Aaghar-Nadeem-Sahar

ڈاکٹر سعادت سعید کی کتاب ’’من ہرن‘‘

آج سے تقریبا دس سال قبل جب نوکری کی تلاش میں لاہور پہنچا تو ایک قومی اخبار میں بطورانٹرن شپ کے سب ایڈیٹر کی نوکری ملی اور رہائش کے لیے انار کلی سب سے بہترین جگہ لگی کیوں کہ یہاں سٹوڈنٹس کے بہت سارے ہاسٹل تھے جو اتنے معیاری تو نہیں تھے مگر ان کا کرایہ مناسب تھا۔انہی دنوں جن لوگوں سے میری شروع میں ملاقاتیں ہوئیں اور جن کے توسط سے لاہور کے ادبی حلقوں میں جانے کا آغاز ہوا وہ ترقی پسند تحریک کے دوست تھے جن میں نمایاں طور پر ڈاکٹر سعادت سعید ‘رشید مصباح اور آصف شیخ (مرحوم) کا نام لیا جا سکتا ہے( تب ترقی پسند تحریک بٹوارے کا شکار نہیں ہوئی تھی اور ان کے اجلاس چوپال ناصر باغ میں ہوا کرتے تھے)۔یہ وہ دوست تھے جن کے بارے میں مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ ان کی انگلی پکڑ کر لاہور کی ادبی فضا میں جانا شروع کیا۔رات گئے تک فوڈا سٹریٹ کے مختلف ٹی سٹالز پر ہونے والے ادبی مباحثے جن میں سرخ انقلاب پر گرما گرم بحثیں ہوتیں اور ہم سب یہ سوچ کراپنے گھروں کو لوٹتے کہ صبح جاگیں گے تو انقلاب آ چکا ہوگا مگر آج تک وہ انقلاب نہیں آیا۔وہاں ہونے والی ان مباحثوں اور شعرو سخن کی محفلوں کی خوشبو آج بھی میرے ذہن میں تروتازہ ہے۔ان محفلوں میں اکثر اوقات وہ دوست بھی آجایا کرتے جو ترقی پسند تو تھے ہی مگر اتنے شدید نہیں۔ جن میں ڈاکٹر ضیاالحسن‘ڈاکٹر امجد طفیل‘خواجہ جمشید امام‘نواز کھرل‘آفتاب جاوید اور زاہد مسعود وغیرہ شامل تھے۔یہی وجہ ہے کہ میری شعری تربیت میں ترقی پسند تحریک نے بنیادی کردار ادا کیا اور میں بہت فخر سے خود کو ترقی پسند کہا کرتا۔گو کہ اب نہ ان شروع کے دوستوں سے پہلے والے مراسم رہے اورنہ ہی میں مجھ میں اتنی شدت پسندی ‘ایسا کیوں ہوا؟اس کی وجوہات میرے کچھ قریبی دوست جانتے ہیں۔
اسی دور میں ڈاکٹرسعادت سعید سے رفاقتوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک قائم ہے جب کہ اس وقت کے بہت سارے دوست اب ساتھ نہیں رہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جینوئن تخلیق کار کسی نہ کسی حد تک ترقی پسند ضرور ہوتا ہے ۔زمانے کے نشیب فراز اور داخلی و خارجی معاملات سے کنارہ کشی کسی بھی اچھے تخلیق کار کے لیے مشکل ہی نہیں
ناممکن ہوتی ہے سو اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید ان شعرا کی فہرست میں نمایاں جگہ پر کھڑے ہیں جن کے ہاں سماجی بے حسی ‘ سرمایہ دارانہ کلچر اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف نعرہ بغاوت اورمعاشرتی کسمپرسی جیسے موضوعات بنیادی طور پر نظر آتے ہیں اوراس کی واضح مثال ان کے حالیہ دو نظمیہ مجموعے’’من ہرن‘‘اور ’’الحان‘‘ہیں۔ دونوں مجموعے ایسے ہی موضوعات سے بھرے پڑے ہیں جن میں ڈاکٹر سعادت سعید ایک باغی شاعر کے طور پر ابھر کے سامنے آتے ہیں۔اب یہ بغاوت کس طرح کی ہے یہ یوں تو ایک طویل بحث ہے مگر اس پر مختصر بات کرکے نظموں کی طرف آؤں گا۔
شعری روایت میں جو سب سے اہم کام ڈاکٹر سعادت سعید نے کیا وہ نئے تجربات اور متنوع موضوعات کا ہے جس میں وہ روایت سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔ہمیں ان سے قبل کی نظم میں اس سطح کے تکنیکی اور لسانی تجربات نظر نہیں آتے جس حد تک سعادت سعید کے ہاں ہیں۔یہ تجربات زبان کے ساتھ ساتھ ہیئتی سطح کے بھی ہیں لہٰذ ااس حوالے سے ان کے ہاں بے شمار ایسی نظمیں موجود ہیں جن میں ان کی نظم اپنا ایک الگ مقام بناتی نظر آتی ہے۔جیسا کہ راقم پہلے عرض کر چکا ہے کہ سعادت سعید کا تعلق ترقی پسندوں کے اس قبیل سے ہے جنہوں نے ہمیشہ ہی ان موضوعات کو اپنے فن کا حصہ بنایا جومعاشرے سے جڑے ہوئے تھے مگر عام تخلیق کار کی نظروں سے اوجھل تھے۔ سعادت سعیدنے ان موضوعات کو لفظوں کا ایسا خوبصورت پوشاک پہنایا کہ وہ موضوعات اردو ادب میں نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے۔میری بات کی تصدیق ان کی کتاب ’’من ہرن‘‘کا انتساب کرے گا۔جو انہوں نے ’’مشینی اور تکنیکی اجارہ داروں اور بے روزگار ہوتے انسانوں کے نام ‘‘کیا‘بالکل ایسے ہی جیسے فیض کی نظم ’’انتساب‘‘ ہے جو ان کے شعری مجموعے’’سرِ وادیِ سینا‘‘کے شروع میں درج ہے۔جس میں فیض نے تانگے والوں اور ریڑھی بانوں سے لے کر کلرکوں‘پوسٹ مینوں‘کارخانے کے بھوکے جیالوں‘دہقانوں‘دکھی ماؤں‘بیواؤں اور اسیروں کا ذکرکر کے نہ صرف قاری کو اس متوسط طبقے سے متعارف کرواتے ہیں بلکہ ان کے دکھ اور درد میں انہیں شریک بھی کرتے ہیں اور یہ ہی اعلیٰ ادب کی نشانی ہے کہ اس میں معاشرتی کہانیوں کی داستانیں مرقوم ہوتی ہیں۔اس موضوع پر بہت سارے تخلیق کاروں نے قلم اٹھایا اور بتایا کہ دنیا بھر میں مظلوم اور متوسط طبقے کا کوئی بھی حامی نہیں ہوتا۔ مثلا ضمیر حیدر ضمیرؔ کا ایک شعر دیکھیں ۔
جہاں بھر کے جریدوں میں معیشت کے ڈرامے ہیں
بقائے آدمیت پر کوئی کالم نہیں ہوتا
ڈاکٹر سعادت سعید کا بنیادی موضوع وہ استعماری اور سامراجی نظام ہے جس نے اس ملک کی جڑوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا اورآج کا حکمران طبقہ اقتدار کے نشّے میں دھت قحبہ خانوں اور چائے خانوں میں اپنی معاشرتی منڈی چمکانے کے چکر میں غریب اور عام آدمی کو بھول گیا۔ایسے میں ڈاکٹر سعادت سعید کی حالیہ کتاب’’من ہرن‘‘سے کچھ نظموں کے ٹکڑے ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ ان کے ہاں یہ موضوع کس طرح بیان ہوا۔
زمینی خداؤں کے آراستہ پیکروں میں
وہ کیا شے ہے جس کی پرستش سے
انسان تھکتے نہیں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندھیرا فلک روشنی کو ترسنے لگا ہے
ہلاکت کے سائے ہر اک سمت پھیلے ہوئے ہیں!
ادھورے فسانوں کے بے کار حرفوں میں
جیون ہمارا مقید ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے اک دوسرے کے بدن
گوشۂ چشم کے اولیں ذائقے
اپنی شائق رگوں میں انڈیلے
سیہ تاب اوہام کہنہ مٹے!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رزم گاہِ زمانہ میں
ہر شخص قاتل بھی مقتول بھی ہے!
وہ ظالم بھی مظلوم بھی ہے!
مگر اس کو مقتول ہونے کا
ظالم کی چہرہ شناسی کا
احساس بھی تو نہیں ہے؟
(یہ مضمون تقریب ’’ڈاکٹر سعادت سعید کے سا تھ ایک شام‘‘ کے موقع پر پڑھا گیا جسے ینگ لٹریری سرکل نے پاک ٹی ہاؤس میں منعقد کیا تھا)