iftikhar shah

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

پرویز مشرف کی حالت دیکھ کر مجھے مشہور شاعر ابراھیم ذوق کا یہ مصر عہ یاد آنے لگا۔دراصل برصغیر ہند وپاک میں جس کسی نے بھی حکمرانی اور اتھارٹی کا مزہ چکھ لیا پھر اس کا ان کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پرویز مشرف نے تو اس ملک میں بلا شرکت غیرے ایک مطلق العنان فرماں رواکا آٹھ سال سے زیادہ کا دور گزارا ہے۔ا تنی مدت میں تو امریکن صدارت کے دو دور گزر جاتے ہیں۔ ایک موقع پر تو اسے آئین میں ترمیم کرنے کے اختیارات بھی حاصل تھے۔ وہ تو خیر پورے ملک کے حکمران تھے ،میں نے تو اپنے ملک کی سول سروس کے انتظامی افسران کو بھی اپنی اتھارٹی کے دنوں کوبہت یاد کرتے دیکھا ہے۔پرویز مشرف کے اقتدار سے پہلے پاکستان میں سول مجسٹریسی کا نظام جاری تھا ۔جس میں ایک مجسٹریٹ کے پاس انتظامی اختیارات کے ساتھ ساتھ عدالتی اختیارات بھی ہوتے تھے۔ عدالتی اختیارات کی وجہ سے پولیس بھی ان کے احکامات کی بجاآوری کی
خاطر چوبیس گھنٹے موجود ہوتی تھی۔میرے ساتھ ایک آفیسر شمیم جہانگیر ہوتے تھے وہ اپنی مجسٹریسی کے گزرے دنوں کو بہت یاد کرتے تھے۔ عموماً کہا کرتے تھے کہ جب کوئی مجسٹریٹ کسی بازار سے گزر جاتا تھا تو پورے بازار کو ہوش میں آتے آتے اور اپنی حالت سنبھالنے میں گھنٹوں لگ جاتے تھے۔یہ اسی اتھارٹی کے مزوں کا نتیجہ ہے کہ آج تک انتظامی سروسز کے افسران ،یعنی موجودہ پی اے ایس(PAS) اور پی ا یم ایس (PMS) کے افسران اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کسی طور مجسٹریسی نظام واپس لاگو ہو جائے ۔ہمارے سیاسی حکمران بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور سنا ہے قومی اسمبلی میں اس سلسلے کچھ پیشرفت بھی ہوئی ہے۔بہرکیف آج کا موضوع سخن پرویز مشرف ہیں۔پرویز مشرف کا آٹھ سالہ دور بہت قریب سے دیکھا ۔کئی دفعہ دل چاہاکہ اس پر لکھا جائے لیکن پھر خیال آیا کہ وہ ایک گزری داستان ہیں ان پر کیا لکھنا۔لیکن دو ایک دن سے میڈیا میں خبر چل رہی ہے کہ ملک میں سیاسی خلاء کو پر کرنے کے لیے ’’ پاکستان عوامی اتحاد ‘‘ کے نام سے ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم وجود میں آگیا ہے جس کے سربراہ پرویز مشرف ہوں گے۔پرویز مشرف صاحب کو اقتدار کی لت لگ چکی ہے اس لیے وہ تمام نامساعد حالات کے باوجود اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں۔انہیں شاید اس با ت کا ادراک نہیں کہ وہ اس بدنصیب ملک میں حکمرانی کی ایک لمبی بد نما اننگ کھیل چکے ہیں۔اور یہ انہی کی اننگ کے نتائج ہیں جو یہ ملک بھگت رہا ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت اور شریف خاندان کی اس ملک میں واپسی انہی کے دئیے گئے اس قوم کو تحفے ہیں۔موصوف حادثاتی طور پر اقتدار میں آئے۔میاں نواز شریف نے فوج کو بھی سول بیوروکریسی کی طرح treat کرنا چاہا لیکن شاید یہ ان کے ذہن میں نہیں تھاکہ پوری دنیا میں اصل طاقت بندوق کی نالی سے نکلتی ہے، لہٰذا لینے کے دینے پڑ گئے۔میاں صاحب کے جانے پر پورے ملک میں سوائے ان کے اپنے خاندان کے کسی نے آنسو نہ بہائے۔ دراصل ہمارے ملک میں کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ یہ چند خاندانوں کی لوٹ کھسوٹ کا نظام ہے جسے یہاں کے سیاستدانوں اور ان کے پڑھے لکھے تنخوا ہ داروں نے جمہوریت کا نام دے رکھا ہے۔اس لیے جب بھی کوئی یہاں اس so called جمہوریت کا بستر لپیٹ دیتا ہے تو پوری قوم کے چہروں پر طمانیت کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔پرویز مشرف کو بھی کسی قسم کی resistanceکا سامنا نہ کرنا پڑا۔موصوف نے قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ شریف خاندان اور پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ نے ملک میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا تھالہذا سب سے اہم کام اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے لیے انھوں نے نیب (NAB) کا ادارہ قائم کر دیا۔
قوم کو اس سے بڑی امیدیں وابستہ ہو گئیں۔نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ اور کرپشن کے الزامات پر کیسز کا آغاز ہوگیا۔ پورے ملک میں احتسا ب شروع ہوگیا۔لیکن پھر قوم نے دیکھا کہ پرویز مشرف نے اس ادارہ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ۔ سیاستدان احتساب کی حوالاتوں سے برا ہ را ست وفاقی وزیر بننے لگے۔ انھوں نے اس ادارے یعنی نیب کے ذریعے اپنا ساتھ دینے کے لیے ایک سیاسی پارٹی بنا ڈالی۔اور نیب کے نام کو بدنام کر کے رکھ دیا۔ نواز شریف کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس اور ہیلی کاپٹر کی خریداری میں ٹیکس چوری کے الزامات پر بالترتیب عمر قید اور چودہ سال کی سزائیں ہوئیں۔لیکن جنرل صاحب نے اعلیٰ عدالتوں ، احتساب عدالتوں کے ان فیصلوں اور باقی عدالتوں میں جاری کیسز کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینکا۔ اور امریکیوں و سعودی فرماں روا کے احکامات کی تعمیل میں نوازشریف اور ان کے پورے خاندان کو سعودی محلوں میں پہنچا دیا۔
آج تک یہ سمجھ نہیں لگی کہ انھوں نے کس قانون اور طریقہ انصاف کے ذریعے ان سزاو ں کو ختم کیا اور جاری کیسز کو سرد خانوں میں ڈالا۔کیا اس ملک کی عدالتوں کے فیصلوں اور ملکی قوانین کی ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔کیا وہ اپنے خاندان کے ورثہ میں ملی سلطنت پر حکمرانی کر رہے تھےَ۔کیا یہ ایک آمر کے انصاف او ر قانون سے ماوراء فیصلے نہیں تھے۔ یہ سب باتیں اسے شرم نہیں دلاتیں۔ ابھی بھی وہ قوم کے درد کی باتیں کرتا ہے۔ آخری دنوں میں جب اس کی حکمرانی کمزور پڑنے لگی اور اقتدار جاتا نظر آیا تو کمانڈو صاحب دبئی میں بے نظیر کے آستانہ پر جا پہنچے۔ جنہیں کبھی ٹی وی پر بیٹھ پر کر پٹ اور لٹیرے کہا کرتاتھا انہی سے ان کی کرپشن کے عدالتوں میں جاری کیسز کو ختم کرنے کے سودے کرنے لگا ۔ اپنی ہمنوا سیاسی پارٹی کے ساتھ دھوکا کیا اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ این آر او(NRO ) سائن کرلیا۔لیکن پیپلزپارٹی کے صدر نے اسے تھوڑے عرصہ ہی میں استعفیٰ پر مجبور کر کے باہر نکال کیا۔چیف جسٹس افتخار چوہدری نے این آر او کو غیرقانونی قرار دے دیا ۔ آجکل آئین کے آرٹیکل 6کا ٹرائل بھگت رہے ہیں۔ مجھے کالج ٹائم کی بات یاد آرہی ہے۔ کالج کے دنوں میں لڑکے پہلوانوں کی کشتیوں کا ذکر کرتے ہوئے گوجرانوالہ اور لاہور کے پہلوانوں کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے پاس ایک ایسا داؤ ہوتا ہے کہ اگر ان کا مخالف پہلوان ان کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ جائے تو وہ وہی داؤ لگاکر اسے نیچے گرا کر اس کے سینے پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ کسی زمانہ میں نوازشریف جنرل مشرف سے ملک سے باہر جانے کی اجازت مانگتے تھے۔ میاں صاحب نے ایسا داؤلگایا کہ یہ جنرل کبھی ماں کی بیمار پرسی اور کبھی کمر درد کے علاج کے لیے دبئی جانے کے لیے عدالتوں سے اجازت مانگتا پھرتا تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف نے گورنمنٹ کا لج لاہور میں ایڈمشن بھی پہلوانی کی بنیاد پر لیا تھا ۔یہ تو ایک لائٹ موڈ کی بات تھی۔ سنجیدہ بات یہ ہے کہ مشرف کی اس ملک میں کو ئی سیاسی حیثیت نہیں ہے۔ مشورہ ایک امانت ہوتی ہے۔ انہیں یہی مشورہ ہے کہ وہ پاکستان آنے سے اجتناب کریں۔ ان کے خلاف بہت کیسز ہیں ۔ عدلیہ وہ عدلیہ نہیں رہی۔ نہ ان جیساکوئی آمر اس ملک میں ہے کہ بیک جنبش قلم انکے خلاف تمام کیسز ختم کر دیگا۔
اب عدالتیں انصاف کے لیے کھڑی ہوچکی ہیں۔ اس لیے وہ باقی ماندہ زندگی باہر ہی Chill کریں۔ پسند کا میوزک سنیں، دوستوں کے ساتھ برج کھیلیں اور جب ماحول بن جائے تو ڈانس بھی کرلیا کریں۔آپ نے پہلے بھی اپنی فوج کو کوئی اچھا نام نہیں دیا ۔ پاکستان میں واپس آ کر جو آپ کی حالت ہوگی اس سے فوج بھی embarassہوگی۔ فوج اور قوم پر رحم کریں یہی قوم کے لیے بھی سود مند ہوگااور فوج کے لیے بھی۔آپ کے پاس تو سعودی فرماں روا کے تحفہ میں دی ہوئی رقم سے خریدا ہوا لندن کا فلیٹ بھی ہے۔ وہاں اپنی عزت نفس اور اناء پر غور کیا کریں۔اور اگر نہیں تو میدان بھی حاضر ہے اور گھوڑا بھی تیار ہے۔تشریف لائیں۔