Atta ur Rehman copy

پتلی تماشا

کون ہے جو یہ تماشا کرا رہا ہے۔۔۔ کس کے ایما، انگیخت اور پس پردہ حوصلہ افزائی پر کون ناچ دکھا رہا ہے۔۔۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے سب کچھ میاں صاحب کے علم میں ہے۔۔۔ وہ بسا اوقات بھولے بن جاتے ہیں اشارہ کر دیتے ہیں۔۔۔ صرف میاں نواز شریف یا خورشید شاہ نہیں پاکستان کا ہر باخبر اور باشعور آدمی جس کی حالات پر نگاہ ہے بخوبی واقف ہے اس کھیل کا ہدایت کار اور پروڈیوسر کون ہے۔۔۔ اور کون ہیں وہ تتلیاں جو جلد از جلد لیلائے اقتدار کی آغوش میں جا بیٹھنے کی خاطر ناچ ناچ دکھاتی ہیں۔۔۔ وہ قوتیں وہ عناصر جنہوں نے یہ کھیل آج رچا رکھا ہے۔۔۔ پہلی مرتبہ ایسا نہیں کر رہے ۔۔۔ 1950ء سے یہ شغل جاری ہے۔۔۔ ہر دور میں اور ہر موڑ پر کردار بدل جاتے ہیں۔۔۔ لیکن پیچھے بیٹھے ہوئے جن کے اشاروں پر سٹیج ڈراما رچایا جاتا ہے روز اول سے وہی ہیں۔۔۔ سوچ وہی ہے۔۔۔ جذبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔۔۔ ارادے اور عزائم نہیں بدلے چونکہ طاقت ور بہت ہیں۔۔۔ لہٰذا دشمن سے مار کھائیں تو کھائیں اپنوں پر ہمیشہ فتح حاصل کر لیتے ہیں۔۔۔ ہر بار سٹیج بدل دیا جاتا ہے۔۔۔ اسے نئی آرائش دے دی جاتی ہے۔۔۔ نئے کردار آجاتے ہیں حالات کے مطابق ڈرامے کو نیا پلاٹ اور نیا روپ دے دیا جاتا ہے۔۔۔ ڈائیلاگ بدلتے رہتے ہیں زد میں آ کر حکومتیں اکھڑتی رہتی ہیں۔۔۔ گھر بھی بھجوا دی جاتی ہیں۔۔۔ لیکن ان کا نشانہ محض سول یا منتخب سیاستدان نہیں ہوتے وہ کچھ اپنی کمزوریوں کچھ حماقتوں اور زیادہ تر کم طاقتور ہونے کی بنا پر رگڑے میں آجاتے ہیں۔۔۔ خود کو پاکستان کے ارض و سماء کا مالک سمجھنے والوں کی اصل مخاصمت یا محاذ آرائی آئین مملکت کے ساتھ ہے۔۔۔ یہ جب بھی بنا۔۔۔ منتخب عوامی نمائندوں نے اسے منظور کیا۔۔۔ اپنے تئیں لاگو کرنے کی سعی کی۔۔۔ طاقتوروں کا بلڈوزر اسے کچل کر رکھ دینے کے لیے حرکت میں آ گیا۔۔۔ کبھی براہ راست اکھاڑ پھینکنے میں کامیابی ملی۔۔۔ ایسا ممکن نہ ہوا تو حلیہ بگاڑ دینے کی سعی کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔۔۔ کتابی شکل میں پایا جاتا ہے۔۔۔ ایک ڈکٹیٹر کے الفاظ میں دو کلو سے زیادہ وزن نہیں رکھتا۔۔۔ اپنے اندر کچھ ایسی نامیاتی قوت و طاقت رکھتا ہے کہ ہر بار ابھر کر سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔۔۔ حلیہ جو اس کا بگڑ چکا ہوتا ہے اسے نہایت چابکدستی کے ساتھ اصل حالت میں لے آتا ہے۔۔۔ معلوم نہیں یہ ہنر اس کے اندر کہاں سے اور کیسے پیدا ہو گیا ہے، نہ نظر آنے والی آئینی طاقت کا سرچشمہ کونسا ہے۔ اصحاب نظر کہتے ہیں اسے سیراب کرنے اور زندہ و توانا رکھنے والا عوامی طاقت اور اصولی قوت کا سرچشمہ ہے۔۔۔ جس کا پانی ہر دم تازہ رہتا ہے۔۔۔ اگرچہ اسے بھی گدلا کرنے کی بے شمار کوششیں ہو چکی ہیں۔۔۔ مگر یہ آب حیات آئین پاکستان کی شفافیت کو قوت لایموت بخشتا ہے۔۔۔ یہ ایسی دستاویز ہے کہ بار بار مرکر بھی زندہ ہو جاتی ہے۔۔۔ زخموں سے چور چور ہو جائے تو اپنے پاس شفایابی کا ایسا نسخہ رکھتی ہے کہ صحت اس کی بحال ہو جاتی ہے۔۔۔ توانائی عود کر آتی ہے۔۔۔ آنکھوں میں چمک آجاتی ہے لیکن اپنے آپ کو ملک کا ناخدا سمجھنے والوں کو اس کی یہ عادت ہرگز نہیں بھاتی۔۔۔ وہ اپنی توپوں کا منہ ہر وقت اس کی جانب کیے رکھتے ہیں۔۔۔ بیچ اس لڑائی کے ہر دور کے سول اور منتخب سیاستدان آجاتے ہیں۔۔۔ لہو لہو ہو جاتے ہیں۔۔۔ بسا اوقات اٹھنے کے قابل نہیں رہتے۔۔۔ جو زندہ حالت میں اپنے جگہ پر کھڑے رہتے ہیں۔۔۔ انہیں لنگڑا لولا کر کے رکھ دینے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔۔۔ میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے اسی چکی میں پسے جا رہے ہیں۔۔۔ وجہ اس کی یہ ہے ان کی جو بھی سیاسی طاقت ہے اس کے سوتے آئین پاکستان کے صافی چشمے سے بہتے ہیں۔۔۔ اگر نواز شریف کی جگہ کوئی اور ہوتا۔۔۔ عوام کا مینڈیٹ اس کے پاس ہوتا دستور مملکت نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ہوتا تو اسی سلوک کا مستحق ٹھہرایا جاتا۔۔۔ اس کے خاندان کا بھی اگر بڑا کاروبار ہوتا اور اس کی ایک ایک اینٹ اکھاڑ کر بار بار سونگھا جاتا کہیں سے کرپشن کی بو تو نہیں آتی یا کرپشن ہی کے الزامات کی پاداش میں کسی اور شکنجے میں جکڑ لیا جاتا۔۔۔ کرپشن کے ہتھیار کو سیاستدانوں کے خلاف استعمال کرنا ان کا پرانا وتیرہ ہے۔۔۔ نواز شریف کے ساتھ پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا۔۔۔
آئین سے اس قدر دشمنی کی وجہ کیا ہے۔۔۔ نہ سمجھ میں آنی والی بات نہیں۔۔۔ یہ ہر ملکی ادارے کی مانند زور آوروں کے مقام اور کردار کو بھی متعین کر دیتا۔۔۔ دائرہ کھینچ دیتا ہے اس سے آگے نہیں بڑھنا۔۔۔ کام سے کام رکھنا ہے۔۔۔ امور سرکارو سلطنت میں بے جا مداخلت نہیں کرنی ۔۔۔ تمہاری یہ حرکتیں اصولی طور پر غلط ہونے کے ساتھ ملک کو بہت نقصان پہنچا چکی ہیں۔۔۔ یہ اس وقت دو ٹکڑے ہوا اور دشمن سے شکست کھانا پڑی جب پاکستان ہمارا سرزمین بے آئین تھا۔۔۔ اسے تمہارے ایک پیشرو نے اکھاڑ پھینکا تھا۔۔۔ وہ غاصب اور غدار کہلایا لیکن تم ان باتوں کو خاطر میں نہیں لاتے ہو۔۔۔ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کی مردہ لاش کو اکیس توپوں کی سلامی دی اور قومی پرچم میں لپیٹ کر قبر میں اتار دی گئی۔۔۔ اسی مدت کے دوران بچے کھچے پاکستان کے عوام کی منتخب اور دستور ساز اسمبلی نے ملک کو سہارا دیا ایک متفقہ آئین از سر نو ترتیب دیا۔۔۔ وہ 1973ء کا دستور کہلایا۔۔۔ اس نے بھی 1956ء کے پہلے ملکی آئین کی مانند ہر ایک کو اس کے ٹھکانے پر لا کر رکھ دیا۔۔۔ کہا ریاست کی کارفرمائی صرف تین اداروں کے پاس ہو گی۔۔۔ مقننہ (قانون ساز اسمبلی)۔۔۔ انتظامیہ(منتخب حکومت) عدلیہ( سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں پر مشتمل اعلیٰ عدالتیں) باقی تمام ادارے یا افراد ان کے ماتحت ہوں گے۔۔۔ پالیسیاں مقننہ اور انتظامیہ بنائیں گی۔۔۔ عدلیہ آئین اور عوام کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔۔۔ بیورو کریسی خواہ کسی بھی محکمے سے تعلق رکھتی ہو ہر آن ان کا حکم بجا لائے گی۔۔۔ فوج ماتحت ادارہ ہو گا۔۔۔ فریضہ اس کا ملکی سرحدوں کا موثر ترین دفاع ہو گا۔۔۔ اسی خاطر اسے بہترین اسلحہ اور قومی بجٹ کا معتدبہ حصہ دیا جائے گا۔۔۔ لیکن یہ اپنے فرائض متعین دائرے کے اندر رہ کر کرے گی۔۔۔ حدود کو تجاوز نہ کرے گی۔۔۔ کسی ہنگامی حالت میں سول حکومت کا ہاتھ بٹانے کے لیے اس کے بلاوے پر آئے گی اور اسی کے حکم کے تحت بیرکوں میں واپس چلی جائے گی۔۔۔ ایک ’ظلم‘ اس آئین کے متن میں یہ بھی کیا گیا کہ آئندہ دستور پاکستان کو الٹا پھینکنے والے کو سنگین غداری کا مرتکب اور سزائے موت کا مستحق قرار دیا گیا۔۔۔ اندر ہی اندر سخت اضطراب نے جنم لیا۔۔۔ یک نہ شد دو شد ایک تو ہمارے کردار کو ڈبے کے اندر بند کر دیا گیا ہے کہ اس کے اندر بندرہو اور سرحدوں پر کھڑے ہو کر دشمن کی جنگی چالوں کو مقابل کرتے رہو کہ تمہارا مقصد وجود اس کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔ دوسرے اگر ہم نے اس سے جان چھڑانا ناگزیر سمجھا تو آئین میں موت کی سزا لکھ دی گئی ہے دونوں باتیں ہمارے ناخداؤں کو ہرگز منظور نہ تھیں۔۔۔ مگر آئین پاکستان کہ مقدس ترین قومی دستاویز سمجھا جاتا اپنی ہٹ پر قائم رہا۔۔۔ آئندہ ملکی اقتدار اور حکومت کاری کے معاملات میں دخل اندازی کی کوشش مت کرنا۔۔۔ اس طرح کی حرکتوں سے پہلے شدید چوٹیں لگ چکی ہیں۔۔۔ زخم مٹائے نہیں مٹتے۔۔۔ سب مل کر سبق حاصل کریں۔۔۔ ورنہ دفاع وطن کے تقاضے اتنے شدید ہیں کہ تمہارے پاس کسی اور جانب متوجہ ہونے کی فرصت نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ چنانچہ نت نئے ڈرامے رچانے اور پتلی تماشے کرانے کا عمل شروع ہو گیا۔۔۔
بھٹو اسی ڈرامہ بازی کی زد میں آکر اپنے سیاسی رفیق کے باپ کے بالواسطہ قتل کی پاداش میں تختہ دار پر لٹک گیا۔۔۔ اسمبلی توڑ دی گئی اور آئین پاکستان کے چہرے پر آٹھویں ترمیم کا تیزاب پھینک کر اسے بوٹوں تلے دبا لیا گیا۔۔۔ دفعہ 6 کی وجہ سے اسے موت کی نیند سلا دینا ممکن نہ رہا تھا۔۔۔لہٰذا سرد خانے میں پھینک دینے کی نئی ترکیب وضع کی گئی۔۔۔ نیا ڈراما رچایا گیا اور کٹھ پتلی تماشا خوب خوب دکھایا گیا۔۔۔ غیر جماعتی انتخابات جن کی وجہ سے کسی بھی جمہوری معاشرے کے اندر انتشار و تفریق کا زہر سرایت کر جاتا ہے۔۔۔ سیاسی جماعتوں کی جگہ برادریاں غالب آجاتی ہیں۔۔۔ گروہی تعصبات کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔۔۔ آئین نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور ڈکٹیٹر کا فرمان حرف آخر بن جاتا ہے۔۔۔ اسی کئی ایکٹ والے ڈرامے کا حصہ تھے۔۔۔ قدم قدم پر تتلیوں کا ڈانس رچایا گیا۔۔۔ محمد خان جونیجو بھی ایسی ایک تتلی تھی۔۔۔ اسے وزیراعظم کی خلعت پہنائی گئی معلوم نہیں اس پر بھی آئین کا جادو کیسے چل گیا۔۔۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنا شروع کر دیں ’’ابے تمہاری یہ مجال‘‘۔۔۔ آٹھویں ترمیم کی تلوار ہوا میں لہرائی اور ہاتھوں سے چنے ہوئے وزیراعظم کے عہدے کے گلے کو کاٹتی ہوئی نیام میں واپس چلی گئی۔۔۔ ضیاء الحق معاً بعد طیارے کے حادثے کی صورت میں راہی ملک عدم ہوئے۔۔۔ ڈرامہ اپنے رچانے والوں کے المیاتی انجام کو پہنچا۔۔۔ اب جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانا ناگزیر ہو چکا تھا کیونکہ مزید بدنامی مول نہ لی جا سکتی تھی۔۔۔ سو وہ ہوئے اور بھٹو کی بیٹی واحد اکثریتی پارلیمانی جماعت کی لیڈر ہونے کی بنا پر وزیراعظم منتخب ہو گئی۔۔۔ اس کے ہاتھ پاؤں مگر باندھ کر رکھ دیئے گئے۔۔۔ اپوزیشن کا محاذ کچھ اپنے طور پر گرم ہوا کچھ یار لوگوں نے اس کی آگ میں ایندھن ڈال دیا ۔۔۔ اس کے باوجود بس نہ چلا تو بینظیر کو سکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا۔۔۔ اب اس کی حکومت کو اسمبلیوں سمیت گھرروانہ کر دینا چنداں مشکل نہ تھا۔۔۔ نواز شریف کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔۔۔ 1990ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔۔۔ ان کی ’آئی جے آئی‘ بھی انہی قوتوں نے ڈرامے کے پلاٹ کے طور پر بنا رکھی تھی۔۔۔ سوچا گیا اپنا پروردہ ہے۔۔۔ مرغ دست آموز بن کر رہے گا۔۔۔ لیکن کتاب آئین پر اس کی نظر بھی جا پڑی۔۔۔ خیال پیدا ہوا میرے تو اختیارات بہت زیادہ ہیں۔۔۔ انہیں خواہ مخواہ سلب کر لیا گیا ہے۔۔۔ میاں محمد شریف کہ کاروباری دنیا میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے انگیٹھی پر ہاتھ سے لوہا پگھلانے کے کاروبار کاآغاز کرتے کرتے بڑی صنعتی ایمپائر کے مالک بن گئے تھے۔ ان کے بیٹے نے وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھنے کے تھوڑی دیر میں اپنی خودی کو پہچان لیا۔۔۔ انگڑائیاں لینی شروع کر دیں۔۔۔ اپنا استحقاق منوانے پر آ گیا۔۔۔ آٹھویں ترمیم مگر موجود تھی۔۔۔ اس کا کاری وار ہوا۔۔۔ میاں صاحب کو گھر کی راہ لینا پڑی۔۔۔ مگر مدافعت کا جذبہ ان کی شخصیت پر چھا گیا۔۔۔ غیر آئینی قوتوں کے خلاف سیاسی مزاحمت کی علامت بنتے چلے گئے۔۔۔ بینظیر کو ان کی جگہ بار دگر لایا گیا۔۔۔ بھٹو کی بیٹی کی پھڑکتی روح اس مرتبہ بھی قابو میں نہ آئی۔۔۔ واپس بھیج دی گئی ۔۔۔ 1997ء کے چناؤ کے بعد نواز شریف خالصتاً ذاتی انتخابی قوت اور عوامی مینڈیٹ کے بل بوتے پر مسند اقتدار پر جا فرد نشین ہو گئے۔۔۔ آٹھویں ترمیم ختم کر دی۔۔۔ جنرل مشرف کے اندر ایوب اور یحییٰ کی روح عود کر آئی۔۔۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ منتخب وزیراعظم کا تختہ الٹ دیا۔۔۔ نیا ڈرامہ سٹیج کیا گیا۔۔۔ کٹھ پتلیوں کی شکل میں ق لیگ اور دوسروں کو لایا گیا۔۔۔ داستان طویل ہے آپ سنتے سنتے سو نہ گئے ہوں۔۔۔ مختصر یہ کہ نواز شریف جلا وطنی کے عالم میں بھی ڈتے رہے۔۔۔ واپس آئے تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے۔۔۔ تاریخ رقم کی۔۔۔ ڈراما رچانے والوں کو وہ ایک نظر نہیں بھاتے۔۔۔ وہی کرپشن کا پرانا الزام جس سے ہر سیاستدان کا چہرہ داغدار کیا جاتا ہے۔۔۔ ان پر بھی خوب زور و شور کے ساتھ لگا۔۔۔ مگر نئے پتلی ڈرامے کے ساتھ۔۔۔ تین دن پہلے جمعرات 15 جون کو پاناما لیکس کے حوالے سے دائرشدہ مقدمے کے تحت بنی ’جے آئی ٹی‘ کے سامنے اپنے ماتحت لیکن ڈرامہ رچانے والوں کی طاقت سے سرشار تفتیش کاروں سے سوال کیا میں ایک مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب اور تیسری بار ملک کا وزیراعظم منتخب ہوا ہوں۔۔۔ اربوں کھربوں کے پروجیکٹ میرے ہاتھوں سے منظور ہوئے کسی ایک میں رشوت لینے تک کک بیکس وصولی کرنے، کمیشن کھانے یا کسی قسم کی خورد برد کا ثبوت ہو میرے مرحوم والد کا شروع کردہ میرے بیٹوں کا کاروبار جس سے مدت ہوئی میں دستبردار ہو چکا ہوں۔۔۔ اس کا حساب کتاب مجھ سے کیوں مانگتے ہو۔۔۔ نواز شریف اندر گئے تو سینہ تان رکھا تھا۔۔۔ پر اعتماد تھے۔۔۔ باہر نکلے چہرے اور آنکھوں پر غصے کی کیفیت طاری تھی۔۔۔ سر عام لیکن سوچا سمجھا اور باقاعدہ تحریر شدہ بیان دیا کہ پتلی تماشا ہو رہا ہے۔۔۔ میں مقابلہ کرتا رہوں گا۔ آئین پوری آن بان کے ساتھ ان کے سر پر کھڑا ہے۔