Ch Farrukh Shezad copy

پنجاب انٹری ٹیسٹ: ساڑھے تین ارب روپے کی ٹیوشن انڈسٹری

بادشاہ سلامت رعایا کے قدرتی حسن اور جسمانی دلکشی کو پسند کرتا تھا اور فربہ شہریوں پر نظر پڑتے ہی اس کی حس لطیف مجروح ہو جاتی تھی۔ بادشاہ سلامت کی اس کمزوری پر وزیر خاص بہت پریشان تھا۔ چنانچہ شاہی فرمان جاری کرایا گیا کہ آج کے بعد ریاست میں کرایوں کی شرح دو گنا کر دی گئی ہے نیز یہ کہ کرایہ سواری کے وزن کے حساب سے لیا جائے گا۔ تدبیر اتنی کامیاب ہوئی کہ پوری رعایا Slim & Smart نظر آنے لگی جس پر بادشاہ سلامت بہت خوش ہوئے اور وزیر خاص کو انعام و اکرام عطا کرنے کا ارادہ کیا۔ وزیر خاص نے کہا کہ انعام کے اصل حقدار وہ ہیں جنہوں نے دراصل یہ تجویز دی تھی۔ انہیں بلایا گیا جب بادشاہ نے دربار میں دو بہت زیادہ موٹے اور بھدے افراد کو داخل ہوتے دیکھا تو بادشاہ سلامت نے نہایت جلالی لہجے میں پوچھا کہ یہ بدبخت اتنے موٹے کون ہیں انہیں بتایا گیا کہ یہی تو وہ ہیرو ہیں جن کے مشورے پر پوری قوم سمارٹ ہوئی ہے مگر بدقسمتی سے خود ان کے اوپر میرٹ کا اطلاق اس لیے نہیں ہوا کہ وہ تو خود میرٹ کے تخلیق کار تھے۔
اس قدیم حکایت کو اگر آپ پنجاب کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے داخلے کے لیے وضع کردہ انٹری ٹیسٹ کے تناظر میں دیکھیں تو اس کے سارے کردار آپ پر بخوبی واضح ہو جائیں گے۔ آج سے تقریباً دو اڑھائی برس قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ اور موجودہ خادم اعلیٰ جناب شہباز شریف نے پنجاب میں پہلی بار انٹری ٹیسٹ رائج کیا تو یہ موٹر ویز اور میٹرو بس سروس سے حیرت انگیز تھا۔ آغاز میں اس پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی اور انہیں یاد دلایا گیا تھا کہ آپ صوبے کے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں ہونے والی بدعنوانیوں پر قابو پانے کی بجائے ایک متوازی تعلیمی نظام لا رہے ہیں جو کہ درست نہیں ہے مگر انہوں نے کسی کی نہیں سنی اور اس نظام کو نافذ کر دیا جو کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماتحت کام کرتا رہا آہستہ آہستہ عوام بھی موٹر وے اور میٹرو بس کی طرح انٹری ٹیسٹ کے عادی ہو گئے۔ گاہے گاہے اس سسٹم کے فول پروف ہونے پر آوازیں اٹھتی رہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس کا ایک ضمنی نقصان تو یہ ہوا کہ حکومت کی بنیادی تعلیمی نظام یعنی تعلیمی بورڈز سے توجہ ہٹ گئی اور وہاں پہلے سے زیادہ بدعنوانی ہونے لگی مگر چونکہ میڈیکل اور انجینئرنگ داخلے کا معیار ایف ایس سی کی کارکردگی کی بجائے انٹری ٹیسٹ تھا لہٰذا خادم اعلیٰ کے ناک کے نیچے بورڈز والوں نے ہر
ڈویژن میں اپنی حکمرانی قائم کر لی۔ لیکن آپ اس کو بھی چھوڑیں۔ انٹری ٹیسٹ گزشتہ چند سالوں سے تنازعات کا سنٹر سٹیج بنا ہوا تھا۔ سسٹم کا شکار بچے آواز بلند کرتے رہے مگر ان کی کسی نے نہیں سنی یہاں تک کہ 2017ء کا انٹری ٹیسٹ آ پہنچا جس نے سسٹم کے فول پروف ہونے کے تصور کی دھجیاں بکھیر دیں۔ خادم اعلیٰ کی مصنوعی تحقیقاتی ٹیم نے اس پورے سکینڈل کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ اس سے قبل ہی رزلٹ روکنے کا حکم جاری کر چکی ہے اور اب یہ امتحان دوبارہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں پھیلے ہوئے اس پورے سکینڈل میں سیکڑوں لوگ ملوث ہیں جو خوشحال گھرانوں کے بچوں کو ڈھونڈ کر 20، 20 لاکھ روپے کے عوض انٹری ٹیسٹ پاس کروایا کرتے تھے اور یہ سلسلہ کئی سال سے جاری تھا جس میں پرائیویٹ اکیڈمیوں کے ٹیچر بہت سے ڈاکٹر، پروفیسر اور ینگ ڈاکٹر ملوث تھے جن میں سے بہت سے عناصر کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جنید سرفراز کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ یونیورسٹی کی خاتون ڈپٹی کنٹرولر اس کی سرغنہ پائی گئی ہیں جو کہ اپنے خاوند کے ذریعے اس لوٹ مار کا حصہ تھیں۔
اس نظام پر ہم نے کئی دفعہ اپنے کالم میں لکھا ہے کہ یہ ٹیلنٹ کا قتل عام ہے لہٰذا اس کو بدلنا چاہیے۔ پنجاب کے 17 پبلک سیکٹر میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے لیے اس سال تقریباً 70 ہزار امیدوار تھے جبکہ ایم بی بی ایس اور ڈینٹل سیٹوں کی مجموعی تعداد 3600 کے قریب ہے۔ ڈاکٹری کے پیشے سے وابستہ کشش کی وجہ سے ہر بچہ ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا ہے۔ حکومت نے نظام کو شفاف بنانے کی بجائے اسے بہت زیادہ پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس انٹری ٹیسٹ کی وجہ سے ملک میں ایک وسیع ٹیوشن انڈسٹری وجود میں آئی جس کا سالانہ منافع اربوں روپے ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دو ماہ کے انٹری ٹیسٹ کورس کا ایک طالبعلم کا خرچہ تقریباً 50 ہزار روپے ہے۔ پنجاب میں جن 70 ہزار طلباء و طالبات نے اس سال ٹیسٹ میں حصہ لیا ہے، انہوں نے مجموعی طور پر ٹیوشن مافیا کو ساڑھے تین ارب روپے ادا کیے ہیں۔ یہ ادائیگی صرف انٹری ٹیسٹ کی ہے۔ اس رقم سے کہیں زیادہ یہ اکیڈمیاں ان بچوں سے ایف ایس سی کے 2 سالوں کے کورس کی ٹیوشن وصول کر چکی ہیں۔ اکیڈمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس انڈسٹری میں بے پناہ منافع کی بنیاد پر ہے۔
ہر سال جب انٹری ٹیسٹ کے لیے ان اکیڈمیوں میں رجسٹریشن کا وقت ہوتا ہے تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ سٹاف کے پاس پیسے پکڑنے کا وقت نہیں ہوتا اور لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر باری کا انتظار کرتے ہیں اور اکیڈمیاں اضافی عملہ بھرتی کرتی ہیں۔
پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن قائم کیا گیا تھا مگر ایک وقت ایسا آ گیا کہ سب سے زیادہ کرپشن اور رشوت ستانی اسی محکمے میں پائی گئی جس کی وجہ سے پرویز مشرف دور میں احتساب بیورو قائم کیا گیا۔ یہ وہی بات ہے کہ تعلیمی بورڈوں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انٹری ٹیسٹ وجود میں آیا جس نے کرپشن میں محکمہ اینٹی کرپشن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اب خادم اعلیٰ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کے اوپر ایک اور باڈی تشکیل دے دی جائے جو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی مانیٹرنگ کرے۔ اب بھی یہ نہیں سوچا جا رہا ہے کہ ہم انٹری ٹیسٹ ختم کر کے اپنے قدیم اور فرسودہ تعلیم بورڈز کو از سر نو تعمیر کر کے اس کی مکمل اوور ہالنگ کریں اور جملہ خرابیوں کو دور کر کے انٹری ٹیسٹ بھی انہی کے زیر اہتمام لے آئیں یا ایف ایس سی کے امتحانات کے ساتھ ہی انٹری ٹیسٹ کا یہ پرچہ اس وقت لے لیا کریں۔ اس سے غریب والدین کا ساڑھے تین ارب روپیہ بچ جائے گا۔
یہ کوئی نہیں سوچتا کہ موجودہ ایڈمشن فارمولا میں تقریباً 88 فیصد میرٹ سے ڈراپ ہونے والے بچوں کا کیا کریں ایک وقت تھاکہ 60 اور 70 نمبر والے امیدوار ڈاکٹر بنتے تھے۔ ڈاکٹروں کی جو نسل اس وقت ریٹائرمنٹ کو پہنچ رہی ہے ان میں آپ کو 60 نمبروں والے ڈاکٹر بھی ملیں گے جبکہ آج 85 فیصد نمبر لینے والا بھی نا اہل ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل کالجوں میں اضافے اور سیٹوں میں دوگنا اضافہ کر کے ملک کے قیمتی ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
خادم اعلیٰ پنجاب کے پاس ہر مسئلہ حل کرنے کا اپنا ہی انداز ہے مثلاً ہائی ویز پر سفر محفوظ بنانے کی بجائے موٹر ویز کا جال بچھا دیا گیا جو اب گروی رکھی جا چکی ہیں اور جہاں سفر کرنے پر 2 روپے فی کلو میٹر کے حساب سے ٹیکس دینا پڑتا ہے جو دنیا کا مہنگا ترین سفر ہے۔ اسی طرح اربن ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کی بجائے اربوں روپے میٹرو ٹریک کی شکل میں سڑکوں پر بچھا دیئے گئے ہیں جو سالانہ خسارے اور subsidy کی شکل میں ایک سفید ہاتھی ہے۔ اورنج لائن ٹرین کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ سلسلے تو چلتے رہیں گے مگر قوم کے مستقبل کے معماروں کو دریا برد ہونے سے بچانے کے لیے ہمیں انٹری ٹیسٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا کیونکہ یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے۔ اگر اس کا متبادل نہ ڈھونڈا گیا تو پورا تعلیمی نظام زمین بوس ہو جائے گا۔