mian-imran-ahmad

چائنا کی فلاسفی پر عمل ٖ بھی ضروری ہے

چائنا میں کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز 2012ء میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں ہوا۔ اس مہم نے چائنا کے عوام کو امید کی نئی کرن دکھائی اور 2013ء سے 2017 ء تک 1340000 لوگوں کو کرپشن کے الزام میں سزا مل چکی ہے۔ 2017ء کے صرف پہلے چھ مہینوں میں 1310000سے زائد متاثرین نے کرپشن کے خلاف شکایات سنٹرل کمیشن آف ڈسپلن انسپکشن میں درج کروائیں۔ ان میں سے260000 لوگوں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور 210000 مجرموں کو سزا دی گئی۔ ان سزا پانے والوں میں صرف کمزور اور چھوٹے سرکاری افسر شامل نہیں تھے بلکہ ان میں منسٹری اور صوبائی ایڈمنسٹریشن کے 38 سینئر آفیسرز اور پریفیکچر لیول کے 1000 لوگ بھی شامل تھے۔آپ کو یہ جان حیرت ہو گی کہ 2016ء میں سابقہ جنرل Guo Boxiongکو رشوت لینے کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی۔ انہیں اپنے عہدے سے فارغ کیا گیااور مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے تمام اثاثے بھی چائنیز حکومت کے نام کریں۔جنرل صاحب ماضی میں نہ صرف فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز رہے تھے بلکہ وہ صدر کی سربراہی میں بنائے گئے سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین بھی تھے۔اس کے علاوہ وہ حکومتی پارٹی کے 25 کور ممبرز میں بھی شامل تھے۔ جولائی 2017ء میں Sun Zhengcai کو اپنے عہدے کے غلط استعمال اور کرپشن کے الزام میں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اسے پارٹی سے نکال دیا گیا اور اس کے خلاف انویسٹی گیشن شروع کر دی گئی۔ یہاں میں آپ کو یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ Sun Zhengcai پانچ سال تک حکومتی پارٹی کے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ وہ بطورایگریکلچر منسٹر بھی حکومت کا حصہ رہے ہیں اور وہ حکومتی پارٹی کے کور ممبرز میں بھی شامل تھے۔ Sun Zhengcai چائنا میں اس قدر پاپولر تھے کہ ان کا نام اگلے پریذیڈنٹ کے لیے
بھی لیا جا رہا تھا۔ لیکن ان تمام حقائق کے باوجود الزام لگتے ہی انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا اور وہ اپنے خلاف ٹرائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چائنیز ریلوے منسٹر Liu Zhijun کو کامیاب ترین ریلوے منسٹر سمجھا جاتا تھا۔ اس نے چائنیز ریلوے کو دنیا کے لئے آئیڈیل ریلوے نظام کے طور پر پیش کیا۔ اس کی خدمات کو چائنا سمیت پوری دنیا میں سراہا جاتا تھا۔ لیکن پھر 2013ء آ گیا۔ اس پر کمیشن لینے،عہدے کے غلط استعمال اور سامان کی خریداری میں کرپشن کا الزام لگا اور اس کے ساتھ ہی اس کا نام چائینز معاشرے کے لیے ناسور بن گیا۔ اس کی ماضی کی خدمات اور ریلوے کی ترقی کے لیے کی گئی محنت اورحکومتی پارٹی کے ساتھ تعلقات کچھ بھی کام نہ آیا۔ اس کے خلاف کیس چلا اور اسے موت کی سزاسنا دی گئی۔ اس کیس نے چین کا نیا رخ دنیا کو دکھایا اور پیغام دیا کہ چائنا کے عوام کے ٹیکس کے پیسے کاغلط استعمال قتل سے بھی بڑا گناہ ہے جسے کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جا سکتا۔اس کے بر عکس پاکستان میں حکومتی سطح پر کرپشن کے معاملے کو سمجھنے کے لیے سابق وفاقی وزیر کا یہی بیان کافی ہے کہ ”کرپشن کرنا ہمارا حق ہے ” اور حکومتی حلقوں میں یہ رائے عام ہو چکی ہے کہ کرپشن پاکستان کا کلچر ہے اور اگر ہزار لوگوں میں سے کوئی ایک کرپشن نہیں کر رہا تو وہ دراصل اپنا نقصان کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ سچ ہے کہ ملک پاکستان میں رشوت اور سیاست سے بہتر کوئی کاروبار نہیں ہے۔بیس ہزار کی سرکاری نوکری کیلیے بیس لاکھ رشوت لی جاتی ہے اور یہ بیس لاکھ یہ حساب لگا کر دیے جاتے ہیں کہ یہ رقم کتنی دیر میں ریکور ہو گی۔ اگر صرف تنخواہ ہی واحد ذریعہ رہے تو رقم تقریباً چار سال میں ریکور ہوگی جو کہ گھاٹے کا سودا ثابت ہو گا لہٰذا اس رقم کو چھ مہینوں میں ہی ریکور کرنے اور اس انویسٹمنٹ سے منافع کمانے کے لیے دن رات رشوت لی جاتی ہے۔رشوت کے بعد دوسرا منافع بخش کاروبار سیاست ہے اور اس کاروبار میں الیکشن کمپین پر پانچ کروڑ لگا کر پچاس ارب کمانے کاٹارگٹ مقرر کیا جاتا ہے۔ اور جن انویسٹرز نے الیکشن کمپین میں پیسہ لگایا ہوتا ہے انہیں منافع بھی ایمانداری کے ساتھ اسی شرح سے دیا جاتا ہے۔کیونکہ ملک پاکستان میں بے ایمانی واحد کام ہے جو انتہائی ایمانداری سے کیا جاتا ہے۔ملکی اور عوامی سطح پر کرپشن سے متعلق اسی رائے نے ملک پاکستان کو دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں کھڑا کر دیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن کے میدان میں ملک پاکستان دنیا کے 176 ممالک میں 116نمبر پر کھڑا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا ملک بھارت اور ہمارے بعد آزاد ہونے والا چائنا 79 نمبر پر کھڑے ہیں۔ انسٹیٹیوشنل کرپشن میں دنیا کے 144 ممالک میں پاکستان 129 نمبر پر کھڑا ہے۔ رشوت میں ہمارا نمبر123 واں ہے۔ فیورٹسم میں پاکستان کا 101 واں اور گورنمنٹ پالیسیز میں ٹرانسپیرنسی کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 108 واں ہے۔ اور ملک پاکستان کی بد قسمتی دیکھیے کہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے
کے بعد بھی ہماری عدالتیں کسی بھی ایک حکمران کو سزا نہیں دے سکی ہیں۔ اور ہماری اسمبلیوں نے قانونی طور پر یہ طے کر لیا ہے کہ کوئی بھی نااہل شخص چاہے وہ نااہلی جھوٹ کی وجہ سے ہو یا کرپشن کے مینار کھڑے کرنے کی وجہ سے ہو، وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا صدر بن سکتا ہے۔کرپشن کی اس پزیرائی کے بعداب مسلم لیگ ن ایک نیا بل لا رہی ہے جس کے مطابق کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر اپنی جائیداد کے ثبوت دینے کا پابند نہیں ہو گا۔ بلکہ الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ثابت کرے کہ ملزم نے یہ جائیداد رشوت کے پیسے سے بنائی ہے۔ یعنی کہ جس بھاری ثبوت کی شق نے میاں نواز شریف کو پھنسایا ہوا ہے وہ شق ختم کرنے کے لئے بل لایا جائے گا اور غیر مسلم اور کرپشن کی سزا موت دینے والی ملک پاکستان کی دوست چینی حکومت کے برعکس ہماری مسلم اور کرپشن کو پروموٹ کرنے والی اسمبلی اس قرارداد کو متفقہ طور پرمنظور کر لے گی۔ جو کہ کرپشن کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی۔کرپشن کا راستہ روکنے کے لیے چائنہ نے حکمرانوں کو عبرت کا نشان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستانی اسمبلی نے سارا زور کرپٹ حکمرانوں کو ہیرو بنانے پر لگا دیا ہے۔ چینی جانتے ہیں کہ صدیوں کی انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جرم کے خاتمے کے لیے جو کام سخت سزاؤں نے کیا ہے وہ کسی بھی ٹریننگ یا تعلیم نے نہیں کیا ہے۔ چائینز فلاسفی ہے کہ ” مزدور کی نسبت حکمران کو دی گئی سزا زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ حکمران کو دی گئی سزا صدیوں تک تاریخ کے پنوں میں یاد رہتی ہے اور اس کی گونج بھی آنے والی ہزاروں نسلوں کو سنائی دیتی ہے”۔ یہ چائینز فلاسفی ہی پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کا واحد حل ہے اور جس دن ہم نے کرپشن کے خلاف چائینز فلاسفی پر عمل کرلیااس دن پاکستان میں نہ ہی سوئس حکومت کو خط لکھنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی پانامہ کی نوبت آئے گی۔