nawaz-khan-meranii-new-copy

کلبھوشن زمانہ ِحضور کے کلبھوشن اور میرِسپہ

محترم فخرِ انسانیت عزت مآب جناب کلبھوشن یادیو جس نے اپنے ملک وقوم کی خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ”دشمن ملک“ کی کم و بیش سیکڑوں معصوم لوگوں کی جان لینے سے دریغ نہیں کیا۔ ان کی ان گراں قدر اور ناقابل فراموش خدمات کے اعتراف پر دشمن مگر ”ہمدرد“ ملک کی ”بظاہر وزارت خارجہ“ کی جانب سے ملک بھر کے اخبارات اور چینلز پر خبر آئی ہے، جو پاکستانی عوام نے ”خوشی ومسرت کے دو نم ناک آنسوﺅں اور آنکھوں“ سے لرزتے اور کپکپاتے جسم کے ساتھ سنی کہ پاکستان نے بھارتی حکومت کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اعترافی مجرم کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو شوہر سے ملاقات کی”حسین“ پیشکش کردی ہے، اور پاکستان نے باضابطہ طورپر خط بھارتی ہائی کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔ اور اس کی اہلیہ کو پاکستان بلوا کر ملاقات کرائی جائے گی، بھارتی جاسوس کو 3مارچ 2016ءکو بلوچستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ملاقات کے درمیان یقینا ”نامہ وپیام“ اور پاک سرزمین پر نامناسب وناپسندیدہ کام کروانے کے ہم مرتکب ہو جائیں گے۔ بھارت تو ہمارا مستند دشمن ہے، حالانکہ دوستوں کے ساتھ بھی اِس قدر اخلاص رکھنا چاہیے، جو تھوڑے سے تغیر پر زوال پذیر نہ ہو، حالانکہ پاک بھارت تعلقات تو روزانہ کی بنیاد پر تغیر وتبدل کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس جنسی تعلقات کی پیشکش کے جواب میں بجائے بھارت شکرگزار ہوتا، اس نے کہا کہ عالمی عدالت کے دباﺅپر مجبوراً پاکستان ایسی دعوتیں دے رہا ہے۔ اور یہ بھی سنوایا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ”زمانے“ لگیں گے۔ ادھر ہم ”مسلمانوں“ کا یہ حال ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی یعنی پوری اُمت مسلمہ”بے حسی“ اور مدہوشی کا شکار ہے، عالمی مایہ ناز ایک مسلمان مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک جس کو نجانے کس جذبے کے تحت پہلے مسلمان ریاست ملائیشیا نے اُنہیں شہریت دے دی، مگر اب بھارت کے طلب نہ کرنے کے باوجود یہ بیان داغ دیا ہے کہ اگر بھارت نے ڈاکٹر ذاکر کو مانگا تو ہم اُنہیں بھارت کے حوالے کردیں گے۔
جبکہ ہماری کافروں سے اُخوت اور رواداری بلکہ بھائی چارے والی ہمدردی اُبلتی اور چھلکتی جارہی ہے۔ کیونکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن پاکستانیوں کو پھڑکانے اور بم مار کرتڑپانے کے لیے مالی امداد بھی دیتا تھا، خاص طورپر وہ کراچی اور بلوچستان کویعنی بلوچی علیحدگی پسندوں کو صوبہ سندھ کو کراچی سے علیحدہ کرنے کے لیے وہ ”را“ کی جانب سے ان میں بھاری رقوم تقسیم کراتا تھا، اس کا پاکستانی یعنی مسلمانوں والا نام حسین مبارک پٹیل تھا۔ وہ خصوصاً بلوچستان کی علیحدگی پسندوں کا رہنما بنا ہوا تھا، اور ان کو اہداف متعین کرکے بتاتا تھا، اور کامیاب اہداف کو نشانہ بنانے والوں کو انعامات تقسیم کرتا تھا۔
کوئٹہ اور بلوچستان میں وہاں کا بلوچ دہشت گرد ”حاجی بلوچ“ کا وہ اصل دست راست تھا، جس کے ذریعے وہ دوسرے تخریب کار دہشت گردوں کو اور خود اس کو بھاری رقوم فراہم کرتا رہا۔ سفورہ بس حملے میں بھی وہ براہ راست ملوث تھا۔ جس میں 45اسماعیلی جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس مذموم کارروائی کے ذریعے وہ اقلیتوں میں، عدم تحفظ اور بے چینی پیدا کرنا چاہتا تھا، جیسے وہ شیعہ ، سنی فساد برپا کرانے کے لیے ہزارہ والوں کو نشانہ بنائے رکھتا ہے۔
ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ چونکہ وہ بھارتی فوج کا افسر تھا۔ اور اس کا رینک کرنل کے برابر تھا، غالباً یہاں بھی اُسے افسر ہی سمجھا گیاہوگا۔ اور آفیسر میس ، میں ٹھہرایا گیا ہوگا۔ پاکستانیوں کو اُن اپنے افسروں جنہیں 1971ءکی پاک بھارت جنگ میں ”نیازی“ کے جذبہ خیرسگالی کی وجہ سے بھارت کی قید میں رہنا پڑا تھا۔ اُن سے سبق لینا چاہیے ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ کلبھوشن کو بھگوان کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ فوجی ہے۔ اس لیے اُس کے ساتھ سلوک ”عسکریانا“ ہے۔ اگر وہ شہری ہوتا تو شاید سلوک ”شریفانہ“ ہوتا۔
بہرکیف ان تمام متذکرہ بالا جرائم کا ارتکاب کلبھوشن نے کیا، اور ان جرائم کا اعتراف اُس نے خود عدالت میں بھی کیا، اس اعترافی مجرم کی قسمت کا فیصلہ فوراً ہوجانا چاہیے تھا، اس ظالم انسان جس کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے، اس کو ہماری ایجنسیوں نے پکڑا تھا، اور عسکری ادارے نے واضح کیا تھا کہ یہ ہمارا مجرم ہے۔ اس کا فیصلہ بھی ہم خود ہی کریں گے، جیسے کہ وہ پاکستانی کلبھوشنوں کو اپنی فوجی عدالتوں سے فیصلہ سناتے ہیں، اور فوج نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ کافی دیر سے ہماری فوجی عدالتوں میں دہشت گردوں کے مقدمے نہیں بھیجے جارہے، لہٰذا ان کے مطالبے پر تقریباً 92دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیج دیئے گئے ہیں لیکن انسانیت کے نام پر ، کلبھوشن کو جوعیاشی کرائی جارہی ہے، پاکستانی کلبھوشنوں کو بھی شرعی طورپر تین سال سے زیادہ دیر تک اپنی پتنیوں سے علیحدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ انصاف یکساں ہونا چاہیے۔
ہمیں امید ہے کہ ہمارے قارئین اور ہماری افواج کے ارکان کی اکثریت مسلمان ہے لہٰذا وہ دلائل سے مجھے قائل کردیں یا پھر میری ایک ہی مثال سے قائل ہو جائیں اور دوسری مثالیں دینے پہ مجبور نہ کریں۔ اسلام کو ہم سے متعارف کرانے والی عظیم ترین ہستی کے زمانے میں بھی” کلبھوشن “ موجودتھے، انہوں نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا، آئیے غور کریں۔
اصحاب سیرت نے امام بخاری میں سن 6ہجری میں صلح حدیبہ سے کچھ دیر پہلے وقوع پذیر ہونے والے واقعے کا بیان فرمایا ہے کہ دو قبیلوں کے چند افراد حضور کے حضور پیش ہوکر اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن مدینے کی آب وہوا ان کو بالکل راس نہیں آئی۔ اور وہ شدید ثقاہت کا شکار ہوکر بیمار ہوگئے، آپ نے چند اونٹوں کے ساتھ اُن کو سرکاری اونٹوں کی چراہ گاہ بھیج دیا، اور حکم دیا کہ ان کو اونٹنیوں کا دودھ ہروقت پیش کیا جائے، اور یہ ان کا علاج تجویز فرمایا ۔ جن کے پینے سے ان کی صحت بالکل ٹھیک ہو جائے گی اور واقعی ایسا ہوا، وہ بالکل صحت مند ہوگئے، حضور نے اُن کی خدمت کے لیے اور اُن کی بیماری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مسلمان چرواہا بھی اُن کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ اتنے اونٹ دیکھ کر تندرست اور توانا ہوکر ان کی نیت خراب ہوگئی۔ انہوں نے مسلمان چرواہے کو قتل کردیااور مُرتد ہو گئے اور اونٹ لے کر بھاگ نکلے ان مُرتدوں کو گرفتار کرنے کے لیے آپ نے بیس صحابہ کی جماعت روانہ فرما کر دعا کی اور فرمایا اے اللہ اُن بھاگنے والوں کا راستہ تنگ اور اندھا کردے، اس طرح وہ پکڑ لیے گئے، اور ایک ”مسلمان چرواہے“ کے قتل کے جرم میں اور قصاص کے بدلے کے طورپر ان کے ہاتھ پاﺅں کاٹ دیئے گئے، چونکہ انہوں نے کئی جرائم کیے تھے ، یعنی چوری، مُرتد ہو جانا، اور قتل کردینا ، لہٰذا اُن کی آنکھوں میں بھی گرم سلائیاں پھروا کر ایک میدان کے گوشے میں پھنکوا دیا، جہاں وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے، حضرت انس ؓ کے حوالے سے امام بخاری میں یہ واقعہ درج ہے۔ کہ ایک مسلمان کے قتل کی سزا کیا ہے، ہوسکتا ہے غدار سے بیوی کی یہ آخری ملاقات ہو۔
خدا کا شکر ہے ، ہماری فوج بھی محمد عربی کی فوج ہے، ہماری حکومت بھی مردمسلمان کی ہے، ہماری عدلیہ کے چیف جسٹس بھی ہر فیصلہ ”زادِ راہ“ سمجھ کر کرتے ہیں ….تو پھر ہماری وزارت خارجہ والے کس دین کے ہیں؟ اور کس کے تابع فرمان ہیں؟ کیا اسلام آباد میں اسلام کا راج ہے؟آپ وزیر قانون سے پوچھ کر بتائیں؟ مفکر اسلام علامہ اقبالؒ کو مفکر اسلام اِسی لیے تو کہتے ہیں کہ :
میں نے اے میر سپہ تیری سپہ دیکھی ہے
قل ھواللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام