Khalid Bhatti

پیپلز پارٹی کی سیاست کے 50 سال

جب تک یہ سطور آپ تک پہنچیں گی اس وقت تک پیپلز پارٹی اسلام آباد میں 50 واں یوم تاسیس منا چکی ہو گی۔ ان 50 برسوں میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا۔ مگر ہماری انتظامی مشینری کے چلن اور طور طریقے نہیں بدلے۔ 50 برس پہلے پیپلز پارٹی کو اپنا تاسیسی اجلاس اس لئے ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر کے لان میں منعقد کرنا پڑا تھا کیونکہ لاہور میں کوئی بھی جگہ فراہم کر کے ایوبی آمریت کے انتقام کا نشانہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ اور 50 سال بعد اسلام آباد انتظامیہ نے پارٹی کو یوم تاسیس کا جلسہ منعقد کرنے کی اجازت اس شرط پر دی ہے کہ اس جلسے میں سیاسی تقاریر نہیں ہوں گی۔ میں مزاح نگار نہیں ہوں مگر اس وقت ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک بڑے افسر کے دفتر کے باہر کھڑے دفتری سے پوچھے بغیر کئی لوگ افسر سے ملنے اندر جا رہے تھے اور وہ کسی کو روک نہیں رہا تھا۔ اتنے میں ایک صاحب نے دفتری سے پوچھا کہ وہ صاحب سے ملنا چاہتے ہیں جس پر دفتری نے جواب دیا کہ وہ نہیں مل سکتے۔ ان صاحب نے کہا کہ باقی لوگ تو مل رہے ہیں جس پر دفتری نے بڑی معصومیت سے جواب دیا کہ وہ مجھ سے پوچھ کر نہیں مل رہے۔ تم نے کیونکہ پوچھا ہے اس لئے اب تم نہیں مل سکتے۔ اسلام آباد انتظامیہ کی کیفیت بھی اس وقت کچھ ایسی ہی ہے۔ قانون اس پر لاگو ہو گا جو اس کو مانے گا ۔ جو نہیں مانتا اس سے کوئی نہیں پوچھتا۔ جب 30 نومبر 1967ء کو پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو اس نے مروجہ سیاست کی بجائے نظام کی تبدیلی کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کی سیاست کی بجائے مزدوروں ، کسانوں ، غریبوں، طلباء اور سماج کے سب سے زیادہ محروم و مظلوم طبقات کی خواہشات، آدرشوں، آرزوؤں اور مفادات کی سیاست کو اپنایا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے پاکستان میں عوامی سیاست کی بنیاد رکھی۔ پیپلز پارٹی کی بنیادی دستاویزات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اس وقت پارٹی نے سماج کا درست تجزیہ کیا اور اس کی روشنی میں پروگرام، سیاسی لائحہ عمل اور منشور تیار کیا گیا۔ پیپلز پارٹی بائیں بازو کی مقبول عام جماعت کے طور پر سامنے آئی جس نے غیر طبقاتی سماج کے قیام کو اپنی منزل اور نصب العین قرار دیا اور اس کے لئے سوشلزم کے معاشی اور سیاسی نظریات کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ 1967ء میں لکھی گئی ۔ بنیادی دستاویز اتنی جامع اور تروتازہ ہے کہ لگتا ہے کہ آج کے لئے لکھی گئی ہے۔
مجھے ہمیشہ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ پیپلز پارٹی کے کئی رہنما اس بنیادی دستاویز کو چھوڑ کرادھر ادھر سے موجودہ مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ دستاویز نہ صرف سیاسی، سماجی اور معاشی بیماریوں اور مسائل کی نشان دہی کرتی ہے بلکہ ان مسائل اور بیماریوں کا حل بھی پیش کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی آج بھی اپنے بنیادی نظریات کی روشنی میں موجودہ حالات کے مطابق ایک نیا پروگرام، لائحہ عمل اور منشور تشکیل دے کر عوامی سیاست کو مضبوط کر سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا نصب العین اور اہم ترین مقصد اس ملک میں مساواتی جمہوریت قائم کرنا تھا جس کے تحت ایک ایسا معاشی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل پاتا جو کہ ہر طرح کے استحصال ، جبر ، تفریق ، ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کرتا۔ جب پیپلز پارٹی وجود میں آئی تو مزور، کسان ، غریب عوام ، طلباء، نوجوان اور خواتین اس پارٹی کی بنیادی طاقت بنے۔ انہی طبقات کی بنیاد پر پارٹی کی سیاست آگے بڑھی اور محض تین سال کے قلیل وقت میں پارٹی مغربی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ 1970ء کے انتخابات میں نوزائیدہ پارٹی کے پلیٹ فارم سے درمیانے اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں نے جدی پشتی جاگیردار اور بڑے زمیندار سیاستدانوں کو شکست فاش سے دوچار کر دیا اور یوں ناقابل شکست سمجھے جانے والے جغادری لیڈروں کو عام سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی۔
پیپلز پارٹی کے حامی تاریخ دان اور لکھاری پیپلز پارٹی کی جدوجہد، بھٹو خاندان کی قربانیوں اور تکالیف کا ذکر تو تسلسل سے کرتے ہیں مگر بھول کر بھی بائیں بازو کے ان رہنماؤں اور کارکنوں کا نام نہیں لیتے جنہوں نے پاکستان میں مزدور تحریک ، طلباء تحریک اور کسان تحریک کی بنیاد رکھی اور اسے پروان چڑھایا۔ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے 1967ء سے پہلے اس ملک میں مزدوروں ،کسانوں اور طلباء کی جدوجہد اور تحریک ہی موجود نہیں تھی۔ پاکستان کے محنت کش عوام اور طلباء نے ایوب آمریت کے خلاف بے مثال جدوجہد کی اور یہ محنت کشوں ، کسانوں اور طلباء کی انقلابی تحریک ہی تھی جس کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عوام کی امنگوں اور خواہشات کا درست اندازہ لگایا اور اس کا عوامی انداز میں اظہار کیا۔ بھٹو شہید عوام کی زبان میں ان سے مخاطب ہوئے۔
قائد عوام محنت کش عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ وہ ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ ان کے مادی حالات کو بدلیں گے۔ پاکستان کے محنت کش آنکھوں میں خواب سجائے۔ دلوں میں خواہشات اور امنگوں کے دیپ جلائے جوق در جوق ان کے قافلے میں شامل ہوتے گئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت وجود میں آ گئی۔ پیپلز پارٹی کو مقبول بنانے، اس کے منشور ، نظریئے اور نعروں کو عوام میں لے جانے اور سماج میں پھیلانے میں دانشوروں ، شاعروں ، مزدور رہنماؤں، طلباء اور کسان لیڈروں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ قائد عوام کی طلسماتی شخصیت اور انداز سیاست نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ پیپلز پارٹی اپنے قیام کے وقت ایک سامراج اور اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت تھی جس کی سیاست کا محور و مرکز پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام تھے۔ 1968-69ء کی انقلابی تحریک نے پارٹی کو جلا بخشی۔ پارٹی کا بنیادی پروگرام ، نعرے اور منشور پاکستان کے عوام کے انقلابی جذبات ، خواہشات اورامنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ 1967 سے1970ء تک پیپلز پارٹی کی سیاست محنت کش عوام کے انقلابی احساسات ، کردار اور عزم کی عکاس تھی۔ پیپلز پارٹی کے روایتی دانشور اور لکھاری آج یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا قیام ایک سنٹر لیفٹ جماعت کے طور پر ہوا تھا۔ یہ بات پارٹی کے بنیادی منشور ، نظریات اور پروگرام سے میل نہیں کھاتی۔ پیپلز پارٹی کا پروگرام سوشلسٹ تھا۔ پارٹی واضح طور پر بائیں بازو کے نظریات رکھتی تھی۔ پارٹی کی قیادت میں چند جاگیردار بھی شامل تھے مگر اکثریت کا تعلق درمیانے اور محنت کش طبقے سے تھا۔ 1967ء سے 1970ء کے انتخابات تک پارٹی نے کھل کر ریڈیکل سیاست کی اور اپنا ناتا محنت کش عوام سے جوڑا۔ بھٹو شہید نے نیا پاکستان کا نعرہ دیا۔ جسے آج کل دائیں بازو کے ایک رہنما استعمال کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی جب برسراقتدار آئی اور بھٹو جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے بے شمار اصلاحات متعارف کروائیں۔ میٹرک تک تعلیم مفت کی۔ نجی تعلیمی اداروں کو قومی ملکیت میں لے کر یکساں تعلیمی نظام متعارف کروایا۔ تعلیم کے دروازے عوام کے لئے کھول دیئے۔ صنعتوں کو قومی ملکیت میں لیا مگر محنت کشوں کے اجتماعی کنٹرول میں دینے کی بجائے افسر شاہی کے حوالے کر دیا جس کی وجہ سے وہ ثمرات نہ مل سکے جن کی توقع تھی۔ دوسرا سامراجی صنعتوں اور سرمائے کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی طرح چھوٹی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینا بھی سود مند ثابت نہیں ہوا۔ مگر ان سب خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود اس پالیسی سے قومی تعمیر نو کا آغاز ہوا۔ لیبر پالیسی اور لیبر قوانین کا نفاذ ہوا۔ محنت کشوں کو جمہوری، قانونی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے ۔ مفت صحت کی سہولت کا
آغاز ہوا۔ طلباء کو ٹرانسپورٹ اور سفر کی سستی سہولت فراہم کی گئی۔ ملک میں آئینی اور جمہوری عمل اور نظام حکومت قائم ہوا۔ عوام کو ووٹ ڈالنے کا بنیادی حق حاصل ہوا۔ ہر شہری کو پاسپورٹ کی فراہمی آئینی ذمہ داری قرار دی گئی جس کی وجہ سے ہر شہری کو پاسپورٹ ملا اور انہیں ملک سے باہر جانے کی سہولت ملی۔ (جاری ہے)