prof-yousaf-irfan-khann-cop

کشمیر تحریک پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے

قائداعظم کی کشمیر پالیسی واضح اورغیرمبہم ہے قائداعظم متحدہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھتے تھے‘ برطانوی حکومت نے تقسیم ہند کے وقت ہندی ریاستوں کے الحاق کے لئے چند رہنما اصول مرتب کئے‘ بدقسمتی سے جو اصول برطانوی حکومت نے ازخود بنائے‘ ان کی خود پاسداری نہیں کی۔ ریاستوں کے الحاق کا بنیادی رہنما اصول دو قومی نظریہ تھا‘ دو قومی نظریے کے اصولی مؤقف کی بنیاد پر تقسیم ہند عمل میں آئی۔ جس کے نتیجے کے طور پر پاکستان اور بھارت دو آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ ہندوستان کے وہ علاقے جو براہ راست برطانوی راج کے ماتحت تھے وہ نظریاتی تقسیم کے تحت پاکستان اور بھارت کہلائے‘ قائداعظم
علامہ اقبال اور دیگر مسلم قائدین نظریاتی تقسیم کی روشنی میں مسلم اور ہندو/غیر مسلم انڈیا کے الفاظ استعمال کرنے کے خواہاں تھے۔ مسلم اور ہندو انڈیا کے الفاظ دوقومی نظریے کی عملی تفہیم‘ تشریح اور تفسیر ہیں۔ ریاستوں کا دوسرا الحاق اصول اصولِ سرحدی وحدت ہے‘ کشمیر مذکورہ دونوں رہنما اصولوں کی بنیاد پر پاکستان کا حصہ تھا اور ہے۔ کشمیر کے عوام مسلمان اور حکمران غیرمسلم تھے۔ نیز کشمیر کے غیرمسلم حکمران ظالم‘ جابر اور انتہا پسند اسلام دشمن تھے۔ جن کے خلاف نہتے‘ بے بس مگر باایمان مسلمان عوام کی تحریک آزادی تحریک پاکستان کے مساوی چل رہی تھی‘ اسی طرح حیدرآباد دکن کی آبادی غیرمسلم مگر حاکم مسلمان تھے جبکہ حیدرآباد دکن کے حاکم اور مسلم اقلیتی عوام تحریک پاکستان کے بے لوث مجاہد تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی حیدرآباد دکن کے مخلص مسلمان حاکم اور غیر حیدرآبادی مسلم امراء رؤساء نے بھی پاکستان کی بھرپور مالی امداد کی۔ قصہ مختصر پاکستان اور حیدر آباد دکن کی سرحدی یکجہتی نہ ہونے کے باعث قائداعظم نے حیدرآباد دکن کے الحاق کامطالبہ نہیں کیا‘ گو سرحدی یکجہتی مشرقی پاکستان کے ساتھ بھی نہیں تھی مگر مغرب و مشرق کا الحاق اور یکجہتی کی بنیاد مذہبی اور نظریاتی تھی‘ فی الحقیقت قائداعظم کی کشمیر پالیسی کا اول و آخر رہنما اصول نظریاتی اور مذہبی ہے۔ یعنی کشمیر قائداعظم کی قومی و ملی پالیسی کا اصول اور حصول ہے‘ اور قائداعظم مذکورہ مذہبی بنیاد پر کشمیر کے حصول سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہ تھے۔
قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ کہا ہے شہ رگ کا مطلب واضح ہے کہ پاکستان کی جان کشمیر ہے۔ اور کشمیر کے بغیر پاکستان کی سلامتی اور استحکام ناممکن ہے‘ کشمیر کے معاملے میں ڈنڈی برطانیہ‘ بھارت اور اقوام متحدہ نے ماری ہے۔ امریکہ برطانیہ کا عالمی جانشین ہے جبکہ روس اسلام اور پاکستان کا نظریاتی حریف اور بھارت کی حلیف عالمی طاقت تھی اور ہے۔ روس کی طرح امریکہ بھی بھارت کا علانیہ سٹریٹجک حلیف ہے‘ اگر مذکورہ عالمی طاقتوں اور اداروں کی پالیسی کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ
بات اظہر من الشمس ہے کہ عالمی حکمرانوں اور اداروں کا حقیقی دوست اور سرپرست اسرائیل ہے۔ اور اگر ا سرائیل کی سرکاری دستاویزات کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی کشمیر پالیسی کا بنیادی ہدف اسرائیل کا توسیعی دارالحکومت کشمیر ہے۔ یعنی کشمیر ایشیا میں اسرائیل کا سوئٹزر لینڈ ہے‘ علاوہ ازیں قادیانی واشنگٹن اعلامیہ کا نکتہ کشمیر میں قومیتی ریاست Nation State کا قیام ہے۔ امریکی قومیتی ریاستی پالیسی کی بنیاد پر آزاد اور مقبوضہ کشمیر اسلام کی دو ملحد اور مرتد ریاستوں کے ساتھ ہندو کشمیر کا قیام ہے۔ یہ سب کچھ تو عالمی طاقتوں کی پالیسی کا ملخص ہے۔ البتہ قائداعظم اور علامہ اقبال کی پالیسی نظریاتی اورمذہبی ہے‘ پاکستان میں عالمی طاقتوں اور اداروں کے اثرورسوخ کا حال یہ ہے کہ 1965ء تک کارگل پاکستان کا حصہ تھا۔ ستمبر 1965ء کی جنگ کے نتیجے میں کارگل بھارت کے حوالے کر دیا اور اس طرح بھارت کا گلگت‘ بلتستان تک بواسطہ دراس روڈ زمینی رابطہ قائم ہو گیا‘ قبل ازیں بھارت کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دینے کے لئے مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کو بھارت کے حوالے کیا گیا۔ یاد رہے کہ ضلع گورداسپور کی تحصیل اور قصبہ قادیان ہے۔
قائداعظم اور علامہ اقبال کی کشمیر پالیسی جہادی ہے، مذاکراتی یا خیراتی نہیں کہ پاکستان عالمی طاقتوں اور اداروں کے سامنے خیراتی کشکول اٹھا کر کشمیر کی بھیک مانگے۔
خریدیں نہ جب تک یہ اپنے لہو سے
مسلمان کو ہے ننگ وہ پادشاہی!!
کشمیر کی عالمی اور علاقائی اہمیت مسلم ہے۔ کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار‘ تجارتی راہداری اور زراعتی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ یہی وہ رہنما مقاصد تھے جن کی بنیاد پر قائداعظم نے جہادی پالیسی اپنائی۔ جب برطانوی‘ بھارتی گٹھ جوڑ نے الحاق کشمیر کی جعلی دستاویزات تیار کیں اور کشمیر پر ملکیتی قبضے کے لئے بھارتی‘ برطانوی فوجیں داخل کیں تو قائداعظم نے پاکستانی فوجی سربراہ جنرل گریسی کو کشمیر پر فوجی حملے کا حکم دیا‘ جنرل گریسی نے قائداعظم کا حکم نہ مانا اور کہا کہ وہ برطانوی کمانڈران چیف جنرل آکن لیک کے ماتحت ہے۔ اور وہ ان کی اجازت کے بغیر ان کی اور اپنی برطانوی و بھارتی فوج کے خلاف لڑ نہیں سکتا۔ جنرل گریسی کے انکار کے بعد قائد اعظم نے غیور قبائلی عوام کو جہاد کشمیر کا حکم دیا اور قبائلی کشمیری مجاہدین نے موجودہ آزاد کشمیر بشمول مظفر آباد‘ کارگل‘ گلگت‘ بلتستان فتح کر کے حکومت پاکستان کے حوالے کیا۔ مذکورہ مفتوحہ علاقے لاہور‘ کراچی‘ کوئٹہ‘ پشاور کی طرح پاکستان کا حصہ بننا تھے مگر پاکستان کے قادیانی وزیر خارجہ ظفراللہ چودھری نے مذکورہ مفتوحہ علاقوں کو پاکستان کا حصہ قرار دینے کے بجائے علیحدہ اورمتنازع علاقے کے طور پر رکھا‘ آج حملہ آور امریکی اور اقوام متحدہ کشمیر کے مذکراتی حل کے لئے کوشاں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے کشمیر پر تھرڈ آپشن کے نام پر نیم خودمختار کشمیر کی بنیاد رکھ دی ہے۔ تھرڈ آپشن سے قبل کشمیر میں استصواب رائے اس امر پر ہوتا تھا اور ہے کہ کشمیری عوام پاکستان یا بھارت سے الحاق کریں گے۔ تھرڈ آپشن میں کشمیری عوام کو غیرالحاق خودمختار کشمیر کی آپشن دی گئی۔ خود مختار کشمیر عالمی طاقتوں اور اداروں کے مرہون منت ریاست ہو گی جو پاکستان کے لئے خودکشی کے مترادف ہو گی۔ لہٰذا پاکستان کے سول ملٹری اور انتظامی اکابرین سے التماس ہے کہ وہ قائداعظم اور علامہ اقبال کی پالیسی سے سرمو انحراف نہ کریں کشمیر ہے تو پاکستان ہے۔