nasif awan new

پھر کرے گی خلق خدا ابھرتے سورج کا نظارہ!

ہمارے حکمرانوں کی خواہش ہے کہ وہ سیاہ کریں یا سفید انہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہو؟
ایسا جمہوریت میں نہیں آمریت میں ہوتا ہے ۔۔۔جولوگوں سے نفرت کرتی ہے، انہیں اذیت پہنچاتی ہے، ان کے حقوق سلب کرتی ہے اور ان کے اظہار رائے پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ یہاں سول آمریت ہے تو غلط نہ ہو گا۔۔۔ بلکہ بادشاہت کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔۔ کہ بادشاہ سلامت آہ بھی بھرنے نہیں دیتے۔۔۔!
بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔۔۔ جس ملک میں انصاف اور مساوات کا علم بلند ہونا چاہیے تھا وہاں نا انصافی اور چھینا جھپٹی ہے۔۔۔!
تاریکی ہے اندھیرا ہے۔۔۔!
صبح نہیں شام ہے۔۔۔!
امن نہیں بد امنی ہے!
یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی فاختہ کو فاختہ نہ کہے، حقائق ، حقائق ہوتے ہیں ان سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ میرے دوست طارق تاسی کا شعر ہے، گو دور خزاں ہے سوختہ تن ہر ڈالی ہے۔۔۔ حکم ہے وقت کے حاکم کا، تسلیم کرو ہریالی ہے۔۔۔!
اب جب خو د کو عقل کل سمجھنے والے حکمرانوں کی پالیسیوں پر کوئی تنقید کرتا ہے تو وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ کسی کی کیا مجال ان کے بارے میں کچھ کہے۔۔۔ وہ جو کر رہے ہیں سب ٹھیک ہے۔۔۔؟
نہیں جناب نہیں۔۔۔ وہ جو کر رہے ہیں عوام کا خون کشید کرنے کے مترادف ہے۔ ان کی ہر ایک پالیسی لوگوں میں دوڑنے والے خون کو منجمد کر رہی ہے۔۔۔ غریب عوام کی چیخیں نکلوا رہی ہے اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ کوئی سرسراہٹ نہ ہو۔۔۔ کوئی ہلکی سی جنبش نہ ہو اور کوئی ارتعاش نہ ہو۔۔۔؟
یہ جیتے جاگتے انسانوں کی دھرتی ہے جفاکشوں اور ہمت والوں کا مسکن ہے۔ وہ بولیں گے اور ضرور بولیں گے۔۔۔ تمہارے ’’کارناموں‘‘ کا ذکر با آواز بلند کریں گے۔۔۔ یہ وطن، یہ ملک او ر یہ گلستاں سب کا ہے اس کی آبیاری اس کی ذمہ داری اور اس کی حفاظت ہر ایک کا فرض ہے۔۔۔!
اس پر تمہیں اعتراض کیوں۔۔۔؟
کیا تمہیں اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ تم عوام کے خون پسینے کی کمائی کو اپنی تجوریوں میں منتقل کر لو۔۔۔ صرف منتقل ہی نہیں اسے رنگیوں فرنگیوں کے دیس لے جاؤ۔۔۔؟ یہ نہیں ہو گا۔۔۔ جو ہو گیا سو ہو گیا۔۔۔ مگر اسے بھی واپس لے جایا جائے گا۔۔۔ درد دل رکھنے والا حاکم یہ سب کر کے دکھائے گا۔۔۔ یہ فسانہ نہیں حقیقت ہے۔۔۔!!
پاکستان ایک ریاست ہے جسے قائم رہنا ہے۔۔۔ لٹیروں، چوروں اور ڈاکوؤں سے نجات دلا کر اسے مہذب اور خوشحال بنانا ہے۔۔۔ لہٰذا چالاکیاں ، دھری کی دھری رہ جائیں گی۔۔۔ یہ فیصلہ ہو چکا۔۔۔ اس کا عندیہ دیا جا چکا۔۔۔؟
جمہوریت کی آڑ میں رچایا جانے والا ناٹک زیادہ دیر چلنے والا نہیں۔۔۔ بہت ہو چکا، بہت ظلم سہہ لیا، ان آس کے دیوانوں نے۔۔۔ انہیں اب تک، جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے جی بھر کے لوٹا۔۔۔ نوچا کھسوٹا۔۔۔ مگر اب سوچ کا یہ رویہ تبدیل ہو گیا۔۔۔ آہنی ہاتھ حرکت میں آ گیا۔۔۔ کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔۔۔ ان کے بچے تڑپنے لگے۔۔۔ ان کو اس اشرافیہ جو بدمعاشیہ کا روپ دھار چکی ہے نے ایسے جرکے لگائے ہیں کہ وہ اب تک کراہ رہے ہیں۔۔۔ لہٰذا انہوں نے خوف کو دور بھگانے کی ٹھان لی ہے۔۔۔!
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تم دھرتی کو خزاں رت میں بدل رہے ہو۔۔۔ مگر تمہیں کوئی یہ بھی نہ کہے کہ ایسا کیوں کر رہے ہو۔۔۔؟
آئین اور قانون اسے پڑھانے بیٹھ جاتے ہو۔۔۔؟
پڑھو قانون اور آئین تمہیں معلوم ہو کہ عوام کے حقوق کیا ہیں اور تمہارے فرائض کیا ہیں۔ اپنے مفاد میں شقیں ڈھونڈ لاتے ہو اور عوام کے حق میں جو موجود ہیں ان کو ’’مٹا‘‘ ڈالتے ہو۔۔۔!
یہ بیدار صدی میں ظلم عظیم ہے۔۔۔ خوابوں اور خیالوں کی دنیا کو گویا ملیا میٹ کیا جا رہا ہے، اسے اجاڑا جا رہا ہے۔۔۔ اس صورت میں کوئی تو تمہارے سامنے کھڑا ہو گا جو تم سے پوچھے گا بتاؤ! کیوں تمہارے دور میں ہنستی مسکراتی بستی میں آہیں اور سسکیاں بلند ہوئیں۔۔۔ روزی روٹی کا قحط پڑا۔۔۔ انصاف نے کیوں اپنا چہرہ چھپایا۔۔۔ اس دھرتی کے سینے میں نفرت اور نا امیدی کی فصل اگانے کی کیوں کوشش کی گئی۔ کیوں شبنمی راستوں کو اداس اور ویران بنانا چاہا۔۔۔منزل کے متلاشیوں کو کیوں مایوس کیا۔۔۔ اس سب کا پوچھا جائے گا پورا پورا حساب لیا جائے گا۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ،زندگی کے حسیں رنگ کو بے رنگ کرنے والوں سے یہ بھی دریافت کیا جائے گاکہ تم ایسا کیوں کر رہے تھے کس کی آشیر باد سے کر رہے تھے۔۔۔؟
عوام ستر برس تک اس امید میں رہے کہ کل مہکے گا۔۔۔ اور بانسری کی آواز سننے کو ملے گی فیصلہ ہر ایک تول کر ہو گا۔۔۔ کوئی امیر ہو یا غریب سب برابر ہوں گے مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ لہٰذا جاگو اور اس وقت تک جاگو کہ یہ پھیلی ہوئی تاریکیاں غائب نہ ہو جائیں ان کو اجالا نگل نہ لے۔۔۔ مگر یہ سب آسان نہیں بڑے ہی تکلیف دہ عمل کے بعد ممکن ہو سکے گا کیونکہ طویل عرصہ ہو گیا مکار ذہانت کی آکاس بیل کو، اس سایہ دار و ثمر آور شجر کے گرد لپٹے ہوئے ؟
اشرافیہ نے جس چوٹی پر پہنچنا تھا پہنچ چکی۔۔۔ اس نے جو اکیس کروڑ عوام کے ساتھ کرنا تھا کر چکی اب اس کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔۔۔ اس کی معاشی جال میں الجھانے پھنسانے کی پالیسیاں آشکار ہو گئیں۔۔۔ اب اگر وہ اپنے پاؤں دہکتے انگاروں پر رکھ کر بھی لوگوں کو یہ یقین دلائے کہ وہ ان کے ساتھ محبت کرتی ہے، ان کے دکھوں کو اپنا سمجھتی ہے تو وہ نہیں مانیں گے لہٰذا اب لب ہلیں گے، ہاتھ حرکت میں آئیں گے اور قدم بڑھیں گے۔۔۔ پھر کرے گی خلق خدا ابھرتے سورج کا نظارہ۔۔۔!!