Riaz-Ahmed-Ahsan

پاک ٹی ہاؤس: ایک دانش گر دانشور کی سالگرہ

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم تندرست اور چاق و چوبند انسان کو دانشور ماننے کیلئے تیار نہیں کیوں کہ ہمارے ذہنوں کی مومی تختی پر دانشور کی جو تصویر اس سماج نے بنائی ہے وہ ایک لاغر اور ٹی بی کے مریضوں ایسی ہے ۔میری اُن سے پہلی ملاقات 2005 ء میں ہوئی جب وہ تقریر کیلئے مائیک پر آئے تو میں نے غور کیا کہ پہلے مقررین کی تقاریر کے درمیان جو شور تھا وہ تھم گیا ہے، تمام دانشور سامعین ہماتن گوش ہو چکے ہیں، انہوں نے اللہ رب العزت کے نام سے رسالت مآب ؐ پر درود و سلام بھیجنے کے بعد فرمایا ’’میں چھوٹا تھا تو پاکستان بڑا تھا اور جب میں بڑا ہوا تو پاکستان چھوٹا ہو گیا، ایک ہزار مہینے سے افضل رات میں بننے والا پاکستان صرف 292 مہینوں بعد آدھے سے بھی کم رہ گیا ‘‘ اِن الفاظ نے مجھے ورطۂ حیرت میں مبتلا کردیا کہ عمر بھر اہلِ مذہب میں زندگی گزارنے کے باوجود ایسی بلاغت کی امید انگریز ی لباس زیب تن کیے شخص سے میں کر ہی نہیں سکتا تھا ۔ دوسری ملاقات استاد محترم حافظ شفیق الرحمان کی توسط سے ہوئی، انہوں نے بتایا کہ ’’ہم دومخالف، متخارب اورمتصادم سوچ رکھنے کے باوجود انتہائی قریبی تعلق رکھتے ہیں ‘‘اب حافظ شفیق الرحمان جیسی جناتی شخصیت کا کسی کیلئے اِن الفاظ کا اظہار کسی حیرت سے کم نہیں تھا اور پھر ہر گزرتے لمحے نے مجھے احساس دلایا کہ اُس کی طلسماتی شخصیت مجھے اپنے طرف کھینچ رہی ہے اور اِس کی وجہ اُن کا وہ علم البیان ہے جو انتہائی اچھوتا اورعام فہم ہے، جب وہ موڈ میں ہوتے ہیں تو انتہائی اعلیٰ اردو اور انگلش میں گفتگو فرماتے ہیں لیکن ایسامیں نے انہیں بہت کم کرتے دیکھا ہے ۔دوسری ملاقات میں وہ کسی دوست کو کہہ رہے تھے کہ ’’جو شخص اپنی زندگی سے سیکھنے کے عمل کو نکال دے اسے خود اپنی موت کا اعلان کر دینا چاہیے چہ جائیکہ لوگ مساجد کے سپیکر سے استفادہ کرتے پھریں‘‘ اِس جملے نے ایک بار پھر میرے دل کے تاروں کو چھیڑ دیا اور میں اُن کے قریب ہوتا چلا گیا ۔موضوعات کی فراوانی اُن کے ہاں ایسی ہے جیسے تخلیق اُن کے ہاں ہاتھ باندھے کھڑی ہو ۔ و ہ اکثر فرماتے ہیں کہ ’’ احسان ہم نے کون سا کسی سے پوچھنے جانا ہے ‘‘ اور واقعی یہ بات سچ ہے کہ میں نے جب بھی انہیں فون کرکے کسی موضوع پر بات کی تو یہی احساس ہوا کہ وہ اس موضوع پر پہلے سے تیاری کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ 6 جولائی کو اُن کی سالگرہ تھی سو خیال آیا کہ ہم مردہ پرست معاشرے کے لوگ زندہ انسانوں کے تعظیماتی دن اُن کے قرب میں کیوں نہیں گزارتے سو خاکسار نے اپنی میزبانی میں پاک ٹی ہاؤس میں شہرلاہور کے کچھ معتبر لوگوں کو مدعو کیا جن میں وہ بھی تھے جو انہیں بچپن سے جانتے تھے، دل میں یہ بھی خیال تھا کہ جان سکوں کہ جنہوں نے اِن کے ساتھ زندگی کا طویل سفر کیا ہے وہ اِس قدآور شخصیت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ؟
لاہور کی چلچلاتی دھوپ میں مقررہ وقت پر دوست تشریف لے آئے ۔استاد محترم حافظ شفیق الرحمان نے تلاوت قرآن پاک کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :’’ میں نے اُن کے جوان کندھوں پر ہمیشہ ایک بزرگ زبان کو گفتگو کرتے ہوئے پایا، وہ انتہائی زیرک، بے باک اور نڈر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے طبقے کیلئے انتہائی درد دل رکھتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ اُن کے دوست ہمیشہ اُن کے ساتھ رہنا پسند فرماتے ہیں ‘‘۔انجمن تاجران لاہور کے نائب صدر برادرم صابر جٹ کا کہنا تھا :’’ گزشتہ بیس سالہ دوستی میں، میں نے انہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اوروہ اکثر کہتے ہیں کہ بچپن میں میری ماں کہتی تھی :’’ بزدل انسان جھوٹ بولتا ہے اور میرا بیٹا بزدل نہیں ہے ‘‘ ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے دوست نے کبھی روپے پیسے کو اپنا معیار نہیں بنایا اور نہ ہی کبھی اُسے اچھے کھانے اور اچھے لباس کی طلب رہی ہے وہ لوگوں کی ضرورتوں کیلئے سب کچھ کر دیتا ہے لیکن کبھی اپنی ضرورت کاتقاضا نہیں کرتا ‘‘۔برطانیہ سے تشریف لائے صاحبِ کتاب کالمسٹ اور دانشور سہیل لون کا کہنا تھاکہ : ’’وہ میرے استاد ہیں اور اُن کا میرے ساتھ رشتہ سقراط اور افلاطون ایسا ہے کہ میں اپنی شاعری کی اصلاح کیلئے اُن کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے نثر لکھنے کی طرف مائل کرلیا اور آج کنگسٹن یونیورسٹی لندن سے فلم میکنگ میں ماسٹر کررہا ہوں اور یہ سب میرے استاد کا فیض ہے‘‘۔شہرِ لاہور کی ہر دلعزیز مشہور اورمقبول شخصیت جناب حاجی بشارت جو صاحبِ صدارت بھی تھے انہوں نے عجیب انکشافات کرتے ہوئے کہا :’’ میں پہلے دن گود میں اٹھا کر اسے سکول چھوڑ کر آیا تھا لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ میری گود میں بچہ نہیں اس قوم کی تقدیر کا ایک درخشاں ستارہ ہے، میں نے زندگی میں بہت کمایا اور یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا لیکن اس نے سہولت تو دور کی بات کبھی ضرورت بھی مجھ سے طلب نہیں کی، جب میرا کوئی بیٹا نہیں تھا یہ میرا بیٹا تھا اور جب میرا کوئی بھائی نہیں تھا یہ میرا بھائی تھا اور آج میں اِس کا باپ بھی ہوں اور سرپرست بھی،میں نے جب بھی اسے قیمتی شے دینا چاہی یہ ہمیشہ یہی کہہ کر معذرت کر لیتا ہے کہ ’’ آپ کا بہت شکریہ مگر آپ کی محبت مجھے اپنے طبقے سے دور کر دے گی ‘‘ اب یہ طبقہ کیا بلا ہوتاہے میں نہیں جانتا‘‘۔ میں نے اپنی گفتگو میں عرض کی : ’’ لوگ کتابیں تصنیف کرتے ہیں اور انہوں نے اس سماج میں انسان تصنیف کیے ہیں، اِن کی چلتی پھرتی کتابیں شہر لاہور اور پاکستان کے مختلف شہروں سے لاہور آتی رہتی ہیں ‘‘ پروگرام میں تحریک انصاف کے قائد جناب نعیم خان،جناب فیصل عثمان نوری،جناب شاہد جعفری، جناب حافظ صہیب بٹ اور عالمگیرشہرت کے حامل کامیڈین حسن عباس نے بھی شرکت کی ۔تقریب کے آخر میں ہمارے استاد نمادوست یا دوست نما استاد نے اپنے خطاب میں اپنی تمام تر خوبیوں کو اپنی ماں کی اعلیٰ ترین تربیت سے منسوب کرتے ہوئے کہا : ’’ مجھے اِک خوف نے ہمیشہ بہتر انسان بننے کی طرف راغب کیا کہ میری ماں کا خواب نہ ٹوٹ جائے ‘‘ دوستو!یہ کوئی غیر نہیں ہمارے اپنے خواجہ جمشید امام کی سالگرہ تھی ۔