nawaz-khan-meranii-new-copy

….پھربُولو

کشف المحجوب میں حضرت علی ہجویریؒ، آدابِ کلام میں لکھتے ہیں کہ یاد رکھو گویائی یعنی بولنا، اور کلام کرنا جتنی بڑی نعمت ہے، اتنی ہی خرابی کا سرچشمہ بھی ہے، اِسی لیے پیغمبر محمدنے فرمایا کہ اُمت کے متعلق میں جس چیزسے زیادہ ڈرتا ہوں وہ ”زبان“ ہے، گفتار کی مثال شراب کی سی ہے، جو عقل کو مست کردیتی ہے۔ اور جسے (بولنے) کی لت پڑ جائے وہ اسے چھوڑنہیں سکتا (حالیہ دنوں میں پاکستان کی بڑی جماعتوں کے سربراہوں کے روزانہ کی بنیاد پر انتخابات کے نام پر جو شجرہ نسب سے شروع ہوکر ذرائع آمدن، تعداد ازدواج، معمولات شبِ وروز، حتیٰ کہ اولاد نرینہ اور صدقات وزکوٰة، حقیقی وارثین پہ خرچ واخراجات، اور ان کی جوانی کے گندے واقعات کے مکمل و مستند ثبوت و کوائف قوم کے سامنے جلسوں یا بیانوں میں اپنی زبان کے زیروبم اور بعض اوقات پرنم آنکھوں سے اس طرح سے سنائی اور بتائی جاتی ہے کہ کارکن ناچنے، لُڈی ، بھنگڑے ڈالنے، دھمال ڈالنے، حال طاری کرنے، جھومر اور خٹک ڈانس کو بعض اوقات ”ملاکھڑے“ میں بھی تبدیل کرکے اپنے لیڈر کو ذلیل کرادیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ فرماتا ہے، کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے اسرار اور اُن کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، ہم سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے اُسے لکھتے ہیں۔
حضرت جنیدؒ کے فرمان سے یہ چیز مزید واضح ہوجاتی ہے۔ کہ جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوئی، اس کی زبان گنگ ہوگئی۔
مگر ہمارے سیاستدان تو وہ والی معرفت نہیں چاہتے، وہ تو کسی کی بیگم کی معرفت ، کوئی اپنے بیٹے کی معرفت ،کوئی کسی کو ریٹائرہونے کا مشورہ دے کردوبارہ معاہدات کی تجدید کرکے، اور ملاقات مریم کی بدولت راہ کی روانی سے راستہ حکمرانی ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ قمرالزمان کائرہ، اور آصف زرداری، سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی جتنے مرضی مخالفانہ بیانات داغتے رہیں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ الجبرااور جیومیٹری کی مانند اور موچھیں کٹا کر باہم ویکجا اور مشترکہ مفادات کے حصار میںہیں۔
خیر میں بات کررہا تھا، زبان و کلام کے بارے میں علی ہجویریؒ کی، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سوبزرگان اور مشائخ عظام سے ملاقات کی، سب کی متفقہ رائے تھی کہ کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا چاہیے، اسی میں انسان کی کامیابی کا راز پنہاں ہے یہ تو تھے نظریات کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں بسنے والے روحانی بزرگ کے۔ دنیائے یورپ کے دانشور کہتے ہیں کہ نکمی سے نکمی بات کے لیے بھی کوئی نہ کوئی حمایتی نکل ہی آتا ہے، اور حکیم محمد سعید کی بات چونکہ میرے حق میں جاتی ہے، لہٰذا ان کے قول کے بعد میں اپنے مطمح نظر کو واضح کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ سچ بات کہنے کی عادت ڈالو، چاہے وہ کتنی ہی کڑوی ہو، سچ سننے کی عادت ڈالو، چاہے وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو اب آپ ذرا اپنے ذہن پر زور دیں، اور اپنے سیاستدانوں کی زبان کی لغزش نہیں، بلکہ ان کے خیالات منفی جو اُن کی شخصیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔
میں اُس وقت زمانہ طالب علمی میں تھا، مگر ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر میرے ذہن میں نقش ہے، جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ میں اگر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کے بعد تھوڑی سی جو پی لیتاہوں، اور پھر بہن کی گالی دے کر کہا تھا ، ان مخالفین کو کیا اعتراض ہے، اور پھر فوراً اُس وقت چونکہ صرف پاکستان ٹیلی ویژن ہوتا تھا، ان کو کہا گالی چلی تو نہیں گئی، اس کو کاٹ دو، مگر چونکہ وہ براہ راست دکھائی جارہی تھی۔ گالی پوری دنیا میں چلی گئی، بھٹو صاحب اور الطاف حسین گھنٹوں گھنٹوں تقریر کے عادی تھے، ٹی وی پر لوگ تقریر سن کر اور اُٹھ کر چلے جاتے تھے، اور کہتے تھے واپس آکر سن لیں گے۔ میاں نواز شریف کا یہ کہنا کہ مجھے کیوں نکالا، اور پورے زور سے یہ کہنا کہ بتائیں مجھے کیوں نکالا یہ لہجہ اور یہ الفاظ مثبت کی بجائے منفی تاثرات چھوڑ گیا۔بھٹو مرحوم نے اپنی آخری تقریر میں کہا تھا، اور جس کرسی پر وہ بیٹھے ہوئے تھے، اُس پر زور زور سے ہاتھ مارکرکہا تھا، کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے، اور مدت کے بعد یہی بات ماضی قریب میں احسن اقبال نے بھی کہی تھی۔ اور مجھے بھٹو صاحب کی تقریر یاد آگئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اپنی ہرتقریر ایک ہی جیسی اور ایک ہی رنگ میں کرتے ہیں، اور ان کی بات اور اکثر غلطیوں کی نشان دہی بھی ٹھیک ہوتی ہے، میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنے جلسے ہمیشہ تین بجے یا دوبجے شروع کرکے مغرب سے پہلے ختم کردیا کریں، ورنہ مغرب کے بعد ہونے والے گناہ کس کے سر ہوں گے؟ میانوالی کی گرمی میں تقریر کرتے ہوئے ان کو یہ بالکل نہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں اگر دوزخ میں چلا گیا تو مجھے وہاں گرمی نہیں لگے گی۔ مگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اُنہیں تو مری کی سردیوں اور برفباری میں بھی پسینے آرہے ہوتے ہیں، اور یہی میرا ان سے اختلاف ہے کہ وہ مہاتما گاندھی والی تاریخ نہ دہرائیں، مگر میں پھر بھی اُنہیں شیخ رشید سے پارسا اور نیک اس لیے سمجھتا ہوں کہ وہ نکاح تو کرلیتے ہیں، شہباز شریف بھی اِس معاملے میں عمران خان، بلکہ مصطفیٰ کھر کے فلسفہ جنسیات سے متاثر ہیں، شاید اس لیے کہ کچھ عرصہ مصطفیٰ کھر ن لیگ کے قریب تھے، شہباز شریف کو اپنی ہرانتخابی تقریر میں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ہم آصف علی زرداری کو ہرچوک میں گھسیٹیں گے۔
مجھے یاد آیا قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے ڈیرہ غازیخان سے منتخب ممبر اسمبلی ڈاکٹر نذیر احمد نے جو شدید حملے اور تابڑ توڑالزامات لگائے تھے مثلاً بھٹو صاحب آپ کہتے ہیں کہ اندراگاندھی سے آپ کے خاندانی تعلقات ہیں، آپ دراصل اُن کے رشتہ دار ہیں اور میں یہ بات ثابت کرسکتا ہوں۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ مشرقی پاکستان جانے والے ممبران اسمبلی کی میں ٹانگیں توڑ دوں گا، آپ کی وجہ سے یہ ملک ٹوٹا، میں آپ کو ایسے نہیں چھوڑوں گا، اور آپ کو ہماری باتوں کا جواب دینا ہوگا، اس پر وزیراعظم بھٹو نے مصطفیٰ کھر کو کہا تھا کہ آپ سے ایک آدمی نہیں سنبھالا جاتا۔ آئندہ مجھے یہ شخص اسمبلی میں نظر نہ آئے، اور اس کے بعد مصطفی کھر نے واقعی اُسے نظر نہیں آنے دیا، مصطفی کھر کے بعد میں ذوالفقار بھٹو سے اختلاف شروع ہوئے، اور انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد استعفیٰ دے دیا، حالانکہ اُنہیں سقوط ڈھاکہ کی وجہ استعفیٰ بتانی چاہیے تھی تو آئندہ کے حالات کچھ اور ہوتے۔عمران جب کرکٹ کا عالمی کپ جیت کر آئے تھے تو پوری قوم کے پُرزور اصرار پر کہ وہ سیاست میں آجائیں انہوں نے صریحاً انکار کردیا تھا، اگر وہ اس وقت سیاست میں آجاتے تو اس وقت وہ وزیراعظم ہوتے، انہوں نے قوم کی بات ٹھکرا دی، مگر ادارے کی بات مان لی۔
اسی طرح جنرل ضیاءالحق کا اقتدار پر قبضہ کرلینے کے بعد یہ کہنا کہ میں صرف نوے دن کے لیے آیا ہوں، اس کے بعد میں انتخاب کرکے چلا جاﺅں گا، بعد میں یہی بیان ان پر تنقید کے دروازے کھول گیا۔ اسی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھارت اور افغانستان کو انتباہ کرتے ہوئے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ دشمنوں کی گولیاں ختم ہو جائیں گی، مگر ہمارے جوانوں کے سینے ختم نہیں ہوں گے، اُنہیں صرف جوانوں کے نہیں، بلکہ کہنا چاہیے تھا کہ ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے، اس کے بعد ہمارے سیاستدان کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو قومی سیاست نہیں لسانی سیاست کرتے ہیں، لہٰذا ان کے سارے بیانات قومی دھارے میں آنے کی بجائے زبان کے گرد گھومتے ہیں، مثلاً اسفند یارولی، محمودخان اچکزئی متحدہ کے تمام دھڑے ،چاہے وہ چھ ہوجائیں یا بارہ، یہی وجہ ہے، کہ قوم میں ان سیاستدانوں کو پذیرائی نہیں ملی، اگر متحدہ صرف کراچی تک محدودنہ رہتی اور اس کے رابطے بیرونی طاقتوں سے نہ ہوتے، تو وہ اپنا مقام بنالیتی، مگر انہوں نے صرف چائنا کٹنگ، والے مکانات بنانے کو ترجیح دی، بدقسمتی سے صرف سندھ کی سیاست کرتے ہوئے زرداری نے کہا کہ ہم فوج کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے، ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں اور پھر وہ یہ بیان دے کر دبئی بھاگ گئے اور راحیل شریف کے ہوتے ہوئے واپس نہیں آئے، مجھے افسوس ہے کہ کالم ختم ہوگیا ورنہ بھڑاس رعایاپر نکالتا ۔