Dr-ibrahim-mughal

پاک فوج کی تکر یم

پاک فوج بھی عجیب فوج ہے۔ ان کی گاڑیاں ٹائم پر سٹارٹ ہو جاتی ہیں ، پٹرول ختم نہیں ہوتا ،بندوقیں ہر وقت ریڈی ہوتی ہیں ، کرینیں ہر وقت کارآمد ، دن ہو رات ہو ، عید ہو بقرعید ہو ،بارش ہو ،طوفان ، سردی ہو یا گرمی جب پکارو ادھر حاضر ۔ کبھی نہیں کہا: ہمیں رٹن آرڈر نہیں ملے ، کسی نے بتایا نہیں ، چیف صاحب سو رہے تھے ،کور کمانڈر سیر کیلئے گئے ہیں واپس آئیں گے تو فیصلہ ہو گا۔ پہلے ہمیں بارش سے نپٹنے کیلئے ضروری سامان دو ، تب کام شروع ہو گا۔ کوئی حیلے بہانے نہیں۔ زلزلہ ہو تو سارا سامان موجود، آگ لگ جائے تو سارا سامان اور فنڈز موجود ، سیلاب آ جائے تو سارا سامان اور فنڈ ز موجود۔ کبھی کوئی شکایت نہیں کی، اور عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سارے کام وار زون میں کرنے پڑتے ہیں ، بندوقیں اور اسلحہ ساتھ رکھنا پڑتا ہے بلٹ پروف جیکٹ پہن کر ریسکیو کا کام کرنا پڑتا ہے ،کہ کہیں کوئی ہم وطن قریب آکر پھٹ ہی نہ جائے۔ بیک وقت جنگ بھی اور مدد بھی ریسکیو بھی۔ ایسی فوج کہیں نہ سنی ہے نہ پڑھی ہے نہ دیکھی ہے۔ فوجیں امن کی ضامن ہوتی ہیں صومالیہ دیکھو، عراق دیکھو، شام دیکھو، برما دیکھو، یمن دیکھو، افغانستان دیکھو۔ یہ فوج نہیں یہ اللہ کی نعمت ہے ، یہ اللہ کا احسان ہے۔ باقی ملکی ادارے دیکھو پتا بھی ہے ہر سال سیلاب آتا ہے پھر بھی کوئی تیاری نہیں ہوتی ۔ جب سیلاب کا پانی ہر جگہ گھس جاتا ہے تو یا حزب مدد ،یا فوج مدد۔ پتا جو ہے کہ فوج نے آ ہی جانا ہے۔ یقیناًفوج ملک کی ہے ،لیکن ان کاموں کیلئے نہیں جو تم اس سے لیتے ہو ۔ اللہ میرے وطن اور میری فوج کو سلامت رکھے، آمین! جن لوگوں کو پاک فوج کی تنخواہوں پر مسلسل تکلیف رہتی ہے ان کے لیے ایک ہلکا پھلکا سا موازنہ! دنیا کے چند اہم ممالک کا فوج پر فی کس خرچہ۔
امریکہ : 409،596ڈالر، برطانیہ : 314،105 ڈالر ، سعودی عرب: 272،805 ڈالر، فرانس: 250،675 ڈالر ، اسرائیل: 100،849 ڈالر، چین: 92،456ڈالر ، روس: 81،893 ڈالر، افغانستان: 59،487 ڈالر، انڈیا: 42،188 ڈالر، ترکی: 36،819 ڈالر، ایران: 23،518 ڈالر، بنگلہ دیش: 17،597 ڈالر، اور پاکستان 13،513 ڈالر ۔ پاک فوج دنیا میں کم ترین پیسے لینے والی فوج ہے! لیکن اپنے ان محدود سے وسائل میں امریکہ، روس، انڈیا اور اسرائیل جیسی طاقتوں سے ٹکر لے رکھی ہے۔ دنیا کا جدید ترین نیوکلیئر میزائل پروگرام، لڑاکا طیارے، جدید ترین ٹینک اور ڈرون طیارے بنانے میں کامیاب رہی۔ دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ بھی لڑ رہی ہے۔ لیکن جب ان بدبختوں سے کہا جائے کہ پاک فوج کا جوان شہید ہوا ہے تو نہایت بے
رحمی سے جواب دیتے ہیں : ’’تنخواہ کس بات کی لے رہے ہیں‘‘۔ اللہ نے دنیا کی بہترین فوج عطا کی ہے۔ اس کی قدر جانیں۔
ا گر پا کستا ن کے عو ا م ا پنی فو ج کی تہ د ل سے عز ت کر تے ہیں تو ا س کی معقو ل و جہ یہی ہے کہ فو ج کبھی کسی قسم کی کرپشن میں ملو ث نہیں پا ئی گئی۔ جبکہ کسی بھی طا قتو ر ا د ا ر ے کا کر پشن میں ملو ث ہو جا نا فطر ی طو ر پر نہایت آ سا ن ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے ا یک طا قتو ر ا د ا ر ے پو لیس کی مثا ل سا منے ہے۔ پنجاب پولیس میں 2 سال کے دوران اڑھائی ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا جبکہ افسروں کے کھانوں او رمختلف دوروں سمیت زیادہ تر اخراجات کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔ جرائم تو کنٹرول نہیں کرپائی مگر اشتہاریوں کی گرفتاری اور اہم مواقع پر سکیورٹی بہتر بنانے کے نام پر سرکاری خزانے کو بلاجوا زنقصان پہنچایا۔ مظاہروں اور دھرنوں وغیرہ پر خرچہ 30 فیصد زائد ظاہر کرکے عوامی ٹیکس کے 31 کروڑ روپے بے دریغ لوٹ لیے گئے لیکن ریکارڈ اس کا بھی کوئی نہیں۔ خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق لاہور، فیصل آباد، جہلم، راولپنڈی، ملتان، اوکاڑہ، ساہیوال، ڈی جی خان سمیت 27 اضلاع کی پولیس نے سکیورٹی بہتر بنانے کے نام پر خزانے کو نقصان پہنچایا اور 2 ارب 6 کروڑ 95 لاکھ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ ہی موجود نہیں۔ اس کے علاوہ روزمرہ کی اشیاء کی خریداری، گاڑیوں کے پٹرول اور سیکرٹ فنڈز کے استعمال میں بھی گھپلے کیے گئے جبکہ افسروں نے کھانے پینے اور سٹیشنری کی مد میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے اڑادیئے۔ کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ اور سیکرٹری داخلہ آفس میں لاکھوں کے اضافی اخراجات کیے گئے۔ اسی طرح لاہور، حافظ آباد، اوکاڑہ، فیصل آباد، خانیوال، وہاڑی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پولیس نے پٹرول کی مد میں کروڑوں روپے خوردبرد کیے۔ 77 گاڑیاں قابل استعمال ہی نہیں تھیں لیکن ان کے لیے لاکھوں روپے کا پٹرول ریکارڈ میں ظاہر کیا گیا۔ ادھر سپیشل برانچ لاہور میں لاکھوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں اور غیر ضروری اخراجات کیے گئے۔ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے زبانی احکامات پر سرکاری فنڈز خرچ کرکے بعض افراد کی نگرانی اور ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہا، تاہم بعد میں یہ مشق فضول نکلی۔ معلوم ہوا کہ سابق ڈی پی اوز، آر پی اوز غیر قانونی اقدامات کے وقت یہ احکامات بھی دیتے کہ ریکارڈ کی ضرورت نہیں، بس پروٹوکول قائم رہنا چاہیے۔ دستاویزات بتاتی ہیں کہ 15 پولیس افسر ایسے تھے جنہوں نے سرکاری گاڑیوں، فرنیچر اور مشینری کی مرمت میں غیر قانونی طور پر 89لاکھ 90 ہزار روپے ضائع کردیئے۔ ان افسروں نے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند ورکشاپوں و کمپنیوں سے کام کروائے جبکہ ایسا فرنیچر جسے کچھ ماہ پہلے لاکھوں روپے لگا کر ٹھیک کروایا گیا دوبارہ مرمت پر مزید فنڈز جاری کردیئے۔ بعض اعلیٰ افسروں نے ٹینڈر بھی نہ دیئے اور کام بھی مہنگا کروا کر سرکاری خزانے میں نقب لگائی۔ ان میں سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے 15 لاکھ 89 ہزار 489 روپے، سی پی او راولپنڈی 10 لاکھ 10 ہزار 960، سی پی ٹی سی چوہنگ لاہور 7 لاکھ 20 ہزار 932، ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول لاہور 7 لاکھ، سی پی او گوجرانوالہ 6 لاکھ 54 ہزار 720، ایس ایس پی ٹیلی کمیونیکیشن لاہور 6 لاکھ 18 ہزار، سی سی پی او لاہور 5 لاکھ 92 ہزار، ڈی پی او جہلم 5 لاکھ 42 ہزار 830، ڈی پی او اٹک 42581، ایس ایس پی ٹیلی کمیونیکیشن پنجاب لاہور 4لاکھ 88 ہزار 724 روپے کے فنڈز غیر قانونی طور پر استعمال کیے۔ اسی طرح 217 افسروں اور ملازمین کو بغیر اجازت اضافی الاؤنسز سے نوازا گیا جبکہ اس کا ریکارڈ ہی ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہا ں ا پنے قا ر ئین سے بڑ ے ا د ب کے سا تھ ایک سوا ل پو چھتا ہو ں ، و ہ یہ کہ کیا فو ج کو یہ سب کر نے کے مو ا قع میسر نہیں؟ سید ھا ا ور آ سا ن جوا ب ہے کہ اس سے کہیں زیا دہ مو اقع میسر ہیں۔ مگر وہ کبھی ا س لیے ا یسا نہیں کر تی کہ و ہ پاک سر ز مین کو ما ں کا د ر جہ د یتی ہے۔