nawaz-khan-meranii-new-copy

کاش …. خواجہ آصف کو چار سال پہلے وزیر خارجہ بنایا ہوتا

دانشور کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دنیا میں سخت چیز کوئی نہیں کہ دنیا میں تمہارا کوئی دشمن ہو، ہم چونکہ فرماںبردار قوم ہیں لہٰذا ستر سال سے مشرقی و مغربی سرحدوں پہ سرحدی دہشت گردی اور دشمنی کو بھی دوستی کی طرح نبھاتے چلے آرہے ہیں۔
ستر سال کا عرصہ ایک طرف حالیہ” ٹرمپ“ کا عرصہ صدارت ایک طرف جس کے بارے میں اس کے اپنے سیکرٹری داخلہ کہتے ہیں کہ ”ٹرمپ بے وقوف آدمی ہے“ اس بات کی صدقت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ چار بر صغیروں میں ”مودی “ ہی اس کا یار ہے، دونوں حکمرانوں پر آئے دن خواتین الزام لگاتی ہیں کہ یہ ہمارے شوہر ہیں، اور اصل میں خاتون اول ہم ہی ہیں۔ عالمی تناظر پہ تو اتر سے نظر رکھنے والے یہی کہتے ہیں کہ شام میں خون ریزی ، روس اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی روز بروز مخاصمت، افغانستان ، عراق، لیبیا، وینزویلہ، شمالی کوریا، اور بیک وقت ایران کو دونوں خود مختار ملکوں پہ اپنی مرضی کی شرائط عائد کرنے کی دھمکیاں حتیٰ کہ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ شمالی کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کیلئے صرف ایک ہی ہتھیار کافی ہے۔
ادھر مودی نے یہ کہا ہے کہ” اس کے منہ میں خاک“ پاکستان کو ہم سال کے اندر اندر چار حصوں میں تقسیم کر دیں گے۔ ہمیں اب تک گلہ تھا کہ بھارت پاکستان کو تسلیم نہیں کرتا، مگر ہم نے خود مشاہدہ کر لیا ہے کہ مودی صرف (1947ئ) کی ہماری آزادی کو دل سے تسلیم نہیں کرتا…. مگر وہ تو (1971ئ) کی آزادی کو صرف دل سے ہی نہیں بلکہ اپنی جان سے تسلیم کرتا ہے اور کراتا بھی ہے۔
قارئین آپ کو بھی شاید یاد ہو کہ کئی سال پہلے امریکہ نے ایک ”منحوس نقشہ “ بنا کر اسے تقسیم کرایا تھا۔ جس میں پاکستان کو دنیا کے نقشے سے ”خاکم بدہن “غائب کر دیا تھا ، مودی یہودی حاکم سے مل کر اسی منصوبے پر عمل کرنے پر عمل پیرا ہے۔
اب جب ٹرمپ نے افغان مسئلے کو ”ایشو “ اور ”نازک صورت حال“ قرار دے کر پاکستان کو دھمکیاں دینی شروع کی ہیں۔ اور ٹرمپ کا بیان بہ زبان بھارت ہے۔ اب آپ خود ہی غیر جانبدار ہو کر سوچیں کہ ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کا دورہ کیا، اور وہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ ، اور میڈیا کے لوگوں سے جو گفت و شنید کی وہ آپ کسی بھی طرح سوشل میڈیا پہ ضرور دیکھیں ، کیونکہ ان کا ایک ایک لفظ سونے میں تولنے والا ہے، آپ کو یاد ہوگا میں نے کچھ دن قبل وزیرِ خزانہ محمد اسحاق ڈار کے خلاف شدید ترین الفاظ میں کالم لکھا تھا مگر اب خواجہ آصف کے حق میں اپنے دل کی گہرائیوں سے لکھ رہا ہوں۔ صرف اس لئے کہ کلمہ حق یہی ہے اور بقول عطاالرحمن صاحب، ”صحافتی دیانتداری“بھی یہی ہے کہ آپ دیانت داری سے اپنی رائے کا اظہار کریں۔ امریکہ پہنچ کر خواجہ آصف کا اعتماد قابلِ ستائش تھا، جو ہم نے آج تک اپنے کسی حکمران میں بھی نہیں دیکھا۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایران کے شیخ سعدی ؒ کا قول بھی سن لیں ۔ اے عقلمند ایسے دوست سے ہاتھ دھو لو ، جو تمہارے دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہو۔ اور دوسرے دانا یہ بھی کہتے ہیں کہ جو اپنے دوستوں کی ہر خطا پر عتاب کرے اس کے دشمن بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔ خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ بھارت میں باقاعدہ رجسٹرڈ دہشت گرد تنظیمیں جو اُس کے ہر صوبے میں پھیلی ہوئی ہیں اُن کی تعداد 62 ہے، اور ایشیا میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان میں صرف چار کالعدم تنظیمیں ہیں جن پر سرکاری طور پر پابندی ہے۔
بھارت اپنے ناجائز پروپیگنڈے کی بدولت بلکہ واویلا کر کے دنیا کی توجہ خاص طور پر کشمیر میں اور افغانستان میں دخل اندازی اور دہشت گردی کر کے بھی دنیا کے آتش فشانی مسائل سے ہٹانے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔
راقم کا خیال ہے کہ مدتوں بعد پہلی دفعہ سیاسی و عسکری قیادت مکمل طور پر متحد ہے جس کی بنا پر وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت دوسرے سر کردہ شخصیات کے بیانات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ مثلاً پاکستانی مستقل مندوب ملیحہ لودھی اقوام متحدہ ، میں اقوام عالم کا ضمیر جھنجھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کا کوئی ملک بھی دہشت گردی کی لعنت سے پاک نہیں حتیٰ کہ دنیا کی سپر پاور امریکہ کی ریاست لاس ویگاس میں ایک میوزک کنسرٹ میں حملہ کر کے تقریباً 60 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ امریکہ کی دو عملی دیکھئے گا۔ اگر مارنے والا کوئی مسلمان ہو گا، تو اس پر دہشتگردی کا لیبل لگا دیا جائے گا۔ اور اگر امریکی یا یورپ کا کوئی باشندہ ہوگا ، تو اسے Shooter کہا جائے گا۔دہشتگردی کے خلاف کون کامیاب ہوا؟ سوائے ہمارے ملک کے کوئی فاتح نہیں ہے۔ دہشت گردی کا نشانہ بھی صرف پاکستان ہی بنا ہے۔ جس کی بنا پر ہمارے ہزاروں شہری اور فوجی شہید ہوئے ہیں۔
فرانسیسی تو امریکہ کے حکمرانوں سے زیادہ عقل مند نکلے۔ جنہوں نے بڑی عقلمندی سے ویت نام میں ہاری ہوئی جنگ خاموشی سے امریکہ کو منتقل کر دی۔ اور امریکہ ویت نام کی جنگ ہار گیا۔ ہم سولہ سال سے امریکہ کی شاطرانہ طریقے سے ہم پر مسلط کردہ جنگ بڑی کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ امریکہ نے روس کے خلاف ہمیں بڑی کامیابی سے استعمال کیا، ہماری ہی مزاحمت اور جنگی صلاحیت کی بدولت روس ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، مگر اس کے اعتراف میں ہمیں امریکہ نے کیا دیا؟ امریکہ نے دہشت گردوں کے خلاف F-16 استعمال کیا، مگر اس نے اگر ایک دہشت گرد کو نشانہ بنایا، تو درجنوں بے قصور شہری مار دیے۔ جبکہ ہم نے F-16 استعمال کر کے صرف دہشت گرد ہی مارے ہیں۔ امریکہ اگر واقعی دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتا ہے تو ہماری مدد کرتا مگر اس نے تو معاہدہ کرنے کے باوجود ہمیں F-16 نہ دیے بلکہ ان کے پرزہ جات پر پابندی لگا دی۔ اور اردن سے ہم نے ان طیاروں کا سودا کیا تھا۔ ہم نے تھنڈر طیاروں سے ہی کامیابی حاصل کرلی۔ بھارت سے ”ڈکٹیشن “ لینے کے بعد اس نے اردن سے بھی ہمیں طیارے نہیں لینے دیے۔ لہٰذا امریکہ کو محض ہوا میں ہی باتیں نہیں کرنی چاہئیں زمینی حقائق کے مطابق بات کرنی چاہیے۔
اب امریکہ اپنی ناقص پالیسیوں کی بدولت افغان جنگ ہار چکا ہے، اور اپنی عزت بچانے کے چکر میں ہے۔ افغانستان کے تین صوبوں پہ داعش کا قبضہ ہے ۔امریکی جو اسلحہ اپنے فوجیوں کو دیتے ہیں وہی اسلحہ وہ طالبان کو بیچ دیتے ہیں اور اوپن مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔ امریکہ اگر کبھی سنجیدہ ہوا بھی ہے تو محض سارے الزام پاکستان پر لگا کر ہمیں ہمیشہ آخری موقعے کی دھمکی لگا دیتا ہے۔ اصل میں ہمارے اور آپ کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ آپ اپنے وزیرِدفاع اور وزیرِ خزانہ کو بھیج کر صحیح حقائق دیکھ لیں۔
ہمیں جو بلین ڈالر ملے ہیں وہ تو ہمارا لگایا ہوا پیسہ ہمیں ملتا ہے یعنی وہ تو Reembursment ہے۔ جس کے استعمال کا ہم پہلے حساب دیتے ہیں۔ امریکہ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت قائم کر کے یہ سمجھتا ہے کہ اشرف غنی ، اور عبداللہ عبداللہ جن کے درمیان ”اینٹ کتے “ کی دشمنی ہے، امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ 45 فیصد رقبے پر طالبان قابض ہیں، امریکہ کے آنے کے بعد منشیات کی کاشت میں 3700 کا اضافہ ہوا ہے۔
شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ ایران کےخلاف بھی امریکہ نے پہلی دفعہ شدید محاذ آرائی کی ہوئی ہے۔ امریکہ کی دوستی سے پاکستان کو کیا ملا؟ 1970-80 ءمیں ہمارے ملک میں مکمل امن و امان اور سکون تھا۔ بیس سال پہلے حافظ سعید صاحب سے روس کے حصے نجرے کراتے وقت حافظ سعید انکا دوست تھاجن کو نیو یارک میں سرکاری مہمان بناتے تھے۔ اب وہ مطلب پورا ہونے کے بعد دہشت گرد بن گیا؟
در اصل ہم پاکستانی بڑی فراخ دل اور درگزر کردینے والی قوم ہیں۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھارت کا ”رول“ ہے ، میں کہتا ہوں صرف صورت حال کو مشکل بنانے میں اس کا رول ہے، یہ پہلی دفعہ ہے کہ کسی وزیر خارجہ کے بیان کو تحریک انصاف والے بھی داد دیتے نظر آرہے ہیں۔ جیسے شاہ محمود قریشی صاحب نے وزیر اعظم کے آبرو مندانہ بلکہ جرا¿ت مندانہ بیان کو سراہا ہے۔ اور تعریف کی ہے، جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ پاکستانی مفاد کی ہر بات پر ان کو یکجا ہو جانا چاہیے۔ سیاست کو تو انتخاب میں آزمایا جاسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی ہمیں کہتے ہیں کہ ہمیں (BACK MIRROR) بیک شیشے میں دیکھنا پڑتا ہے جبکہ خطرہ ہمیں پیچھے سے ہوتا ہے۔ گاڑی ہمیشہ پیچھے سے ہی لگتی ہے، خواجہ صاحب نے انگریزی میں دیے ہوئے انٹرویو میں کہا کہ اپنی (بیک) کا خیال رکھیں…. غالباً محض یہ بات وہ پنجابی میں کرنا چاہتے ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ہم نے خود اسلحہ سازی میں بھی قدم رکھ دیا ہے ، روس سے بھی ہمارے تعلقات نہایت دوستانہ ہیں، جن کے ساتھ پہلی دفعہ ہم جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایران ، چین ، ترکی اور سعودی عرب بھی ہر مرحلے پر ہمارے ساتھ ہیں۔ اس وقت ہمیں امریکہ کی مزید دھمکیوں اور دباﺅ میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پُرامن ملک کو امریکہ نے شیعہ ، سنی اور دیگر مسالک کے گورگھ دھندوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ اور پُر امن ملک کو خراب کرا بیٹھے ہیں۔ ان کا حب الوطنی، اور اسلامی غیرت وانا سے بھر پور انٹرویو سن کر بے ساختہ میرے دل میں آیا کہ کاش خواجہ آصف کو چار سال پہلے وزیرِ خارجہ بنایا ہوتا!!! مگر مشترکہ آپریشن کی پیشکش نہ تو عوام کو منظور ہے اور نہ فوج کو پسند آئے گی۔