Mamoona-Husain

ڈاکٹر “رُتھ فاؤ”پاکستان کی مدر ٹریسا

ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی وفات پر پورا پاکستان افسردہ ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ اس نے ایک غیر مسلم ہونے کے باوجود پاکستان میں 56سال تک کوڑھ (جذام )کے مریضوں کا علاج کیا۔ یہ جرمنی کے شہر لائزگ کی رہنے والی تھیں ۔ 1958ء کی بات ہے جب یہ جوان تھیں اور ان کی عمر 30سال کے قریب تھی جب اُنہوں نے پاکستان میں اس لاعلاج مرض کا علاج کرنا شروع کیا۔ کوڑھ ایک اچھوت مرض تھا جس میں مرض کے جسم پر زخم ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر اس کا سارا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے، جسم پر جو زخم ہوجاتے ہیں ان میں سے پیپ نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کے جسم سے مانس گوشت سے الگ ہو کر نیچے گرنے لگتا ہے اور اس کے زخموں سے بہت بری بد بو آنا شروع ہو جاتی ہے اور اس مرض میں مبتلا شخص کو کوڑھی کہا جاتا ہے اور وہ اپنے سارے جسم ،ہاتھوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک اہم بات بتانا چاہتی ہوں کہ یہ مرض لاعلاج سمجھا جاتا تھا اور جب کسی شخص کو یہ مرض ہو جاتا تھا تو اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے تھے یا تو اسے شہر کے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ اسی جگہ سسک سسک کر اپنی جان دے دیتا تھا یا پھر وہ مریض خود کشی کر لیتا تھا۔
اب آتے ہیں پاکستان کی طرف، اس وقت پاکستان میں ہزاروں کوڑھ کے مریض موجود تھے اور یہ میرا خیال ہے 1960 ء یا 1959ء کی بات ہے اور یہ مرض پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا تھا اور کراچی کے مخیر حضرات نے ان مریضوں کے لئے کراچی شہر سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دیں تاکہ یہ مریض وہاں رہ سکیں اور اس جگہ کو کوڑھی خانہ کہا جاتا تھا اور اگر کوئی شخص ان کی رہائش گاہ کے قریب گزرتا بھی تھا تو وہ اپنا منہ ناک اور آنکھیں ڈھانپ کر گزرتا تھا۔ اور مریضوں کیلئے کھاناد یوار کے اوپر سے اندر پھینک دیا جاتا تھا اور اکثر یہ کھانا مٹی پر گر جاتا تھا اور یہ بیچارے لوگ جھاڑ کر اس کو کھا لیتے تھے
ڈاکٹر رُتھ فاؤ خوبصورت اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری تھی اور اپنی وہ تمام آشائشیں چھوڑ کر اس نے یہ ایک عجیب فیصلہ کیا کہ اب وہ پاکستان میں ہی رہے گی اور ان مریضوں کا علاج کرے گی۔اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا اور یہ اس کے بعد واپس جرمنی نہیں گئی ۔ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کیلئے اپنا ملک اپنی جوانی اپنا خاندان سب چھوڑ دیا ۔ اُنہوں نے کراچی ریلوے سٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڑ پر ایک چھوٹا سا سنٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا ۔ کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صف خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اللہ کا عذاب سمجھا جاتا تھا اور عام لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ لوگوں کے گناہوں اور جرائم کی سزا ہے کوئی بیماری نہیں ہے۔
ڈاکٹر رُتھ کیلئے پہلا چیلنج یہ تھا کہ اس تصور کا خاتمہ کیا جائے کہ یہ کوئی عذاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک بیماری ہے جس میں ان کو بہت وقت لگا ، ان مریضوں کا علاج جب شروع ہوا تو یہ عظیم عورت اپنے ہاتھوں سے ان مریضوں کو دوا بھی کھلاتی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی ، ڈاکٹر رُتھ فاؤ کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی ، یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا ۔اسی دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی ان کو جوائن کر لیا ، ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کر دی اور صرف دو سال ہی کے عرصہ میں یہ سنٹر ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔اور ان مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ان کو فنڈ کی ضرورت تھی لیکن حکومت پاکستان نے ان کی اُس وقت مدد نہیں کی تاہم کراچی کے عوام نے ان کو چندہ دینا شروع کیا لیکن وہ اتنا نہیں تھا کہ اس ہسپتال کو چلایا جا سکے۔ ڈاکٹر رُتھ واپس جرمن گئیں اور ان پاکستانی مریضوں کیلئے جھولی پھیلا کر کھڑی ہوگئیں اور جرمن کے شہریوں نے ان کو ستر لاکھ کا چندہ دیا اور پھر یوں ان پیسوں سے کوڑھ کے خلاف انقلاب آگیا اور وہ پاکستان میں سینٹرز بناتی گئیں اور یہاں تک کہ ان کی تعداد پاکستان میں 156ہو گئی۔ ہزاروں مریضوں کا علاج کیا۔
حکومت پاکستان نے ان کو 1988ء میں پاکستانی شہریت دے دی۔ ان کو ہلال پاکستان ،ستارہ قائداعظم ، ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ اور نشان قائد اعظم کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ یہ ایوارڈ تو اپنی جگہ مگر یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ڈیزرو کرتی ہیں۔ اگر میں ان کو پاکستان کی مدر ٹریسا کہوں تو غلط نہ ہو گا۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ ان کی خدمات کا کو ئی مول نہیں مگر ان کی خدمات کے لئے ان کے وصال کے دن سرکاری چھٹی کا علان کر دیا جائے تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ پاکستان نے ان کی خدمات کا صلہ دینے کی کوشش کی کیونکہ ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی ہی بدولت 1996 ء میں پاکستان لپریسی کنٹرولڈ ملک قرار دے دیا گیا۔اور یوں پاکستان ایشیا کووہ پہلا ملک تھا جہاں کوڑھ کو کنٹرول کیا گیا تھا۔ڈاکٹر روتھ کا کہنا تھا کہ انسانیت کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انسان کے اندر احساس ہوتو وہ انسانوں کی خدمت کر ہی لیتا ہے۔میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں۔