meer moeed

کراچی سے چکری تک سیاسی منظر نامہ !!!

ملکی سیاسی منظر نامے پر بڑی تبدیلیوں کے سائے منڈلا رہے ہیں اس تناظر میں بڑے واقعات کا جائزہ پیش خدمت ہے۔ چوہدری نثار نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مریم نواز کے نیچے کام نہیں کر سکتے۔ ڈان لیکس کے معاملے کو وہ کامیابی سے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار کی دھڑلے کی سیاست دھڑے بازی کی سیاست میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وہ شہباز شریف کی زبان بول رہے ہیں۔ شہباز شریف جو بات مریم نواز کے حوالے سے خود نہیں کرتے وہ چوہدری نثار کرتے ہیں لیکن ایسا بہت دیر تک نہیں چلے گا کچھ ہفتوں کی بات ہے یا تو پرویز رشید مریم نواز اور ان کی ٹیم کا پکا بندوبست ہو جائے گا یا پھر چوہدری نثار اپنے حواری دھڑے کے ساتھ ن لیگ سے علیحدہ ہو جائیں گے دونوں صورتوں میں چوہدری نثار کا نقصان کم اور ن لیگ کا نقصان زیادہ ہوگا۔ چوہدری نثار کابینہ سے علیحدہ ہونے کے بعد مریم نواز اور پرویز رشید
گروپ کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ نواز شریف نے انھیں نظر انداز کردیا ہے لیکن ن لیگ انھیں فراموش نہیں کرسکتی۔ انتخابات سر پر ہیں اور چوہدری نثار بڑے بڑوں کے سروں پر لٹکتی تلوار ہیں۔ اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ چوہدری نثار کے موجودہ دور حکومت میں میاں نواز شریف سے کیا اختلافات ہیں ؟ چوہدری نثارنواز شریف کی عدلیہ کے خلاف مجھے کیوں نکالا تحریک سے لیکر اور فوج کے خلاف اختیار کی گئی ہرزہ سرائی اور ٹکراؤ کی پالیسی پر ن لیگ کی اعلیٰ قیادت سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ شدید نوعیت کے ان اختلافات کے علاوہ ن لیگ کے موجودہ دور میں چوہدری نثار نواز شریف سے جن اختلافات کی وجہ سے زیر عتاب رہے وہ مشرف کے ملک سے باہر جانے ، طالبان سے مذاکرات ، پیپلز پارٹی میں کرپشن میں ملوث شخصیات کے حوالے سے فیصلے ، کراچی میں رینجرز کے اختیارات ،اچکزئی جیسے سیاستدانوں پر تنقید اور بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے حوالے سے غیرمصلحت پسندانہ بے باک گفتگو کرنے کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کے لیے طریقہ کار کے حوالے سے اختلاف کرنا اور اس کا پارٹی میں کھل کر اظہار کرنا ہے ۔
چوہدری نثار کا مریم نواز کے نیچے کام کرنے کا عندیہ دینا کوئی اچنبھے کی بات نہیں وہ وزیر اعظم کی بیماری کے دوران اسحاق ڈار کی سربراہی میں کابینہ میں بیٹھنے سے انکار بھی کر چکے ہیں۔ یہ وہ تمام اختلافات ہیں جو چوہدری نثار کو شہباز شریف کے قریب کرتے ہیں جبکہ یہی وہ پھانس ہے جو نواز شریف ، مریم نواز ، پرویز رشید اور احسن اقبال کے گلے میں چبھ رہی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ چوہدری صاحب اپنے مستقبل کا کیا فیصلہ کریں گے یہ اہم معاملہ ہے۔ اس سے ملکی سیاست سے کئی ایک کی بساط لپٹ جائے گی اورخود چوہدری نثار وزیر اعظم بنیں یا نہ بنیں اگلا وزیر اعظم وہ نہیں بنے گا جس کی چوہدری نثار مخالفت کریں گے۔
دوسری طرف ایم کیوایم دھڑے بندی کا شکار ہے پاکستان کی سب سے منظم زبان جس نے کراچی پر راج کیا آج پانچ دھڑوں میں منقسم ہوچکی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا مستقبل کیا ہے ، ماضی کی کئی وفاقی حکومتوں کی طرح ن لیگ کیا فائدہ اٹھا سکتی ہے تحریک انصاف اور پاک سرزمین پارٹی موجودہ صورت حال میں کراچی میں کہاں کھڑے ہیں اور پیپلزپارٹی کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟؟ ان سوالوں کا ایم کیو ایم کی تاریخ کے پس منظر کو پیش منظر سے جوڑ کردیکھیں تومستقبل کی ممکنہ صورت حال سمجھی جا سکتی ہے اس کیلئے تاریخ سے سرسری واسطہ تعلق جوڑتے ہیں اس سیاسی جماعت کی بنیاد کراچی یونیورسٹی میں قائم ہونے والی ایک طالبہ تنظیم “آل پاکستان مہاجر طلبہ تنظیم” سے پڑی۔ یہ سٹوڈنٹ فیڈریشن 1978ء میں الطاف حسین نے بنائی جو کراچی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ اسی طلبہ تنظیم نے مارچ1984ء میں مہاجر قومی موومنٹ کی شکل اختیار
کرلی۔ انہوں نے ایک ترقی پسند، لبرل اور سیکولر منشور کو اپنا نصب العین بنایا۔ 1992ء سے 1999 ء کے دوران ایم کیو ایم کے خلاف پہلا باقاعدہ فوجی آپریشن کیا گیا۔ اس کی وجہ اس جماعت پر لسانی فسادات ، بھتہ خوری ، ڈیتھ اسکاڈ کے زریعے منظم طریقے سے عوام میں خوف و حراس پیدا کرکے سیاسی اور معاشی فائدے اٹھانا وغیرہ تھا۔ 1997ء میں مہاجر قومی موومنٹ نے اپنا نام تبدیل کر کے لفظ مہاجر کی جگہ متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا تاکہ مہاجروں کے علاوہ بھی باقی محکوم طبقوں کی آواز بن سکے۔ الطاف حسین 1992ء میں پاکستان سے لندن گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ 23 سال سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے کے باوجود اس جماعت پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ یہاں تک کہ مارچ1984ء میں ایم کیو ایم کے تشکیلی سال کے دوران کراچی میں نسلی فسادات سے لے کر 23 اگست 2016 ء کو پاکستان مخالف نعرے اور اپنے کارکنان کو اشتعال دلا کر فدائی حملے کرنے کیلئے اکسانے تک کے دوران کونسے جرائم ہیں جس کے الزامات الطاف حسین پر نہ لگے ہوں پہلے فوجی آپریشن کے دوران ایم کیو
ایم کے ٹارچر سیل اورخفیہ قبریں تک دریافت ہوئیں لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا کئی رہنما ملک سے باہر چلے گئے ۔
19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے دودھڑے ہو گئے اور حقیقی بنائی گئی مگر تجربہ زیادہ کامیاب نہ ہوا۔ 3مارچ 2015ء کو پی ایس پی بنی، 23 اگست 2016ء کو ایم کیوایم پاکستان جبکہ 5 فروری کو بہادر آباد میں موجود ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اور پی آئی بی میں موجود فاروق ستار میں اختلاف پیدا ہونے پر ایک واضح خلیج کی صورت میں ایک اور دھڑا پیدا ہوا جسے فاروق ستار نے حقیقی ٹو کا نام دیا اور رابطہ کمیٹی کو تحلیل کردیا جبکہ رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو پارٹی آئین میں انہیں اعتماد میں لیے بغیر تبدیلی اور اپنی مرضی کے افراد کو سینٹ کی ٹکٹ جاری کرنے پر نہ صرف سینٹ کی ٹکٹوں کو پھر سے مشاورت کے ساتھ جاری کیا بلکہ فاروق ستار کو کنوینرشپ سے ہٹانے کا اعلان کردیا۔ ایم کیوایم کے پانچ دھڑوں میں بٹے کارکنان سراپا سوال ہیں کہ آخر پانچ دھڑوں میں بٹی اس جماعت اور کراچی کی سیاست کا مستقبل آخرہے کیا؟
ایک تو یہ کہ ماضی میں پیپلزپارٹی دو ضمنی انتخابات میں ایم کیوایم سے دو نشستوں کو چھین چکی ہے۔ لیاری میں تحریک انصاف کی بجائے لوکل باڈی انتخابات میں ن لیگ نے پانچ یوسی اپنے نام کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ لیکن سینٹر میں ن لیگ کی حکومت اور صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتے یہ ممکن تھا اب عام انتخابات میں یا تو پتنگیں کٹ کٹ کر پی ایس پی کی جھولی میں گرتی رہیں گی اور پی ایس پی مہاجروں کی سب سے قوی آواز بن کر سامنے آئے گی۔ عام کارکن سے اگر کراچی کی گلیوں میں سروے کریں تو چونکہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں لوگوں نے فاروق ستار کو ہی رہنما کے طور پر دیکھا ہے تو عام لوگ فاروق ستار کو کراچی کی سیاست سے آؤٹ ہوتا تو نہیں دیکھ رہے مگر پی آئی بی میں بلایا جانے والا کارکنوں کے کنونشن میں کارکنوں کی انتہائی کم تعداد فاروق ستار کی مقبولیت میں واضح کمی کا اشارہ دیتی ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے پیپلزپارٹی کا حکومت میں ہونا کراچی میں آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کے خلاف فیصلہ لا سکتا ہے کیونکہ مہاجر کسی طور پیپلزپارٹی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ گویا یاتو ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی کی طرح کے کسی اور شخص کے نام کے ساتھ منظم ہو جائے گی یا پھر مصطفی ٰ کمال کراچی کی سیاست میں بڑا حصہ پا لیں گے گویا پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا معرکہ مارنا مشکل جبکہ تحریک انصاف کے حق میں فضا بن سکتی ہے مگر اس کے لیے تحریک انصاف کو خود مصطفیٰ کمال کا ساتھ چاہئے۔