iftikhar shah

پیسہ نہ پلے، میں ہار گھناں کہ چھلے

یہ ایک سرائیکی زبان کی saying ہے جس کا مطلب ہے کہ ’’ پیسہ تو پاس ہے نہیں لیکن سوچا یہ جا رہا ہے کہ میں گلے کا ہار خریدوں یا انگلیوں کے چھلے ‘‘۔ سرائیکی زبان میں خریدنے کو ’ گھناں ‘ کہتے ہیں ۔ جب بھی میاں شہباز شریف خادم اعلیٰ کی ترقیاتی سکیموں پر نظر پڑتی ہے تو یہ سرائیکی saying ذہن میں ابھر آتی ہے۔ایک بات تو ان کی قابل ستائش لگتی ہے کہ انہیں کچھ کرنے کی لگن ہے۔لیکن یوں لگتا ہے کہ وہ فکری مغالطوں میں مبتلا ہیں۔ مثلاً اس بات ہی کو لے لیں کہ انھوں نے خود ہی اپنے آپ کو ’ خادم اعلیٰ ‘ کا لقب دے ڈالا ہے۔ یہ ایک فکری مغالطہ نہیں تو اور کیا ہے۔ نہ جانے وہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ بھلا ’خادم ‘ ایسے ہوتے ہیں۔ یہ ان کا لائف سٹائل ہوتا ہے۔ کون انھیں ’ خادم اعلیٰ‘ مانتا ہے۔ فارسی زبان کا محاورہ ہے کہ ’’ مشک آنست کہ خود ببوید نہ آنکہ عطار بگوید‘‘ جس کے معنی ہیں کہ اچھی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کا احساس دوسروں کو خود بخود ہو نہ کہ عطر بیچنے والا اس کی تعریفیں کرتا پھرے۔ قوم کی غربت اور کسمپرسی دیکھیں اور ان کے خادم کی زندگی پر اٹھنے والے اخراجات پر ایک نظر ڈالیں۔ موصوف ’ خادم ‘ کے اپنے دئیے گئے دولت کے گوشواروں کے مطابق وہ ایک ارب پتی انسان ہیں جن کی پاکستان میں جائیدادوں کے علاوہ لندن کے قیمتی علاقہ میں بھی رہائش گاہ ہے۔ جس کی سیکورٹی اور زندگی کے دوسرے لوازمات پر اس غریب قوم کے کروڑوں روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں۔ وہ خاطر جمع رکھیں قوم بیشک جاہل، ان پڑھ سہی لیکن ان کو یہ تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارا خادم کون ہے۔کیا قوم غریبوں اور لا وارثوں کے غمگسار عبدالستار ایدھی کو نہیں سمجھتی اور جانتی تھی۔ مجھے آج تک یہ واقعہ نہیں بھولا ۔ ایک دفعہ ایدھی صاحب لاہور آئے ہوئے تھے۔ پتہ چلا کہ ایک بچے کے علاج کی ضرورت رقم میں چند لاکھ کی کمی ہے۔ لاہور کی مال روڈ پر ریگل چوک میں جھولی پھیلا کر چل پڑے۔
مال روڈ پر اور لاہورشہر میں جنگل کی آگ کی طرح بات پھیل گئی کہ ایدھی صاحب مال روڈ پر ایک بیمار بچے کے علاج کی خاطر جھولی پھیلائے چل رہے ہیں۔ لاہور کے لوگوں کا جذبہ و جنون دیدنی تھا۔ ایدھی صاحب ابھی الحمرا چوک تک پہنچے تھے کہ ضرورت رقم اکٹھی ہو گئی ۔ ایدھی صاحب ایک گھنٹہ میں رقم اکٹھی کر کے چلتے بنے۔ میاں شہباز شریف وزارت اعلیٰ سے جب فارغ ہو جائیں تو پھر لاہور کے کسی چوک میں کسی غریب کے علاج کی خاطر رقم اکھٹی کر نے کے لیے کھڑے ہو جائیں ،سب کچھ واضح ہو جائے گا۔میاں شہباز شریف کی بلا شرکت غیرے پنجاب کی حکمرانی کو دس سال مکمل ہونے کو ہیں۔انکے دس سال کی حکمرانی کے بعد جو حالات پنجاب کے غریب عوام کے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ چونکہ انہیں حکومت کرتے ایک لمبا عرصہ ہو گیا ہے اس لیے اب لوگ ان کی شخصیت سے خاصے آگا ہ ہو چکے ہیں، مثلاً صوبہ پنجاب کی تمام بیوروکریسی جانتی ہے کہ انہیں صرف وہ ترقیاتی منصوبے اچھے لگتے ہیں جو عوام کو دور سے نظر آئیں۔ مثلاً انڈر پاسزز، میٹرو بسیں ، اورنج لائن ٹرین وغیرہ۔ انکے حواری اور تنخواہ دار صحافی و اینکرز ان بڑے بڑے منصوبوں کی افادیت عوام کو باور کراتے رہتے ہیں۔ انہیں کون بتائے کہ یہاں کے غریب لوگوں کے لیے یہ منصوبے ترجیحی حیثیت نہیں رکھتے۔ ان منصوبوں پر غریب قوم کے اربوں روپے خرچ کر دئیے جاتے ہیں جو قرضوں کی صورت میں حاصل کیے جاتے ہیں ۔ اور ان قرضوں کو اس غریب قوم نے بمع سود واپس کرنا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے غریب قوم کو قرضوں کے سمندر میں ڈبو کر رکھ دیا ہے، اور ا ن قرضوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک کی سڑکیں اور اہم بلڈنگز تک گروی رکھ دی ہیں۔اب لاہور ہی کی میٹروبس کولے لیں ، اس کو رواں دواں رکھنے کے لیے غریب قوم کو ہر ماہ ایک ارب روپے سے زیادہ بطور سب سڈی (subsidy ) دینی پڑتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دیکھو غریب ائر کنڈیشنڈ بسوں میں سفر کرتے پھرتے ہیں ۔کوئی کیا بتائے غریبوں کو اس سفر کی کتنی قیمت لوٹانی پڑ رہی ہے۔اسی طرح پورا ملتان پیٹتا رہا کہ انہیں میٹرو بس نہیں چاہیے لیکن خادم اعلیٰ نے ’’ ہار اور چھلے‘‘ ضرور خریدنے تھے ،سو اس پر اٹھائیس ارب روپے خرچ دئیے جس سے پتہ نہیں کتنے ارب ڈالر ز ایک چینی کمپنی لے گئی۔اسی طرح اب لاہور کی ’’ اورنج لائن ٹرین‘‘ پر دو ڈھائی سو ارب خرچ کئے جا رہے ہیں۔ صوبے کے دوسرے اضلاع کے فنڈز اور مختلف محکموں کے بجٹ اس اورنج ٹرین پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔یہ اپنے تئیں لاہور کو پیرس بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ بڑے میاں صاحب بھی جہاں جاتے ہیں کہتے ہیں ہم آپکے شہر کو بھی لاہور کی طرح بنا دیں گے۔
انہیں کون بتائے کہ لاہور کے غریب باسی کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔یہاں کے غریبوں کی زندگی ایک جہنم بن چکی ہے ۔انہیں یہ مہنگے ہار اور چھلے نہیں چاہیں۔یہاں کی عوام کے دو چھوٹے چھوٹے واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ علی احمد میرے ساتھ ایک محکمہ میں ڈرائیور رہا ہے۔ کل اپنی بپتا سنا رہا تھا کہ اس کی بیگم کے ایک دانت میں درد شروع ہوگیا تھا جو خاصا تکلیف دہ تھا ۔ کہنے لگا آپ کو تو معلوم ہے غریب کے لیے علاج کرانا کتنا مشکل ہے۔ شکر ہے سیکریٹری صحت کا ڈرائیور میرا دوست ہے اس سے ڈینٹل ہسپتال فون کرایااور علاج شروع ہو گیاورنہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانا کتنا مشکل ہے۔ لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹہ گھنٹہ کھڑے رہیں اور جب باری آتی ہے تو نہ کوئی توجہ سے مریض کو دیکھتا ہے اور نہ کوئی دوا ئی ملتی ہے۔ اسی طرح گھر میں صفائی کرنے والی کی سات آٹھ سالہ بیٹی مسلسل کھانسے جا رہی تھی اور اسے بخار بھی تھا۔ میں نے اسے کہا کہ اسے شدید کھانسی ہے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں۔ دوسرے دن آئی تو چھوٹی سی معصوم بچی پہلے سے بھی زیادہ کھانسے جا رہی تھی ۔ میں نے کہا کہ آپ ڈاکٹر کے پاس نہیں گئیں ، کہنے لگی ، نہیں گئی تھی۔ ڈاکٹر نے دو سو روپے لے لیے اور دوائیوں کی پرچی لکھ کر دے دی۔
جب میڈیکل سٹور پر گئی تو اس نے بتایا کہ سات سو روپے خرچ ہونگے۔ میں نے اس سے پرچی واپس لے لی اور گھر آگئی ۔یہ ہے پیرس میں رہنے والوں کے حالات۔کیا آپ کو اپنے اردگرد لوگوں کی یہ بے بسی روزانہ نظر نہیں آتی۔آجکل لاہور کو پیرس بنانے کے لیے پی ایچ اے (PHA) کے ذریعے غریبوں کا پیسہ زور شور سے لٹایا جا رہا ہے۔مٹی کے ڈھیر کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل کیے جا رہے ہیں ۔ ان پر پھول سجائے جا رہے ہیں۔ پانی سے بھری بڑی بڑی گاڑیاں ان پھولوں کو پانی پہنچانے کے لیے دن رات ڈیزل پھونکتی نظر آتی ہیں۔ امراء کے علاقوں میں سڑکیں پھولوں سے بھری جا رہی ہیں ۔ پھول کسے اچھے نہیں لگتے لیکن غریبوں کا پیسہ امیروں کے چونچلوں پر اس طرح خرچ ہوتے دیکھ کر نہ جانے کیوں اچھا نہیں لگتا۔
غریب بغیر علاج کے اس شہر میں مر رہے ہیں ، ان کے بچوں کے لیے جو تعلیم کا بندوبست ریاست کر رہی ہے وہ کسے معلوم نہیں۔اسی طرح میاں شہباز شریف صاحب کی حکومت بے دریغ فنڈز اشتہارات اور پبلسٹی پر خرچ کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو اخبارات اور ٹی وی کے مختلف چینلز پر رات دن نظر آتا ہوگا۔سارے سرکاری ادارے اس مد میں بے پناہ خرچ کر رہے ہیں۔ لاہور کی تمام سڑکوں پر کھمبے سرکاری پبلسٹی کے فلیکس سے بھرے نظر آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس اشتہاربازی میں حکومت کروڑوں روپے روزانہ خرچ کر رہی ہے۔خدا کا خوف کریں یہ ان غریبوں کے پیسے ہیں جو روزگار کے چکر میں یورپ کے سمندروں میں کشتیاں ڈوبنے سے غرق ہو رہے ہیں۔ جو ٹھٹھرتی سردی میں چوکوں میں کھڑے بھیک مانگ رہے ہیں۔