M Nazmuden

پنجاب حکومت:لائبریریوں کو فعال کرنے کے لئے پر عزم

آج کل کی تیز ترین زندگی اور نفسانفسی کے دور میں انسان اپنے ماضی کے ادوار سے دور سے دور ہوتا جا رہا ہے۔وہ کیا سنہری دور تھا جب ہر طرف سکون اور شانتی تھی۔ہر شخص ایک دوسرے کے تجربات اور اچھی عادتیں اپنانے کو فخر سمجھتا تھا۔ ماں باپ اور دیگر بزرگان اپنے بچوں اور بڑوں کو اچھی کتابیں پڑھنے کا ماحول اور مشورہ فراہم کرتے تھے۔ والدین یا دیگر رشتہ داران اور دوست و احباب اپنے بچوں اور تحفہ میں اچھی کتابیں پڑھنے کو دیتے تھے۔ خواتین اور بچیاں اچھی اور بہترین تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لئے بہترین کتابوں کا انتخاب کرتی تھیں۔گلی محلوں میں چھوٹی چھوٹی لائبریریاں ہر عمر کے فرد کو پڑھنے کیلئے بہترین کتابیں معمولی فیس پر فراہم کرتی تھیں۔ راتوں کو سونے سے قبل مائیں ،بیٹیاں اور دیگر گھر کے فرد اپنے تمام گھر والوں کو ایک بٹھا کر تاریخی و گھریلو کہانیاں سناتے تھے۔آہستہ آہستہ اس تعلیمی کتب بینی کے دور نے یک دم پلٹا کھایا اور کتب بینی کی جگہ کمپیوٹر نے جگہ لے لی۔ کتابوں کو صرف گھر میں سجاوٹ اور نمود و نمائش کے لئے محدود کر دیا گیا۔آہستہ آہستہ کتب بینی کے حامل افراد کی تعداد ہزاروں میں ہو کر رہ گئی ہے۔ اور لائبریریوں کا وجود ختم ہو کر رہ گیا۔ اسی بات کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر لوگوں کو کتابوں کی طرف راغب کرنے اور کتب بینی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے لائبریریوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف صوبہ بھر میں بچوں سے لے کربڑوں تک کو ایسا ماحول فراہم کرنے کی عملی کوششوں میں مصرو ف عمل ہیں جس سے ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والا فرد دوبارہ کتب بینی کی طرف لوٹ آئے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر صوبائی وزیر بلدیات و کمیونٹی ڈویلپمنٹ محمد منشاء اللہ بٹ کی سربراہی میں قائداعظم لائبریری باغ جناح میں لائبریری اتھارٹی تشکیل دینے بارے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری لا ئبریری طاہر یوسف کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب پبلک لائبریریز ڈاکٹر ظہیر احمد بابر اور نامور دانشور کالم و تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی اور دیگر محکموں کے سیکر ٹریوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیر محمد منشا اجلاس کو بتایا کہ صوبے کی تمام لائبریریوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لئے جلد پنجاب لا ئبریریز ایکٹ کے ڈرافٹ پر کام باہمی مشاورت سے مکمل کر لیا گیاہے۔جس کے بعد تما م لائبریریوں میں قوانین کے مطابق بہترین قابلیت کا حا مل عملہ تعینات ہو گا۔ عوام کو زیا دہ سے زیادہ دنیا بھر کی کتابوں سے فوری مستفید ہونے کے لئے ای لائبریری کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔70 سال گزرنے کے باوجود آج تک کسی قسم کا لائبریری ایکٹ نہ بنایا جا سکا جس کی بنا پر لائبریریوں میں نئی کتابوں کو خریدا نہ جا سکا اور مختص فنڈز کو غیر ضروری طور پر استعمال میں لایا گیا۔ و زیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف صوبے کی تمام لائبریریوں کے نظام اور طریق کار کو باضابطہ طور پر قانون سازی کے ذریعے دنیا بھرکی دیگر لائبریریوں کی طرح جدیداورسائنسی انداز میں ڈھالنے پر کار بند عمل ہیں۔ حال ہی میں سروے کرایا گیا جس کے مطابق صوبہ کی 182لائبریر یوں میں سے صرف58لائبریریوں نے اپنی بہتر پرفارمنس بارے آگاہی دی۔ حکومت کی طرف سے ان لائبریریوں کو فراہم کردہ فنڈز بارے بھی آ گاہی حاصل کی جا رہی ہے۔تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں قائم لائبریریز کی بھی چیکنگ کرنے بارے اور مختص حکومتی فنڈز کے استعمال بارے بھی ر پورٹ طلب کی جا رہی ہے۔جلد تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی لا ئبریریز کے قیام کا جائزہ لیا جائے گااور ایسے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا جنہوں نے لائبریریاں تشکیل نہ دی ہو نگی۔ فعال لائبر یریزکو حکومت کی طرف سے 21کروڑ50 لاکھ روپے کی سالانہ گرانٹ دی جاتی ہے۔ اس بارے بھی انکوائری کی جا رہی ہے ۔ صوبہ کی تمام لائبریریز کو انڈیا، کینیڈا اور سری لنکا کی طرز پر چلایا جائے گا۔ صوبہ بھر میں بیمار اور بند لائبریریوں کو از سر نو زندگی دینے اور موجودہ لائبریریز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے صوبائی سطح پر لائبریری ایکٹ ڈرافٹ پر کام مکمل کر لیا گیا ہے جسے منظوری کے لئے جلد چیف منسٹر کے پاس بھجوا دیا جائے گا۔وقت حاضر کا تقاضا ہے کہ نئی نسل کو جدید اور سائنسی بنیادوں کے مطابق جدید علوم سے آشناس کرایا جا ئے۔ تمام نئی ہاؤسنگ سکیموں کی منظوری کے لئے لائبریری کے قیام کی لازمی شرط رکھی جارہی ہے ۔ لائبریری ایکٹ کے نافذالعمل ہونے کے بعد تمام لائبر یریوں کے معاملات اور دیگر امور میں بہتری آئے گی جبکہ بلدیاتی اداروں کے زیر انتظام لائبریریوں کی بھی چیک اینڈ بیلنس کو مؤثر بنانے کے لئے حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے ۔ ا بتدائی سطح پر لائبریریز سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی جوتمام موجودہ لائبریریوں بارے رپورٹ مرتب کریں گی جبکہ قائد اعظم لائبریری کو ڈائریکٹوریٹ کا درجہ بھی دیا جائے گا تاکہ تمام لائبریریوں کا نظم و نسق بہتر انداز میں ایک ہی جگہ سے ہو سکے ۔ سائنس اور آرٹس مضامین پر مشتمل لائبریریوں میں دنیا بھر کی اپ ڈیٹ کتب کا ذخیرہ رکھا جائے گاتاکہ ہماری ہونہار نسل نئی اور جدید علوم سے بہرہ ور ہو اور استفادہ کرسکے۔ جلد چھوٹے بچوں کو لائبریریوں میں کتب بینی کی ترغیب کے لئے سٹوری پراجیکٹ بھی شروع کیا جائے گا تاکہ بچوں کو ابتدائی سطح پر کتا بیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو سکے۔ ای لائبریریز میں کمپیو ٹرز اور وائی فائی سسٹم کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ طلباء دور حاضر کے مطابق معلومات حاصل کر سکیں۔ حکومت نے صوبہ میں عوامی فلاح و بہبود کے متعدد تاریخی اور دور رس نتائج کے حامل اقدامات کر کے ترقی کی راہیں ہموار کر دی ہیں۔جس کی ملک کے کسی اور صوبے میں مثال نہیں ملتی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے ماضی کی تمام حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور طریق کار کا اپنی بہترین پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے ذریعے مداوا کیا۔ وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں صوبہ بھر میں میگا پراجیکٹس کا جال بچھادیا گیا ہے۔