرڈالا۔ شام نے نہر اردن کے پانی کو اسرائیل پہنچنے سے روکنے کا منصوبہ بنایا تو کامل امین نے اسرائیل کو تمام تفصیلات دے دیں اور منصوبہ ناکام بنا دیا۔
جنوری 1965ء میں کامل امین ثابت پکڑا گیا۔ اس کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوا اور اسے سزا سنائی گئی۔ شام کے روسی حلیف سمیت دنیا کے دوست ممالک نے دمشق پر زور دیا کہ کامل امین ثابت، جس کا اصلی نام ایلی کوہن سامنے آچکا تھا، کو پھانسی نہ دی جائے۔ اس وقت کی اسرائیلی وزیر خارجہ گولڈا مئیر نے شام پر عالمی دباؤ پیدا کیا اور دمشق کو پھانسی کی صورت میں مختلف دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شام کے دوست ممالک نے مشورہ دیا کہ ایلی کوہن کو جیل میں رکھو اور مستقبل میں اسرائیل سے کسی اہم سیاسی فائدے کے بدلے اسے رہا کردینا۔ لیکن 18جنوری 1965ء کو ایلی کوہن کو دمشق کے الشہداء سکوائر میں پھانسی دی گئی۔ شام نے کوہن کی آخری دو خواہشیں پوری کیں: بیوی کو آخری خط پہنچایا گیا، اور شام کے سب سے بڑے یہودی پادری نے اس کے ساتھ دعا پڑھی۔ ایلی کوہن کی لاش اسرائیل کو آج تک واپس نہیں کی گئی۔ پھانسی کے تین سال بعد، اسرائیل نے جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا۔
شام نے ایلی کوہن کو سزا دے کر اسرائیلی جاسوسوں کے لیے شام میں کام کرنا مشکل کردیا۔ کوہن کی پھانسی کو شام کے سرکاری ٹی وی نے براہ راست دکھایا، اور ساتھ ایک دیوار کھڑی کردی جس پر ایلی کوہن کے جرائم کی فہرست تھی۔
کلبھوشن یادیو، یا حسین مبارک پٹیل، سے پہلے، مقبول بھٹ اور افضل گورو کو بھارت نے پھانسیاں دیں اور ان کی میتیں چھپادیں۔ اجمل قصاب سے پاکستانی انویسٹی گیٹرز پوچھ گچھ کرنے ممبئی پہنچ رہے تھے کہ بھارت نے اسے تختہ دار پر لٹکادیا۔ چالیس سال بعد بھی پاکستان نواز بنگلہ دیشی سیاستدانوں کو بخشا نہیں گیا اور چن چن کر انہیں پھانسیاں دے دی گئیں۔ پاکستانیوں کا قاتل کلبھوشن یادیو کو سزا پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے خلاف اہم اقدام ہونے کے ساتھ یہ دنیا کو بتانے کا موقع ہے کہ بھارت 1950ء سے پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہے۔ کشمیر پر بھارت نے کبھی عالمی ثالثی قبول نہیں کی، لیکن ہم نے بھارتی دہشت گرد کے کیس میں عالمی ثالثی قبول کرلی۔18مئی کو ایلی کوہن کو پھانسی دی گئی۔ 18مئی کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی روک دی گئی۔