Ch Farrukh Shezad copy

پنجاب کے حقیقی وارث

پانچویں صدی عیسوی سے لے کر 15ویں صدی تک کازمانہ تاریخ میں ازمنہ وسطی یا Medival Agesکہلاتا ہے یہ وہ دور تھا جب سنٹرل ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے گردشی قبائل مختلف راستوں سے برصغیر میں داخل ہوئے یہ لوگ زرخیز زمینوں، قدرتی موسموں ، آبی گزرگاہوں اور جنگلات کے متلاشی تھے کیونکہ یہی چیزیں اس وقت خوشحالی کا ذریعہ تھیں۔ یہ اس دور کی بات ہے جب قبضہ ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ ان اجنبی گروہوں نے پنجاب کو اپنا مسکن بنایا اور روایتی جنگ وجدل اور خون ریزی میں مقامی رہائشیوں کو یہاں سے بھگا کر خطے میں اپنا ایک مضبوط ٹھکانہ قائم کرلیا جس کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا۔ یہ لوگ ایک طرف تو آپس میں تنازعات کا شکار رہتے تھے لیکن بیرونی دشمنوں کا خوف انہیں آپس میں مل جل کر رہنے پر مجبور کرتا تھا۔ بنیادی طورپر یہ بہادر جنگجو اور حریت پسند تھے جو معمولی بات پر مرنے مارنے پر اتر آتے تھے۔ ان کے پاس طاقت اورشجاعت تھی لیکن حیلہ گری اور چالاکی نہ تھی جس کی وجہ سے یہ کسی منظم معاشرے کا قیام نہ کرسکتے تھے۔ اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی بے پناہ افرادی قوت کو ہندوستان کے راجاؤں مغل بادشاہوں اور بعدازاں انگریزوں نے اپنے اپنے اقتدار کے دوام کے لیے استعمال کیا۔ ہردور کے حکمرانوں کے ساتھ ان کے تعاون کی ایک ہی شرط ہوتی تھی کہ ان کی زمینوں پہ ان کا قبضہ تسلیم کیا جائے تو وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جن کو پاکستان میں جٹ اور انڈیا میں جاٹ کہا جاتا ہے جنہوں نے ہندوستانی تاریخ کی تمام جنگوں میں فتح اور شکست میں فیصلہ کن کردار اداکیا۔ 1780ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا تعلق جٹ قبیلے سے تھا جو برصغیر کا پہلا جٹ حکمران تھا جس نے 1839ء تک پنجاب پر حکومت کی جس کا دورانیہ تقریباً نصف صدی ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انگریزوں نے یکے بعد دیگرے برصغیر کے علاقوں پر قبضہ شروع کیا تو سب سے آخر میں وہ پنجاب فتح کرسکے کیونکہ اس وقت رنجیت سنگھ کا انتقال ہوچکا تھا اور پنجاب طوائف الملوکی کا شکار تھا۔ انگریزوں نے اپنے دور میں فوج میں بھرتی کے معیار کے لیے جن قبائل کو مارشل ریس (Marshal Race) قرار دیا ان میں جٹ سرفہرست تھے۔ انگریز ماہرین حرب کا خیال تھا کہ یہ لڑائی میں فرار ہونے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی غذائی ضروریات کی تکمیل میں سب سے زیادہ رول زراعت کا ہے۔ ایک وقت تھا جب ملکی ذرائع آمدنی میں زراعت کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔ دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی کے رجحان کی وجہ سے اربنائزیشن نے ہماری زراعت کو نقصان پہنچایا، ہمارا زرعی شعبہ اس وقت 22کروڑ عوام کی خوراک اور لباس کی ضروریات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ انڈسٹری کو خام مال مہیا کررہا ہے۔ زراعت کے فروغ اور GDPمیں اضافے کا تصور اس کاشتکار طبقے کے مسائل پہ بات کئے بغیر نامکمل ہے جو شب وروز کی محنت سے ملک کی خدمت کررہے ہیں۔ قومی زراعت میں جٹ برادری کے رول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں ہروہ شخص جو کھیتی باڑی سے وابستہ ہو اسے جٹ کہہ دیا جاتا ہے۔
زمانہ بدل گیا لیکن جٹوں کا کردار نہیں بدلا۔ وہ پنجاب کی ثقافت کے وارث ہیں۔ کاشتکاری اور زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ فوج کو مین پاور مہیا کررہے ہیں۔ یادرہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں جن کا تعلق جٹ برادری سے ہے۔ انہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک میں سفارت کاری، دفاع اور حکمرانی کے شعبوں میں غیرروایتی تبدیلیوں کے ذریعے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک رف اینڈ ٹف سولجر ہیں جن کی پہلی اور آخری ترجیح پاکستان ہے۔
پاکستان میں 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں قومی فلم انڈسٹری میں جاٹوں کے کردار کو اجاگر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس میں مولا جٹ جیسی شاہکار فلمیں بنائی گئیں جن کے فلمساز اور اداکار دولت اور شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے لیکن بدقسمتی سے ان فلموں میں جٹ کے کردار کو وحشت اور Belenceسے منسوب کردیا گیا۔ ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ انڈین آرمی نے اپنی ایک رجمنٹ کا نام جاٹ رجمنٹ رکھا ہوا ہے مگر پاکستان میں فوج میں جٹ قوم کی بھرپور نمائندگی کے باوجود ان کے نام پر رجمنٹ نہیں بنائی۔
پنجابی زبان کے شیکسپیئر وارث شاہ (1798ء۔۔۔ 1722ء) نے اپنی کتاب ہیر وارث شاہ میں جگہ جگہ جٹ قبائل کے حوالے رقم کیے ہیں اور اُس دور کے نمایاں خاندانوں میں جٹ قوم کی تمام ذیلی قوموں کا ذکر کیا ہے البتہ کئی مقامات پر انہوں نے ان کے منفی کردار کی عکاسی بھی کی ہے۔
جس طرح پنجاب نے اپنے تشخص اور زبان کی قربانی دے کر پاکستان کی قومی وحدت کا راستہ اختیار کیا ہے اسی طرح پنجاب کے ان وارثوں نے ہمیشہ ذات پات سے بالاتر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لیے اپنے قبائلی تشخص کی قیمت پر پاکستان کو مقدم رکھا ہے۔ بقول قتیل شفائی
سب کو سیراب وفا کر کے بھی پیاسا رہنا
ہم کو لے ڈوبے گا اے دل تیرا دریا رہنا
یہ وہ طبقہ ہے جس کے دم قدم سے سرمایہ داروں کی شوگر ملیں، ٹیکسٹائل ملیں، ایگرو بزنس فرٹیلائزر کمپنیاں، ایکسپورٹ سیکٹر اور پورا اقتصادی ڈھانچہ رواں دواں ہے اس لیے ملک کا یہ محب وطن طبقہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ
ہم ہی سے رنگ گلستاں ہم ہی سے فصل بہار
ہمی کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں
خوشی کی بات یہ ہے کہ ساہیوال کے ایک نوجوان سوشل ورکر چوہدری مبشر سلمان جٹ نے آج سے چند سال پہلے پنجاب کی ترقی میں جٹ خصوصاً کسان اور کاشتکار طبقوں کے لیے پنجاب جٹ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے پنجاب سے کشمیر تک پوری جٹ قوم کو غیر سیاسی انداز میں ایک تنظیمی شکل دے کر تمام اضلاع میں اس کے ڈسٹرکٹ چیپٹرز بنا دیئے ہیں۔ اس کے پلیٹ فارم کا ایجنڈا نمبر ایک مملکت خدا داد پاکستان کی خوشحالی ہے۔ ہر شعبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے ممبران اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی لسانی یا نسلی گروہ نہیں ہے بلکہ اپنی اپنی استطاعت اور صلاحیت کے مطابق ملک کی تعمیر و ترقی کا عزم کرتے ہیں اور خاص طور پر زرعی طبقے کے مسائل اور چیلنجز کے لیے مصروف عمل ہیں تاکہ پاکستان کو خود انحصاری سے ہم کنار کیا جا سکے۔ پنجاب جٹ فاؤنڈیشن کے یوتھ ونگ کی تقریب حلف برداری ہو لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی جس میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد انیس باجوہ مہمان خصوصی تھے۔ اس سے قبل فاؤنڈیشن نے اپنا لائرز ونگ بھی تشکیل دیا ہے جو عوام کو فری لیگل ایڈ مہیا کرے گا۔
پنجاب جٹ فاؤنڈیشن پاکستان کی زراعت کے پسے ہوئے اور بے آواز طبقے کے مسائل کے حل کے لیے تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے جس کے لیے چوہدری مبشر سلمان جٹ یقیناًمبارکباد کے مستحق ہیں۔ دیر سے ہی سہی لیکن خوش آئند یہ ہے کہ آخر کار ایک اچھے سفر کے لیے پہلا قدم اٹھا دیا گیا ہے جٹ سے کوئی Favour لینی ہو تو اسے اتنا ہی کہہ دنیا کافی ہے کہ ’’جٹا! چک دے پٹھا‘‘ جس کا اردو میں مطلب ہے کہ بازی پلٹ دو اور پھر بازی پلٹ جاتی ہے۔ ہیر وارث شاہ میں مصنف نے بڑے تواتر کے ساتھ جٹ کو ہی مخاطب کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس کہانی کے ہیرو رانجھا کا تعلق جٹ قوم سے تھا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وارث شاہ کے دور میں بھی جٹ کمیونٹی کو مارشل ریس کا درجہ حاصل تھا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں
چھڈ آسرے جگ جہان والے
اِکو رب دی رکھنی آس جٹا!
وارث شاہ ایہہ زندگی کوڑ دی
اک پل دانئیں بھرواس جٹا!
ترجمہ: دنیا جہان سے دست کش ہو کر صرف اور صرف اپنے رب پر بھروسہ کرو۔ یہ زندگی مکرو فریب ہے جس کا ایک پل بھر کا بھروسہ نہیں ہے۔