dr akhtar

چودھری نثار علی خان اور ” آس کی تتلیاں “

شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ ؛ دوست تین قسم کے ہوتے ہیں: ” نمبر ۱ : نانی (جن کی دوستی کھانے پینے یعنی دسترخوان تک محدود ہوتی ہے ) ۲: زبانی ( جن کی دوستی فقط ملاقاتوں اور بات چیت تک ہوتی ہے) ۳ : جانی ( وفا دار،مخلص سچا اور بے غرض دوست ،جو وقت پڑنے پر جان دینے سے بھی دریغ نہ کرے)“ ۔ بات دل کو لگتی ہے ، واقعتاََ پرانے دوست، دیسی گھی اور خالص شہد کی طرح ہوتے ہیں۔ایسی خالص چیزیں اب آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔نواز شریف اور چودھری نثار علی خان بھی آپس میں دیرینہ رفاقت رکھتے ہیں لیکن حیرت ہے چودھری نثار علی خان کی ” چُپ “ کا بھیدمیاں نواز شریف پر نہ کھل سکا۔حالانکہ انہیں تو بہت پہلے چودھری صاحب کی کیفیت بھانپ لینی چاہےے تھی۔چودھری نثار علی خان ”مرد کوہستانی “ہےں ، وہ منافق نہیں ،منہ پر کھری بات کہتے ہیں ،چاہے سننے والے کو مرچیں لگتی رہیں۔کابینہ کے بعض وزرا ءسے اُن کی بول چال تک بند ہے۔ (حیرت ہے نواز شریف ایسے ماحول میں اپنے وزراءسے کیسے کا م لیتے ہوں گے۔)چودھری نثار کی نواز شریف سے وفاداری شک و شبہ سے بالا تر ہے۔مگر کچھ تو ہوا ہے کہ چودھری نثار کو میاں صاحب سے کہنا پڑا : ” میاں صاحب !اگر میں آپ سے مخلص نہیں تو حسن اور حسین نوازبھی آپ سے وفادارنہیں“۔ جس کا سادہ سا مفہوم یہی ہے کہ ” میاں صاحب میں آپ کے صاحبزادوں کی طرح آپ کا وفا دار ہوں“
لیکن میاں نواز شریف کے کچھ ” قریبی “ وزراء،چودھری نثار کوسٹیبلشمنٹ کا آدمی سمجھتے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ چودھری نثار کے والد اور بھائی آرمی میں تھے ۔ حالانکہ چودھری صاحب فوجی نہیں، خالصتاََ سیاسی مزاج رکھتے ہیں۔وہ ایک سچے اور کھرے پاکستانی ہےں۔ایک دوست کے مطابق میاں صاحب کو ہیروں کی کافی پہچان ہے۔ہمارا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو چودھری نثار جیسے ”رتن “ کو ایک سائیڈ پر نہ رکھا ہوتا۔چودھری نثار کی قائدانہ صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جا تا کہ ان کے مشورے سنجیدہ ،بامعنی اور دو ٹوک ہو تے ہیں۔ان کی گفتگو”لگی لپٹی“ کے بغیر ہوتی ہے اور وہ اس میں چاپلوسی کا ” تڑکہ “ نہیں لگاتے۔شاید یہی وجہ ہو کہ ان کے مشوروں پر توجہ نہ دی گئی ہو۔چودھری نثار نے درست کہا: کہ ” میاں صاحب کے خوشامدی وزرا ءنے انہیں اِس مقام تک پہنچایا ہے اور اب انہیں کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے“۔ وزیر اعظم کا یہ فیصلہ کہ اب وہ مستعفی ہر گز نہیں ہوں گے،انتہا پسندی کی دلیل ہے۔جبکہ میاں شہباز شریف اور چودھری صاحب ”انتہا پسندی “ کے قائل نہیں ہیں۔چودھری نثار نے کئی دنوں بعد اپنی چُپ کا روزہ توڑا ہے۔ان کی یہ کیفیت ہمارے اِس شعر کی سی ہے :
ہماری چُپ بھی انہیں ناگوار لگتی ہے
مگر پسند کوئی بات بھی نہیں آتی
چودھری نثار علی خان اپنے حلقوں میں ہمیشہ فتح مند رہے ہیں۔توقع ہے آئندہ بھی وہ کامیاب ٹھہرےں گے۔لیکن انہیں اپنے حلقے کے لےے کوئی بڑا کارنامہ بھی سر انجام دینا پڑے گا۔اگلے روز ایک ٹی وی چینل پر اُن کے حلقے کے لوگوں کی باتیں سن کر احساس ہوا کہ وہاں زیادہ ترقی کے کام نہ ہونے کے باوجود لوگ چودھری نثار سے محبت کرتے ہیں۔ان کے حلقے کے ووٹروںکا کہناتھا کہ وہ چودھری نثار علی خان کے جاںنثار ہیں۔چکری روڈ کے ارد گرد جتنے بھی گاﺅں ہیں ،ان کے بیشتر مکین اَن پڑھ ،غریب، کسان اور سابقہ فوجی ہیں۔وہ لو گ چودھری نثار سے ناراض بھی ہوں تو بھی ووٹ انہی کو دیتے ہیں،یہ بھی ایک طرح کا عشق ہے ،ایسے میں چودھری نثار کو بھی اِن علاقوں کی بہتری کے لئے یہاں بہترین کالج اور بہترین ہسپتال ضرور قائم کرنے ہوں گے۔خاص طور پر سہال،سروبہ،مجاہد،پنڈ، تترال ،میرا جھان اور قرب و جوار کے جتنے بھی چھوٹے چھوٹے گاﺅں ہیں وہاں کوئی بیمار پڑ جائے تو مریض ،راولپنڈی پہنچتے پہنچتے راستے ہی میں دم توڑ دیتا ہے ،وجہ یہ ہے کہ کوئی ہسپتال نہیں لیکن اِس حلقے کے لوگ اب تک چودھری نثار پر آس رکھے ہوئے ہیںکہ وہاں اچھے ہسپتال اور کالجز ضرور قائم کےے جائیں گے۔اب الیکشن قریب ہیں سبھی اراکین اسمبلی کو واپس اپنے اپنے حلقوں میں جا نا ہے۔چودھری نثار کو بھی اپنے ”جاںنثاران ِ حلقہ “ سے رجوع کرنا ہے۔انہیں اس بات کا علم ہے کہ حلقے کے مکین انہیں دیوانہ وار چاہتے ہیں مگر چودھری نثار کے مقرر کردہ گاﺅں کے ”کھڑینچ “ قسم کے نمائندے، چودھری نثارکو حقیقی مسائل سے آگاہ نہیں کرتے۔جس سے اس علاقے کی ترقی دکھائی نہیں دیتی ۔توقع ہے کہ اب چودھری نثار اِن چھوٹے چھوٹے گاﺅں کے نمائندے تبدیل کر کے براہ ِراست عوام سے ملیں گے اور وہاں بہترین ہسپتال اور کالج بنانے کا دیرینہ مطالبہ پورا کر کے سرخرو ہوں گے۔بات پرانے دوستوں سے شروع ہوئی تھی۔ذوق کا ایک شعر ہے :
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیح و خضر سے
ملتا ن سے ہمارے دیرینہ سجن اظہر سلیم مجوکہ نے یاد کیا ہے اور ” آ س کی تتلیاں “ بھیجی ہیں۔یہ تتلیاں در اصل اظہر مجوکہ کے وہ کالم ہیں جو اندھیروں میں ”پھُل جھڑیوں“ کا کام کرتے ہیں۔اِن کالموں کو پڑھ کا اندازہ ہوا کہ عوام کے مسائل ہر شہرمیں ،ایک جیسے ہوتے ہیں۔اظہر سلیم مجوکہ نے ملتان کے مکینوں کی زندگی کو موضوع بناتے ہوئے ،اُن کے مسائل کو اجاگرکیا ہے۔مرحوم دوست اطہر ناسک کے بارے میں کالم پڑھ کر توہم کچھ دیر کوماضی میں کھو گئے۔جب ہم سب دوست، نواں شہر کے بابا ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے۔اُن دنوں ملتان کے ”ادبی حلقوں“ میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی۔حیدر گردیزی ،اقبال ارشد،حسین سحر،ارشد ملتانی، بابا ہوٹل کی محفلوں کی جان تھے۔اردواکیڈمی میں عرش صدیقی،اے بی اشرف ، ابن ِ حنیف ،ڈاکٹر محمد امین سے مل کر ہفتہ وار ادبی اجلاسوں کی ” دھونی “ رمائے رہتے۔عاصی کرنالی،حزیں صدیقی،ممتازالعیشی،امیدملتانی و دیگر بزرگ اہل قلم کی محفلیں، نئے ادیبوں ،شاعروں کے لےے ”گوشہ تربیت “ ہواکرتی تھیں۔اب اگرچہ وہ پہلے والا ماحول نہیں رہا۔ تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ملتان میں خالد مسعود، اظہر سلیم مجوکہ ،شاکر حسین شاکر و دیگر احباب کی کاوشوں سے ملتان ٹی ہاﺅس کے علاوہ اکادمی ادبیات پاکستان کا دفتر بھی قائم ہو چکا ہے۔رضی ،نوازش علی ندیم،جاوید اختر بھٹی،عباس ملک ، ممتاز اطہر، وسیم ممتازاور دیگرکئی احباب ،ادب کے لئے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ہمیں کوئی اچھی خبر ملتان سے ملتی ہے تو اس حبس میں، تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتی ہے۔اظہر سلیم مجوکہ، اپنے کالموں سے مایوسی نہیں پھیلاتے، آس کی تتلیاں پڑھ کر قاری بھی امید سے لو لگا لیتا ہے اورسوچتا ہے کہ اِن شاءاللہ حالات اچھے ہو جائیں گے اور حبس کا یہ سماں بدل جائے گاکہ بقول ممتاز اطہر :
حبس مہمان ہے گھڑی پل کا
چند سانسیں ابھی بچا رکھنا