Jameel-Farooqi

کاش ہمارے حکمران زندہ ضمیر ہوتے

سگ مندر ڈیویو(Sigmundur Davio)بحرِاوقیانوس کے شمال میں واقع ایک جزیرہ نما ساحلی ملک آئس لینڈ کے پچیسیوں اور دنیا کے سب سے کم عمر ترین وزیر اعظم تھے۔ بھاری جسامت ، درمیانے قد ، ذہین دماغ اور ریاضی پرعبور کی وجہ سے انہیں بچپن سے ہی دوسرے ہم جماعتوں پر سبقت حاصل تھی۔ چالیں چلنے کے ماہر سگ مندر شطرنج کی میز پر دوستوں کے ساتھ کھیلنے بیٹھتے توکسی کو کامیابی کے قریب تک نہ بھٹکنے دیتے ۔۔۔ الغرض عملی شکست سے دُور۔۔۔ لفظ ’شکست‘ تک سے نا آشنا ۔۔۔سگ مندر۔۔۔بزنس ایڈمنسٹریشن کے میدان میں علمی معرکہ مارنے کے بعد جب عملی زندگی کی طرف آئے تو اسے بھی شطرنج کی میز سمجھ کر طبع آزمائی کرنے لگے، خاندانی طور پر سیاستدان ہونے کی وجہ سے صحافت کے سات سالہ کیرئیر میں انہوں نے میڈیا سے نبردآزما ہونا تو سیکھا ہی تھا ساتھ ہی ساتھ لوگوں کو کس طرح متاثر کرنا ہے یہ بھی سیکھ گئے، دنیا نے پہلی مرتبہ آئس لینڈ کے ایک ایسے نوجوان رکن پارلیمنٹ کا سیاست میں عروج InDefence نامی تحریک کے ذریعے دیکھا جس کا مقصد ہی لُوٹی ہوئی رقم کو
واپس لاکر بینکوں کو قرضے سے نجات دلانا تھا، 2008ء سے 2011ء تک شدید معاشی بحران میں گھرے آئس لینڈ کو اس تحریک کے ذریعے دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن معیشت پر عبور کی وجہ سے انہوں نے آئس لینڈ کے تین بڑے بینکوں کی نجکاری کرتے ہوئے معیشت کو سنبھالا اور ایک منجھے ہوئے سیاست دان کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔ وقت گزرتا گیا اور سگ مندر لوگوں کے دلوں پر راج کرتا گیا۔ ان کے والد ’ گُن لاگرایم سگ منڈ سن‘ (Gunnlagur M. Sigmundsson)بھی رکن پارلیمنٹ رہ چکے تھے اس لئے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا سگ مندر کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ اب اتنا ذہین شخص جو ملک کو اتنے بڑے معاشی بحران سے بچا سکتا تھا اپنے فائدے کے لئے کچھ نہ کرتا یہ کیسے ہو سکتا تھا ۔سو سیاسی شطرنج کی چال چلتے ہوئے بلا کی مہارت رکھنے والے سگ مندر نے اس معاشی بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے والے ایک بینک کے پچاس فیصد شیئرز اپنے نام کر کے ونٹرس (Wintris)نام کی ایک کمپنی کھول لی ۔ لوگ اپنے نوجوان سیاست دان پر بھرپور اعتماد کرتے تھے اس لئے یہ راز بس راز ہی رہا ۔۔۔ اپنی بڑھتی ہوئی پذیرائی اور مقبولیت کی وجہ سے پروگریسو پارٹی کے بینر تلے سگ مندر کو آئس لینڈ کے عوام نے 23مئی 2013ء کو رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم کی مسند پر بٹھا دیا ، بہترین معاشی پالیسیوں اور نوجوان دوست ہونے کی وجہ سے سگ مندر کو نوجوان حلقوں میں خاصی پذیرائی ملتی تھی۔ ونٹرس نامی کمپنی کے بارے میں موصوف نے مؤقف طے کر رکھا تھا کہ اگر کبھی بات نکلی تو بتایا جائے گا کہ انہوں نے یہ کمپنی اپنے صحافتی کیرئیر اور اپنی بیگم عینا سگرلاگ (Anna Sigurlaug) کے ساتھ نصف شیئرز کی شرح پر بنائی ہے اور اس کا ان کی سیاست اور وزارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔ لیکن خدا نے جب لوگوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بونا ہوتا ہے تو بڑے بڑوں کی بساط پلٹا کھا جاتی ہے ،بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں ، بڑی بڑی چالیں فیل ہو جاتی ہیں ۔۔۔ آئس لینڈ کے نوجوان وزیر اعظم کے ساتھ بھی یہی ہوا، اپریل 2016ء کو آئی سی آئی جے (ICIJ)کی جانب سے جاری ہونے والی پانامہ لیکس میں جب وینٹرس نامی آف شو ر کمپنی کا نام آیا تو آئس لینڈ میں بھونچال مچ گیا ،نوجوان وزیر اعظم کی بدعنوانی کو بچانے کی سب تدبیریں الٹی پڑ گئیں ، پانامہ لیکس کے ایک ہفتے بعد ایک سویڈش چینل ایس وی ٹی (SVT)کے ایک تحقیقاتی شو میں جب میزبان نے سگ مندر سے وینٹرس نامی کمپنی سے متعلق سوال کیا تو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام معلومات حکومت کو دے دی ہیں لیکن صحافی کے بارہا اصرار کی وجہ سے انہیں لائیو انٹرویو کو چھوڑ کر جانے کی ہزیمت برداشت کرنا پڑی۔ اور یہی ان کی بدعنوانی کے اقرار اور ان کے زوال کی ابتدا تھی، اس انٹرویو کے بعدوزیر اعظم سگ مندر اور ان اہلیہ نے باقاعدہ احتجاج کیا کہ ان کی نجی زندگی سے متعلق سوال کرنا بالکل ناجائز ہے۔۔۔لیکن اب طوفان تھمنے والا نہیں تھا ، اب بات صرف انٹر ویو تک محدود نہیں تھی ، اب گیند عوام کے کورٹ میں تھی ۔۔۔یہاں مجھے کیوں نکالا کا تو سوال نہیں تھا پر نکالے جانے یا شرمند گی سے نکلنے کا خوف ضرور تھا، اور پھر یہی ہوا4اپریل 2016ء کو بائیس سے چوبیس ہزار افراد جو مجموعی طور پر آئس لینڈ کی کل آبادی کا آٹھ فیصد بنتے ہیں اپنے مبینہ بدعنوان وزیر اعظم کے خلاف نکل کھڑے ہوئے ، لگ بھگ پچیس ہزار افراد نے آئس لینڈ کی پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر لیا ،آن کی آن میں آئس لینڈ کی سیاست کی بساط الٹ گئی اوربالآخر دنیا کے سب سے کم ترین عمر وزیر اعظم کو بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی پاداش میں اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا، معاملہ محض بدعنوانی کا ہی نہیں اخلاقیات کا بھی ہے ۔۔۔معزز قارئین ! اپنی نوعیت کا یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں ، پانامہ لیکس سے پہلے اور بعد میں اس طرح کے درجنوں واقعات ہو چکے ہیں جس میں عوامی یا اخلاقی دباؤ کے زیر اثر بڑی بڑی شخصیات کو اپنے بڑے بڑے عہدوں کو اللہ حافظ کہنا پڑا ہے جن میں سابق فرانسیسی وزیربجٹ ایرومے کاوزیک (Jerome Cahuzac)مالٹا کے وزیر صحت و توانائی کونارڈ مزی(Konard Mizzi) ، آرمینیاکے میجر جنرل آف جسٹس مہران پوگھوسیان(Mihran Poghosiyan) ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چلی کی برانچ کے سربراہ، سپین کے وزیر صنعت جوسے مینوئل سوریا (Jose Manuel Soria) اور سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر آف شور کمپنیوں یا بدعنوانیوں کے الزامات تھے، ان کے ملک کی کسی عدالت میں ان کے خلاف کیس نہیں چلا ۔۔۔یا۔۔۔ ان کے ملک کی کسی عدالت نے ان کے خلاف احتساب کرنے کا فیصلہ نہیں سنایا ، عوامی یا اخلاقی دباؤ تھا جس کی وجہ سے انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا،ایک طرف آئس لینڈ ہے تو دوسری طرف ہمارا ملک پاکستان ہے جہاں حکمران ،عوام کا پیسہ ڈھٹائی سے لوٹ رہے ہیں اور لوٹتے چلے جا رہے ہیں ، جہاں اخلاقیات تو درکنار عدالتی فیصلوں کا احترام بھی بادل ناخواستہ کیا جاتا ہے اور ایسے میں سلام ہے رعونیت اور فرعونیت کے زعم میں اٹے ہمارے سابق وزیر اعظم اور ان کے خاندان کو۔۔۔ جن کے خلاف فرد جرم عائد ہو چکی ، عوام نے دھرنوں اور احتجاج کے سینکڑے مکمل کر لئے ، سوشل میڈیا سے لے کر برق رفتار میڈیا سب چیخ چیخ کے تھک گئے ، معزز ججوں نے اپنے فیصلے سنا دئیے ، عوام رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں ،ماتم کر رہے ہیں ، دوسری طرف صحت کی سہولت نہیں ، پینے کو صاف پانی ، سانس لینے کو صاف آکسیجن نہیں ، غریب غریب سے غریب تر اور امیر ، امیر سے امیر ترہیں ۔۔۔جو غریبی سے مر گئے سو مر گئے جو بچ گئے وہ تھک چکے لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ اپنی ڈگڈگی پر عوامی بندر کا تماشا کر تے نہیں تھکتے۔۔۔ ہمارے ہاں سیاست دانوں کی مثال ان گِدھوں جیسی ہے جو غربت اور جہالت میں دھنسے لوگوں کے مردہ جسموں کو نوچ نوچ کے اپنے بینک اکاؤنٹس کا ایندھن توپورا کرتے ہیں لیکن عوام کا نہیں سوچتے،عوام اُن کے لئے ایک بے یارو مددگار طوائف کی
مانند ہیں جن سے کھنکتے گھنگھروں پر دھمالیں کروانا انہی کا شیوہ ہے ، ہمارے ہاں لاچاری اور بے بسی کی ماری قوم کی جیبوں سے ٹیکسوں کے نام پر لوٹ مار کر کے اپنی جیبیں بھرنے کا دوسرا نام ہی تو حکومت ہے ورنہ پارلیمان کے اندر اور باہر ’ مجھے کیوں نکالا ‘ کا پرچار کرنے والوں میں اگر ذرہ برابر بھی اخلاقیات ہو تو وہ اپنی بدعنوانیوں اور بے ایمانیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے کرپشن کی بدبو میں سڑے اپنے برہنہ جسموں کو ۔۔۔ بچی کھچی عزت اور آبرو کی چادر میں ڈھانپتے لیکن یہاں تو ایک ہی رٹ ہے کہ پاکستانیو ! مجھے سزا دی نہیں جارہی ، دلوائی جا رہی ہے ۔۔۔ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے ۔۔۔ میں نہیں جاؤں گا ۔۔۔ مجھے کیوں نکالا ۔۔۔ میرے پاکستانیو! مجھے بچا لو! اب بس بھی کر دیں میاں صاحب ،آپ نے بہت پیسہ بنا لیا ، کچھ اس عوا م کا ہی سوچ لیں جو بیس کروڑ گدھوں کی مانند اپنی باری یعنی عہد ماضی پر مبنی سہولتوں اور وعدوں کے وفا ہونے کے منتظر ہیں ۔ورنہ ہمارے دلوں سے تو بس کاش کا لفظ نکلتا ہے کہ کاش ہمارے عوام اور حکمرانوں کے پاس آئس لینڈکے حکمرانوں اور عوام جیسا زندہ ضمیر ہوتا تو شاید یہ ملک بھی اخلاقی طور پر امیر ہوتا ۔۔۔