Khalid Memood

کبھی آؤ نا بلوچستان

ان دنوں بلوچستان کے حوالہ سے ایک مہم عالمی میڈیا کا حصہ ہے رقبہ کے اعتبار سے بڑے اور معدنیات سے مالا مالا مال صوبہ کی علیحدگی کے تناظر میں پہلے سوئزر لینڈ اور اب برطانیہ میں اشتہار بازی ان نادیدہ قوتوں کی نشاندہی کرتی ہے جنہیں بلوچستان میں تو کوئی گھاس نہیں ڈالتا لیکن وہ خبث باطن کی تسکین کیلئے دوسروں کی آلہ کار بن کر غیر ضروری صلاحیتیں صرف کرتے ہوئے گمراہی پیدا کرنے کی بھونڈی کاوش میں مصروف ہیں اگرچہ ہماری وزارت خارجہ نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ممالک کے ذمہ داران کے نام احتجاجی سرکاری مراسلہ جاری کیا ہے لیکن فی زمانہ اس طرز کی ’’ شراوت ‘‘ کا مقصد بلوچستان کے نوجوانان کی توجہ حاصل کرنا ہے جو اس وقت ترقی کے سفر پر گزمزن ہیں۔ ماہرین اس کے ڈانڈے سی پیک سے ملاتے ہیں جس سے بلوچستان کی ابدی ترقی کے دھارے پھوٹنے کے روشن امکانات ہیں گمان ہے کہ یہ ڈویلپمنٹ ’’ را ‘‘ کو ہضم نہیں ہورہی جو اپنے ملک بھارت میں پچپن سے زائد مسلح علیحدگی پسند تحریکوں کو روکنے میں بُری طرح ناکام ہے۔ برطانیہ میں اس سازش کی سمجھ نہیں آتی تاج برطانیہ کے ناتواں کندھوں پے تو ابھی تک کشمیر کا قرض باقی ہے جو لارڈ مونٹ بیٹن کی کھلی اور تاریخی ناانصافی کی بدولت تقسیم ہند کا مستقل متنازعہ اور تاحال حل طلب مسئلہ ہے۔
راقم کو قریباً دس سال قبل بلوچستان کی خوبصورت سرزمین دیکھنے کا موقع ملا۔ حلقہ احباب میں سے دیرینہ رفیق پروفیسر محمد طارق خاں نے برادرم ڈاکٹر جاوید اصغر کے ہمراہ مدعو کیا وہ گورنمنٹ سویڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گجرات کے طلباء کے ساتھ مطالعاتی دورہ پے روانہ ہوئے ملتان سے ہم نے بھی رخت سفر باندھا ۔ سب پہنچ کر روایتی لذیذ دال اسٹیشن پر کھانے کا اتفاق ہوا وہاں سے دو انجن ٹرین کو کوئٹہ اسٹیشن پر لانے میں کامیاب رہے۔ تاریخی اسٹیشن دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ہمارا قیام سریاب روڈ پر ہوٹل میں تھا پنجاب سے جانے والے یہ طلباء کوئٹہ شہر میں پھیل گئے شاپنگ کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ر ہے۔ ہفتہ بھر قیام کے دوران پاک افغان چمن بارڈر دیکھنے کا موقع ملا کوئٹہ سے بذریعہ ٹرین سفر کیا واپسی پر زیارت کی راہ کی جس سے بانی پاکستان کے آخری ایام میں زیارت قیام کی یادیں تازہ ہوگئیں ،خوبصورت پر فضا مقام ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے بعدازں حنا جھیل کا رُخ کیا فطری اور قدرتی طور پر یہ جھیل پاکستان کے حسین مقامات سے شامل ہے پاک فضائیہ کا بیس سمگلی مطالعاتی دورہ کا حصہ تھا۔ برادرم جاوید اصغر کے ساتھ بلوچستان یونیورسٹی میں قدم رکھا شعبہ اردو کی چیئر پرسن سے شرف ملاقات حاصل کیا مختلف شعبہ جات دیکھے مطالعاتی دورہ کے شرکاء طلبانے جی بھر کر سیروتفریح کی۔ بلوچستان کی سرزمین انتہائی خوبصورت ہے سیب، انگور ،انارکے باغات دیدہ زیب تھے قدرتی چشمے اور کاریز میں بہتا پانی خوبصورت خاموش ماحول میں نئی موسیقیت پیدا کررہا تھا ۔معدنیات سے مزین سنگلاخ چٹانیں اپنی مثال آپ تھیں وہاں قیام کے دوران نہ تو اجنبیت کا احساس ہوا نہ ہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ یو ں بہت سی خوبصورت یادیں سمیٹ کر ہم واپس پنجاب لوٹے جنہیں تازہ کرکے روحانی خوشی ہوتی ہے لیکن وہاں سے آنے والی بدامنی کے خبر ہمارے دل کے لئے ملال کا باعث ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ ایسا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیا جارہا ہے اور چھوٹی سی خبر کو بڑا کرکے پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہاں کے سماج اور افراد کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا جائے اور اس سرزمین کے باسیوں دہلی بلوچستان سے شعوری طور پر فاصلے پے رکھنے کی دانستہ کاوش کیجائے جبکہ زمینی حقائق اس سے بہت مختلف ہیں بلوچستان کے عوام کی غالب اکثریت پر امن ہے اور ترقی کے خواہاں ہیں۔
14اگست2015ء دو سال قبل وجود میں آنے والی اک تنظیم “BNATION” کے ان نوجوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اسکی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کا مقصد بلوچستان میں ٹوارزم کو ترقی دینا اور بلوچستان کے حوالہ سے جاری منفی پروپیگنڈہ کو زائل کرنا سیاحوں کو مدعو کرنا اور پرامن بلوچستان کے پیغام کو عام کرنا ہے اسکے ابتدائی ممبران میں یاسر بلوچ اور عمران شامل ہیں جنہوں نے ہزاروں میل کا سفر گروپ کی شکل میں بذریعہ بائیک کیا اور ان دشوار راستوں کا انتخاب کیا جن پے عمومی افراد سفر کرنے سے خوف کھاتے ہیں وہ حضرت پیر غائب کے اُس مقام تک بھی پہنچے جو کبھی اغواء کاروں کا مرکز تھا جہاں اغواء برائے تاوان کیلئے افراد رکھے جاتے تھے اب سینکڑوں افراد اس مقام کی روزانہ سیر کرتے ہیں انہوں نے اپنی ویڈیوز میں دلبندین کا وہ ریلوے اسٹیشن بھی دکھا یا جو گارے سے 1890ء میں قائم ہواتھا۔ اپنے تفریحی و مطالعاتی دورہ کے دوران ان نوجوانان نے بہت سے مقامات پے پاکستان پرچم لہرایا اور مقامی افراد سے بات چیت کی جسکو سوشل میڈیا پے ویڈیوز کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے دوران گفتگو انہوں نے اس تاثر کو قطعی غلط قرار دیا کہ بلوچ کے علاوہ کسی غیر بلوچ کو ہراساں کیا جاتا یا دوسرے صوبہ کی گاڑی کو روک کر مشکلا ت پیدا کی جاتی ہیں۔ بلوچستان کی ہی سرزمین سے نوجوانوں نے ٹوارزم کی ترقی کیلئے بائیک کا سفر کرکے ان مقامات کو نمایا ں کیا جو قابل دید ہیں غالباً اب تلک ہمارے میڈیا کی آنکھ سے بھی اوجھل ہیں۔انہوں نے ’’کبھی آؤ نا بلوچستان ‘‘ کے سلوگن کو تخلیق کرکے اہل وطن کو اپنے صوبہ کی سیر کی دعوت دی ہے۔اگر یہ چند نوجوان بغیر کسی سرکاری مشینری کے وساطت سے اپنی مدد آپ کے تحت اور جذبہ حب الوطنی کے تحت یہ صحت مندانہ اور مثبت سرگرمی انجام دے سکتے ہیں تو میڈیا اس سرگرمی کو نمایاں کیوں نہیں کرتا۔ تنظیم کے بانی رکن محمد سکندر نے راقم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکوہ ہے کہ تنظیم کے موٹو کو فروغ دینے میں میڈیا تعاون نہیں کررہا ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تنظیم کے موٹو کو فروغ دے کر ٹوارزم کو تر قی دی جائے اور ملک بھر سے سیاحوں کو سہولیات فراہم کرکے ناصرف بلوچستان کے حوالہ سے منفی پروپیگنڈہ کو زائل کی جائے بلکہ صوبہ کی عوام کو اہل پاکستان کے قریب کرنے کی سعی کی جائے۔ بلوچستان کے نوجوانان اس کارخیر میں بھرپور شرکت کرکے چند شر پسند عناصر کے عزائم کو ناکام بنا کر ترقی کا نیا باب کھول سکتے ہیں جس کا راستہ سی پیک کی تکمیل اور خوشحالی کی طرف جاتا ہے۔