salman-lali

کار زارِ محاذ سیاست میں نیا معرکہ

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مقتدر جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے پیش کیے جانے والا بیانیہ سیاسیات کے کسی بھی طالبعلم کیلئے دلچسپی سے خالی نہیں۔ سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ کی جانب سے نواز شریف کی نااہلی اور پورے خاندان کے خلاف نیب ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ سامنے آتے ہی ن لیگ کی جانب سے فیصلے پرایک خاص طرز میں ردعمل کا اظہار کیا گیا جس نے ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد موجودہ بیانیے کی صورت اختیار کی۔ ن لیگ اور سابق وزیر اعظم کی جانب سے اپنائے جانے والا بیانیہ بہت احتیاط اور سوچ بچار کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق نا اہلی اور نیب میں ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کوکاررازسیاست سے ہمیشہ کیلئے باہر رکھنے کے محرکات کا حامل ہے۔ نا اہلی کی وجہ مالی بد عنوانی یا بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک تکنیکی عذر ہے، جسے جے آئی ٹی نے 60دن کی عرق ریزی کے بعد تراشا ہے، مارشل لا اور اٹھاون ٹو بی کی عدم دستیابی کی وجہ سے آرٹیکل 62 ون ایف کو استعمال میں لایا گیا ہے۔آگے چل کے اسی بیانیے کا انتہائی اہم حصہ سامنے آتا جس سے پانامہ فیصلے کے تناظر میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مستقبل قریب کی سیاسی حکمت عملی کسی حد تک آشکار ہوتی ہے۔ اس حصے میں یہ کہا جانا کہ نیب پر سپریم کورٹ کے نگران جج کو بٹھانا، اپنی مرضی کا فیصلہ صادرکروانے کیلئے ہے، یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ میاں نواز شریف اور ن لیگی تھنک ٹینک پانامہ فیصلے کے اس حصے کے خطرات سے آگاہ ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور انتہائی اہم بات میثاق جمہوریت طرز پرکسی نئے عمرانی معاہدے یا سوشل ڈائیلاگ کے آغاز کی خواہش ہے جس کے مندرجات میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود ترکرنے پرسیاسی قیادت اور سول سوسائٹی میں اتفاق رائے پیدا کرنا سر فہرست ہوگا۔ ن لیگی قیادت بارہا اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ جے آئی ٹی نے 60دنوں میں جو کر دکھایا وہ 5رکنی ٹیم کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے،ضرور جے آئی ٹی کو طاقتور حلقوں کی معاونت حاصل تھی۔اسی سلسلے میں رواں برس اکیس جون کو ایک انگریزی روزنامہ میں عدالت میں پیش کردہ اس رپورٹ کو بھی موضوع خبر بنایا گیا جس میں الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے مختلف پروگرامز میں پیش کی جانے والی آراء کی مانیڑنگ کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا گیا، رپورٹ میں جن تاریخوں کے پروگرامز میں قابل اعتراض گفتگوکا ذکر ہے وہ پروگرامز عدالت عظمیٰ کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل سے قبل نشر ہوئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کوئی اور ان پروگرامز کی مانیٹرنگ کر رہا تھا اور اس رپورٹ کے مذکورہ حصے کو جے آئی ٹی کی تشکیل سے قبل ہی تحریر کیا گیا۔ ان سب باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقتدر جماعت اور اس کی حمایت یافتہ حلقے فیصلہ آنے سے قبل ہی کسی نتیجہ پر پہنچ چکے تھے اور اس وقت سے ہی موجودہ بیانیہ کے خدوخال وضع کرنے کا کام شروع کردیا گیا تھا۔
لیکن اگر اس بیانیے کابغور جائزہ لیا جائے تو اس بیانیے میں موجود کئی قباحتیں بھی آشکار ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی خامی تو یہ ہے کہ عوام کو یہ باور کروانا بہت مشکل ہوگا کہ شریف خاندان کسی بے ضابطگی یا مالی کرپشن کا مرتکب نہیں تاوقتیکہ احتساب عدالت میاں محمد نواز شریف کو اور ان کے خاندان کوکرپشن کے الزامات سے بری نہ کردے۔ لیکن ن لیگی حلقوں کے مطابق ایسا ہونا نگران جج کی موجودگی میں تقریبا ناممکن ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب نے تاک کر نگران کی تقرری پر نشانہ باندھا اور احتساب عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کا الزام دھر دیا، انہوں یہ بھی کہا کہ ایسے اقدام کی اس سے قبل کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن متعدد قانونی ماہرین کے مطابق ایسا اس سے قبل بھی ہو چکا ہے۔ اب دوسرے نکتے کی جانب آتے ہیں کہ عدالت نے جے آئی ٹی کے تلاش کردہ تکنیکی عذر کو وجہ بنا کر ایک منتخب وزیر اعظم کو نا اہل کیا۔ لیکن کیا قانوناً اس معاملے کو نظرانداز کرنا معزز ججز کیلئے ممکن بھی تھا؟ کیا وزیر اعظم کا متحدہ عرب امارات کی فرم میں ملازمت اور اقامہ سامنے آنے کے بعد معزز ججز کیلئے اسے نظرانداز کرنا ممکن تھا؟ کیا کوئی ماہر قانون اقامہ اور تنخواہ کو بطور اثاثہ ڈکلیئر نہ کرنے پرآرٹیکل 62 کے اطلاق پر متفرق رائے رکھتا ہے؟اگر کوئی متفرق رائے موجود ہوتی تو یقیناًنا اہلی کا فیصلہ متفقہ نہ ہوتا۔
جہاں تک سابق وزیراعظم نواز شریف کی خواہش کہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود کرنے کیلئے ایک نئے عمرانی معاہدے پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی بات ہے تواس کی افادیت جانچنے کیلئے میثاق جمہوریت کے غیر فعال ہونے کی وجوہات پر غور کرنا ضروری ہوگا۔ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کا دوراقتدارغروب ہونے کو تھا کہ ملک میں آئندہ مارشل لاء کا راستہ ہمیشہ کیلئے روکنے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اور میاں نواز شریف صاحب میں میثاق جمہوریت طے پایا۔ لیکن اس معاہدے کی افادیت اس وقت ماند پڑی جب محترمہ نے دبئی میں پرویز مشرف سے سے ملاقات کرکے این آراو کے ذریعے کرپشن کے مقدمات سے چھٹکارا تو حاصل کرلیالیکن ایک ڈکٹیٹر کے سامنے اپنی اخلاقی برتری کھو دی۔ اس کے بعد خادم اعلیٰ پنجاب اور چوہدری نثار کی فوجی قیادت سے متعدد خفیہ ملاقاتوں نے میثاق جمہوریت کے تن ناتواں کو تقریباً مردہ ہی بنا ڈالا جو یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ معاہدرے کے فریقین کی خلاف ورزی اس معاہدے کی تنسیخ پا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح کا ایک عمرانی معاہدہ ریاست پاکستان اور اس کے عوام و خواص کے مابین طے ہے جسے آئین پاکستان کہا جاتا ہے۔ میثاق جمہوریت کی تو کوئی آئینی حیثیت نہیں تھی جبکہ آئین پاکستان تو ایک قانونی حقیقت ہے۔ جس میں معاشرے کے تمام طبقات اور ریاست کے تمام اعضاء کے حدود اور افعال طے کیے گئے، چاہے سیاستدان ہوں، عام شہری ہوں، فوج ہو یا پھر عدلیہ اور دیگر ادارے۔ اگر 44برس میں ملکی دستور کی بار بار خلاف ورزی ہوتی رہی ہو تو کسی اور میثاق پر کیسے عمل ہو سکے گا۔ اسٹیبلشمنٹ اگر آئین کے تقدس کی پامالی کی ملزم ہے تو سیاستدان بھی قانون شکنی کا کوئی موقع ضائع نہ کرکے دیگر عناصر کو قانون کی دھجیاں اڑانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ کیا مقتدر طبقے سے شفافیت، امانت و صداقت، حلف کی پاسداری کی توقع جائز نہیں ؟ کیا مقننہ پر
قانون کی پاسداری فرض نہیں؟ کیا الیکشن میں منتخب ہوجانے سے کوئی قانون سے بالا تر ہو جاتا ہے؟ گو کہ میکیاولی اور چانکیہ سے لے کر دور حاضر کے مفکرین سیاست کے دیس میں اخلاقیات کو یتیمی کی سند فراہم کرتے ہیں لیکن جمہوریت میں کسی سیاست دان کا اثاثہ اس کی اخلاقی برتری ہوتی ہے جو کہ قانون پر عملدرآمد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا مغربی ممالک میں سیاست اخلاقی قباحتوں سے پاک ہے تو عرض یہ ہے کہ وہاں بھی قباحتیں موجود ہیں لیکن وہاں سیاستدان قانون کے دائرے سے باہر قدم نہیں رکھتا یا بعض صورتوں میں قانون پر عملدرآمد کا ڈھونگ ضرور رچاتا ہے۔ جبکہ ارض پاک میں تو سیاستدان یہ تکلف کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ لیکن یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ سیاست میں اخلاقیات بھی اثاثہ ثابت ہوتی جس سے کئی سیاسی معجزات جنم لے چکے ہیں۔لیکن پاکستان میں سابق وزیرا عظم سمیت دیادہ تر سیاستدان اس اثاثہ سے آج محروم ہیں۔
اگر میاں صاحب کی ریلی اور سیاسی تحریک معاشرتی اصلاح(جس کا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں) کے بجائے محض اداروں پردباؤ ڈالنے یا بقول شیخ رشید احمد کے نیب ریفرنسز سے بچاؤکیلئے این آر او کے حصول کی کوشش ہے تو اس کے نتائج پر تبصرہ کرنا قبل ازوقت ہوگا۔