Dr-ibrahim-mughal

پاک فوج کا بجٹ ا و ر کچھ گذ ا ر شا ت

کچھ انتہائی دلچسپ حقائق ملاحظہ کیجیے ا س سو ا ل کے جو ا ب میں کہ کیا پا ک آ ر می کو بجٹ کا ا سی فیصد ملتا ہے؟
پہلے یہ تو سن لیں کہ اس بار کل 42 ارب ڈالر کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں سے پاک فوج کا حصہ 6.8 ارب ڈالر ہے جو تقریباً 15فیصد بنتا ہے۔ اور دوسری بات۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاک فوج دنیا میں کم ترین پیسے لینے والی افواج میں سے ایک ہے۔؟؟بدقسمتی یا خوش قسمتی سے پاکستان اپنی ایک مخصوص اسلامک آئیڈیالوجی اور نہایت اہم سٹریٹجک لوکیشن کی وجہ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ دشمن رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے وجود کو ختم کرنا یا کم از کم اس کی دفاعی طاقت کو توڑنا اس وقت دنیا کے چند طاقتور ترین ممالک کا مشترکہ ایجنڈا اور مفاد ہے جن میں انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل سرفہرست ہیں اور پھر ان کے اتحادی یعنی نیٹو اور افغانستان جیسے مسلم ممالک بھی۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی 3600 کلومیٹر سرحد جنگی لحاظ سے ایکٹیو ہے جو پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑی جنگی ایکٹیو سرحد رکھنے والا ملک بناتی ہے۔۔!جبکہ اندرونی حالات یہ ہیں کہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جس کا کل رقبہ تقریباً آدھے پاکستان کے برابر ہے حالت جنگ میں ہے !کراچی جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے حالت جنگ میں ہے اور وہاں دہشت گردوں کے خلاف ایک مستقل آپریشن جاری ہے۔پاکستان کے شمال میں واقع پورا قبائلی علاقہ جو جنگی لحاظ سے دنیا کا مشکل ترین خطہ سمجھا جاتا ہے پوری طرح حالت جنگ میں ہے اور وہاں ہماری کم از کم اڑھائی لاکھ آرمی دہشت گردوں سے برسرپیکار ہے۔
پاکستان کی دفاعی ضروریات کس نوعیت کی ہونی چاہئیں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ لیکن حیران کن طور پر۔دنیا کی پانچویں بڑی آرمی ( پاک فوج ) اخرجات کے لحاظ سے دنیا میں 25 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا بہت بڑا ایٹمی اور میزائل پروگرام بھی ان اخراجات کا حصہ ہے۔پاکستان کے دفاعی اخراجات ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا محض 2.8 فیصد ہیں۔ (خیال رہے کہ یہ مجموعی قومی پیداوار ہے نہ کہ بجٹ )۔جبکہ امریکہ کے دفاعی یا ملٹری اخراجات ان کی کل پیداوار کا 4.7 فیصد ہیں۔روس کے 3.9 فیصد ہیں۔اسرائیل کے 6.9 فیصد ہیں۔سعودی عرب کے 11.4 فیصد ہیں۔عرب امارات کے 6.9 فیصد۔افغانستان کا 6.4 فیصد ہے۔پاکستان سے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے 5 گنا بڑے انڈیا کے دفاعی اخراجات پاکستان سے 8 گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان کے 6.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں انڈیا کے دفاعی اخرجات 50 ارب ڈالر زیادہ ہیں جس میں نریندر مودی مزید اضافہ کررہا ہے۔امریکہ کے کل دفاعی اخراجات 642 ارب ڈالر ہیں۔چین کے دفاعی اخراجات 160 ارب ڈالر ہیں۔پاکستان سے اپنے دفاع کے لیے فوجی مدد طلب کرنے والے سعودی عرب کے کل دفاعی اخراجات 81 ارب ڈالر ہیں۔پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانے والے روس کے دفاعی اخراجات 70 ارب ڈالر ہیں۔
70لاکھ آبادی رکھنے والے اسرائیل کے دفاعی اخرجات 23 ارب ڈالر ہیں۔افغانستان جیسے ٹوٹے
پھوٹے ملک کا دفاعی بجٹ 11 ارب ڈالر ہے۔بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت۔۔۔ کولمبیا، سنگاپور ، تائیوان ، چلی اور ناروے جیسے ممالک کے ملٹری اخراجات بھی پاکستان سے زیادہ ہیں۔پاکستان کے بے پناہ وسائل کا استحصال کرنے والے اور بے انتہا لوٹ مار کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دینے والے اکثر سیاست دان پاکستان کے تمام مسائل کا حل یہ سمجھتے ہیں کہ ’’دفاعی اخراجات کم کریں‘‘۔مذکورہ ممالک میں سے کوئی ایک بھی اپنے دفاع پر سمجھوتہ نہیں کرتا نہ وہاں دفاعی اخراجات کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے۔ حالانکہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کو کہیں کسی بھی جنگ کا سامنا نہیں۔ان سارے حقائق کو سمجھنے کے بعد یہ سوال دماغ میں ضرور اٹھتاہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر اعتراضات کرنے والے لوگ کون ہیں ؟ نادان دوست یا دانا دشمن ؟
کیا آ پ جا نتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی سب سے بڑی ایکٹیو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر طویل ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں۔ آئیے آج ذرا اس کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جس کیلئے انڈیا کی کل فوج کی 7کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں۔ یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کیلئے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کیلئے سڑکوں ، پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرافیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر ان کو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ پاکستان آرمی کی ’’عزم نو‘‘ مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے۔ انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے اڑھائی لاکھ فوج دستیاب ہے کیونکہ باقی امریکن ’’ایف پاک‘‘ ڈاکٹرائین کی زد میں ہے۔امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن (Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی پاکستان کے خلاف جنگی حکمت عملی ہے جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ہے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ اس جنگ کیلئے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تکنیکی مدد حاصل ہے۔ اس کیلئے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کیلئے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو ان کے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا۔ پاک فوج نے عملی طور پر ان کو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی ان کو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جس کی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اس کی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اور اس کو فورتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے۔ فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جس کے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے۔ مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے ، صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے۔
آخر میں ا یک ا ہم نکتہ یہ کہ چو نکہ پا ک آ ر می نے پو لیس کی ذمہ د ا ر یا ں بھی کما حقہ طو ر پر اٹھا ئی ہو ئی ہیں لہذ ا پو لیس کا سو ا ر ب کا بجٹ آر می کو د ے د ینا چا ہئے۔