tofeeq butt

چراغ جلتے رہیں!

گزشتہ ہفتے میں نے دو انتہائی نفیس افسروں وفاقی سیکرٹری برائے آبی وسائل شماعیل احمد خواجہ اور آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈعارف نواز کے اعزاز میں لاہور جم خانہ کلب میں جو محفل منعقد کی، اُس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی وہاں میری دعوت پر سابق وفاقی سیکرٹری جی ایم سکندر اور سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید بھی تشریف لائے۔ جی ایم سکندر کو میں نے ہمیشہ ”جی ایم قلندر“ لکھا۔ اُن جیسی قلندرانہ طبیعت شاید ہی کسی افسر کی ہوگی۔ یہاں چھوٹے چھوٹے افسروں کی گردنیں اکڑی رہتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے اُن کی صرف گردنیں ہی اکڑتی ہیں، جی ایم سکندر اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے ، تکبر کبھی اُنہیں چُھو کر نہیں گزرا۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے وہ پرنسپل سیکرٹری تھے۔ میں نے اُن کے موبائل پر کال کی، اُنہوں نے اٹینڈنہیں کی، اگلے روز پھر ایسے ہی ہوا،میں نے اُنہیں ناراضگی کا ایس ایم ایس کیا، شام کو وہ میرے گھر تشریف لے آئے۔ میں گھر پر نہیں تھا، وہ ایک خط چھوڑ گئے، جو آج بھی میرے پاس ہے۔ خط کیا پورا ایک افسانہ تھا۔ ایسی محبت بھری تحریر تھی، نہ صرف یہ کہ ساری ناراضگی دور ہوگئی، میں نے فیصلہ کیا ایسے عاجز شخص سے کسی صورت میں آئندہ ناراض نہیں ہونا۔ اب وہ ریٹائر ہوگئے ہیں، مگر اُن کی قدروقیمت میں ایک فی صد کمی نہیں ہوئی۔ پچھلے دنوں اُن کی بیٹی کی شادی تھی، میں ملک سے باہر تھا، میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو وہاں بھیجا ، وہ بتا رہا تھا اتنے زیادہ لوگ وافسران وہاں موجود تھے ذرا احساس نہیں ہورہا تھا یہ کسی ریٹائرڈ افسر کی بیٹی کی شادی ہے۔ لوگ دِل سے اُن سے پیار اور اُن کی عزت اِس لیے کرتے ہیں ،اپنی پوری سروس میں اُنہوں نے بھی لوگوں سے پیار ہی کیا، اور اُن کی عزت کی ، حتیٰ کہ اُن کی بھی کی جو اِس قابل نہیں تھے، دورانِ سروس اُن کا رویہ لوگوں کے ساتھ کس قدر مشفقانہ ہوگا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کے ساتھ لوگوں کی محبت میں ہماری ”اعلیٰ روایت“ کے مطابق بجائے اِس کے کوئی کمی ہوتی، اُلٹا بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ میں نے اُنہیں جب بھی دیکھا مسکراتے ہوئے دیکھا۔ اُن کی موجودگی میں قہقہوں کی پٹاری کُھل جاتی ہے، جو بند ہونے کا نام نہیں لیتی۔ وہ نواز شریف، غلام حیدر وائیں اور پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ اُن کے سینے میں کئی راز دفن ہوں گے، اِن تینوں سابق وزرائے اعلیٰ کی کبھی اُنہوں نے بُرائی نہیں کی، البتہ اِن کی کچھ دلچسپ باتیں اپنے مخصوص انداز میں وہ جب بیان فرماتے ہیں محفل میں جان پڑ جاتی ہے۔ ….میں نے شاید حکیم سعید کی کسی کتاب میں پڑھا تھا ”ایک قہقہے کی افادیت، صحت کے لیے ایک میل واک جتنی ہے“…. جی ایم سکندر سے کوئی ایک بار مِل لے پورا مہینہ اُسے واک کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ….ایسے ہی شوکت جاوید سابق آئی جی پنجاب ہیں۔ میرا اُن کے ساتھ بس واجبی ساتعلق تھا۔ کچھ روز پہلے کچھ انتہائی نفیس پولیس افسروں جو مجھے بھائیوں سے بڑھ کر عزیز ہیں طارق عباس قریشی ، شارق کمال صدیقی اورر رانا ایاز سلیم کو اپنے گھر عشائیے پر میں نے مدعو کیا، وہاں کچھ ریٹائرڈ آئی جی صاحبان کا ذکر چھڑ گیا ، شوکت جاوید کے زمانے کو اچھے الفاظ سے یاد کیا گیا تو میرے دل میں اُن کی قدروقیمت بہت بڑھ گئی ،….ہاں یاد آیا میرے مہمانوں میں میرے محترم ظفر محمود ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری اور سابق چیئرمین واپڈا بھی شامل تھے۔ وہ محفلوں میں بہت کم جاتے ہیں۔ بولتے بھی کم ہیں۔ مگر اتنی شگفتہ گفتگو فرماتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے شگفتہ نامی کوئی خاتون ضرور اُن کی زندگی میں رہی ہوگی۔ اِن دنوں وہ ایک بڑے اخبار میں کالم بھی لکھتے ہیں، اور خوب لکھتے ہیں۔ بنیادی طورپر وہ ناول نگار ہیں۔ ”23دن“ کے نام سے اُن کا ایک خوبصورت ناول اردو ادب میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ بہت برس قبل اِس ناول کی تقریب رونمائی کا اہتمام الحمراءہال لاہور میں اپنے ادارے”ہم سخن ساتھی“ کی جانب سے میں نے کیا تھا۔ جس کے مہمان خصوصی اُس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ تھے۔ کچھ عرصے پہلے چیئرمین واپڈا کی حیثیت میں مختلف اخبارات میں کالا باغ ڈیم کی افادیت پر کئی قسطوں پر مشتمل مضامین بھی اُنہوں نے لکھے۔ جس کی قیمت تو اُنہیں چکانا پڑی۔مگر پہلی بار یہ احساس ہوا ہمارے کچھ بیوروکریٹس اپنے ملک کے بارے میں اچھا بھی سوچتے ہیں، ایسی سوچ ہرافسر کی ہوتی، یا زیادہ افسروں کی ہوتی اِس ملک میں مسائل کے بجائے وسائل بڑھتے۔ افسوس ہمارے زیادہ تر افسران اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے ملک کے بڑے بڑے مفادات داﺅ پر لگا دیتے ہیں۔….اِن حالات میں شماعیل احمد خواجہ اور کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز جیسے محبِ وطن اور انسانیت کے حوالے سے اعلیٰ ترین سوچ رکھنے والے افسروں کی ہم قدر نہیں کریں گے، معاشرے میں بے قدری بڑھتی جائے گی، جس کے نتیجے میں بے برکتی بھی بڑھتی جائے گی۔ مجھے یقین ہے جناب شماعیل احمد خواجہ کو بطور وفاقی سیکرٹری برائے آبی وسائل آزادی سے کام کرنے کا موقع مِلا وہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کر جائیں گے جس سے روز بروز بڑھتے ہوئے اِس تاثر پر یقینا زد پڑے گی ہمارے افسران سوائے باتیں کرنے کے یا حکمرانوں کی مالش وغیرہ کرنے کے کچھ نہیں کرتے۔ ….جناب شماعیل احمد خواجہ سے محبت کی دوسری وجہ یہ ہے وہ ”کشمیری“ ہیں، جن کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے اُن کی نانی سانجھی ہوتی ہے۔ میرے مرحوم دوست دلدار بھٹی مجھ سے پوچھتے تھے ”کشمیریوں کی صرف نانی کیوں سانجھی ہوتی ہے؟ دادی کیوں نہیں ہوتی؟“۔میں اُن سے کہتا تھا”دادی آپ اپنی سانجھی کرلیں“۔ اگلے روز میں اور میرے بھائی، پنجاب کے انتہائی نفیس اور پڑھے لکھے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم سید رضا علی گیلانی ملک کے ممتاز ترین کالم نگار جناب حسن نثار سے ملنے گئے تو میری طرف اشارہ کرکے کشمیریوں کے بارے میں وہ فرمانے لگے ”یہ کمال کے لوگ ہوتے ہیں ۔ جس کام میں ہاتھ ڈالیں اُسے عروج تک لے جاتے ہیں۔ مٹھائی بنانے پر آئیں تو ”بٹ سویٹ ہاﺅس“ ۔ زیورات بنانے پر آئیں تو ”بٹ جیولرز“…. شاعری پر آئیں تو علامہ اقبال، ناول لکھیں تو سعادت حسن منٹو…. سیاست میں آئیں تو نواز شریف، اور بے وفائی پر اُتریں تو خواجہ ریاض محمود…. صرف ایک ”جنرل بٹ“ ہی ناکام ہوئے ۔ ورنہ تو ہر شعبے میں اِنہیں کامیابیاں ہی ملیں“۔…. حسن بھائی سے میں نے کہا ایک بات آپ بھُول گئے ہیں ”افسری پر آئیں تو شماعیل احمد خواجہ“ ۔ وہ فرمانے لگے میں ایک نہیں دو باتیں بُھولا ہوں۔ کالم نگاری پر ائیں تو توفیق بٹ ۔….یہ اُن کا بڑا پن ہے ورنہ میری کیا اوقات خود کو اچھے درجے کا کالم نگار میں سمجھوں۔ البتہ اللہ کے کرم، ترس اور فضل کی یہ انتہا ہے جسے صحیح طرح پڑھنا نہیں آتا تھا اُسے لکھنا سِکھا دیا ،….لاہور جم خانہ کلب میں منعقدہ اِس محفل میں سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول، ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ پولیس جناب امجد جاوید سلیمی، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ جناب فیصل شاہکار، آرپی او شیخوپورہ رینج جناب ذوالفقار حمید ، میرے محترم بھائی جان جاوید اقبال کارٹونسٹ بھی موجودتھے ۔ میری خوش قسمتی ہے ایسے بابرکت لوگوں سے میرا تعلق ہے جن سے مِل کر ، جن کے پاس بیٹھ کر ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ جانِ محفل حسن نثار تھے۔ دنیا اُن کی دیوانی ہے۔ چائے کے بعد تمام مہمان اُن کے اردگرد اکٹھے ہوگئے۔
”جیسے شمع کے ارد گرد پروانے ہوتے ہیں“….!