Syed-Bader-Saeed

پولیس ایکٹ 2017 ء

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ملک و قوم کی بہتری کے نام پر اپنے اپنے مفادات کی دیوار کھڑی کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ہمارے ساتھ بڑا سانحہ یہ ہوا کہ ہم نے مکالمے کا گلا گھونٹ دیا ۔ آپ سوشل میڈیا سے لے کر دفاتر اور گھروں میں ہونے والے مباحثوں تک کا جائزہ لیں، آپ خود محسوس کریں گے کہ اب ہمارے مباحثوں سے مکالمے کی روح اٹھ چکی ہے ۔ ہمارے نزدیک ہماری ہر بات اور فیصلہ ہی حق جبکہ باقی سب باطل ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جس نے قاتلان حسین ابن علیؑ کو جواز مہیا کیا تھا ۔ اسی سوچ کا اسیر ہونے کے بعد ہمارے نزدیک ہماری رائے پر کسی کی رائے مقدم نہیں ہو سکتی ۔ ہم مکالمہ کی میز پر بیٹھ بھی جائیں تو دوسرے کے دلائل سننے کی بجائے محض اپنی
منوانے کی نیت سے بیٹھتے ہیں ۔ یہ وہ یزیدی سوچ ہے جو نظام کی تباہی کا باعث بنتی ہے ۔ ذاتی مفادات کی خاطر ملکی مفادات کو اسی سوچ کے تحت پس پشت ڈالا جاتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی اشرافیہ کی اکثریت اسی سوچ کے تابع نظر آتی ہے ۔ ہمارے اکثر سیاسی اور انتظامی فیصلے ملکی ترقی کے نام پر ضرور ہوتے ہیں لیکن ان کا اصل مقصد ذاتی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے ۔ ہم پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ہم اسی نعرے کے خلاف ہیں ۔ یہ بات حالیہ پولیس ایکٹ 2017ء سے بھی واضح ہو جاتی ہے ۔ ہمیں یاد ہے کہ پچھلی صدی کے آخر تک پولیس براہ راست ہوم ڈیپارٹمنٹ کے تابع تھی جس کی وجہ سے کسی بھی سرکاری محکمہ کا ملازم پولیس اہلکاروں پر رعب جماتا نظر آتا تھا۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ سول سیکرٹریٹ میں ہی ہے لہٰذا دیگر محکموں کے ملازمین کا بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے عملہ سے اچھا تعلق قائم ہو جاتا ہے ۔ اس تعلق کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں کو تبادلے اور معطل کروا دینے کی دھمکیاں ملتی تھیں۔ پولیس ایکٹ 2002ء کے ذریعے یہ مسائل کافی حد تک حل ہو گئے تھے ۔
پولیس ایکٹ 2002ء کے بعد محکمہ پو لیس کو دیگر سرکاری اداروں کے دباؤ سے رہائی ملی تو اچھے آفیسرز کھل کر سامنے آئے اور پولیس کی خود مختاری کا ایک نیا سفر شروع ہوا ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اس قافلے کی رفتاربظاہر دھیمی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر 2000ء سے اب تک کا تقابل کریں تو محض ایک دہائی میں ہی ہمیں بڑی تبدیلیاں نظر آئیں گی ۔ اب عموما ٹریفک وارڈن سرکاری ملازمین کا بھی چالان کرتا نظر آتا ہے ۔ ناکوں پر دستاویزات دیکھتے وقت پولیس اہلکاروں کو یہ خوف نہیں رہا کہ قانونی کارروائی پوری کرنے پر کوئی اسے معطل کروا سکتا ہے ۔ محکمہ پولیس کو بیوروکریسی اور سیاسی اثر و رسوخ سے رہائی ملی تو اس کے بعد ٖڈولفن پیٹرولنگ پولیس سے لے کر تھانوں میں قائم فرنٹ ڈیسک تک درجنوں بڑے فیصلے کئے گئے ۔
پولیس ایکٹ 2017ء کا جو ڈرافٹ سول بیوروکریسی کے بابوؤں نے تشکیل دیا ہے اس میں پولیس افسران کے تبادلوں کے حوالے سے پولیس کے سربراہ یعنی آئی جی پولیس کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش نظر آتی ہے جس
پر ہر صاحب بصیرت شخص تشویش کا اظہار کر رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر محکمہ کے سربراہ کو ہی اہم ٖ فیصلوں سے روکا جائے گا تو پھر اس سے کارکردگی رپورٹ کے بارے میں کیسے پوچھا جا سکتا ہے ؟ اگر آپ نے خود ہی تمام آفیسرز کو تعینات کرنا ہے تو پھر ایک اچھی ٹیم کیسے تیار ہو سکے گی؟ یہ بات تو تجربے سے ثابت ہو چکی ہے کہ جب جب فورس کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار فورس کے سربراہ کی بجائے کسی اور کے پاس گیا ہے تب تب فورس کا ڈسپلن اور مورال دونوں تباہ ہوئے ہیں ۔ آئی جی پولیس ایک طویل تجربہ کے حامل سینئر پولیس آفیسر ہوتے ہیں جو کسی بھی سیاسی یا بیوروکریٹک شخصیت سے زیادہ بہترانداز میں پولیس فورس کو سمجھتے ہیں ۔ مجھے تو پولیس ایکٹ 2017ء کی سفارشات سے یہی محسوس ہوا کہ اگلے انتخابات سے قبل پولیس فورس کو اپنے کنٹرول میں لینے کی ایک ایسی کوشش کی جا رہی ہے جس سے یقینی طور پر ایماندار اور محنتی پولیس افسران و اہلکاروں میں بے چینی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔
عوام کا بڑا مطالبہ تو یہی ہے کہ پولیس کو سول بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کے دباؤ سے آزاد کیا جائے ۔جب تک ایسا نہیں ہو گا تب تک پولیس دباؤ کا شکار رہے گی ۔ پولیس فورس کے تقرر و تبادلوں سے لے کر فیصلہ سازی تک کا سارا عمل آئی جی پولیس اور محکمہ کے سینئر افسران کے ذریعے ہونا چاہئے ۔ ہمارے یہاں سینئر پولیس افسران کے تقرر و تبادلوں کا حتمی فیصلہ سیاسی سطح پر کیا جاتا ہے لیکن پولیس ایکٹ 2002ء سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ پہلا سنگ میل ہے اور اس سے اگلا ایکٹ پولیس کو مکمل طور پر خودمختار بنا دے گا ۔ بدقسمتی سے اگلا ایکٹ سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ اس میں جو تجاویز دی گئی ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں اور اگر ان پر عمل ہوا تو پولیس اہلکار اور افسروں کو عملی طور پر ناکارہ بنا دیا جائے گا ۔ یہ فیصلہ چند افراد کے لئے تو مفید ہو سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی ایسے فیصلے ملک و قوم کے لئے نقصان دہ ہیں ۔ صاحبان اختیار کو سوچنا ہو گا کہ پولیس جس قدر آزاد اور خودمختار ہو گی اتنا ہی انہیں بھی فائدہ ہو گا کیونکہ حکومت سدا نہیں رہتی اور بادشاہ وقت کو بھی اپوزیشن میں بیٹھنا پڑتا ہے پھر احساس ہوتا ہے کہ پولیس کی خودمختاری کس قدر اہم ہے۔اگلے روز معلوم ہوا ہے کہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے سینئر پولیس افسران کی مشاورت کے بعد پولیس ایکٹ کے حوالے سے تجاویز بھجوا دی ہیں لہذااب لازم ہے کہ سرکار ان تجاویز کو مقدم رکھے ۔ پولیس کے اختیارات سلب کرنے کی بجائے پولیس کی مدد سے معاشرے سے جرائم پیشہ عناصر کو کنڑول کرنا زیادہ ضروری ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب پولیس کو اختیارات دیئے جائیں گے اورسرکاری و سیاسی بابو کی بجائے محکمہ پولیس کے سربراہ اور دیگر سینئر افسران کی ایسی ٹیم پولیس ایکٹ تشکیل دے گی جسے پولیس فورس کے مسائل اور زمینی حقائق کا علم ہو گا۔
یاد آتا ہے جم خانہ کلب میں ایک شام کافی پیتے ہوئے انٹیلی جنس بیورو کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل میجر شبیر سے 1971ء کی جنگ کے حوالے سے سوال کیاتھا ، جواب میں بھی ایک سوال ہی ملا کہ : کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی فورس کے ہاتھ پاؤں باندھ کراسے میدان جنگ میں دھکیلنے سے آپ جنگ جیت سکتے ہیں ؟ ان کے جواب میں ہماری شکست کی ساری داستان سمٹی ہوئی تھی ۔ اب یہی سوال پھر اٹھانے کا وقت آیا چاہتا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پنجاب پولیس اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس پولیس فورس کے اختیارات سلب کر کے یا فنڈز میں اضافہ کئے بغیر ہم اس جنگ میں فوری اور بڑی کامیابی حاصل کر سکیں گے؟