Tahir-Nusrat

پاکستان کی بدلتی پالیسی

ڈونلڈ ٹرمپ کا شورشرابہ بے کار نہیں۔۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔۔۔ مگر یہ پردہ داری پاکستان کی جانب سے نہیں امریکہ کی جانب سے ہے۔ امریکہ کو افغانستان میں منہ کی کھانا پڑ رہی ہے ، شورش زدہ افغانستان کا چالیس فیصد سے زیادہ علاقہ طالبان کی عملداری میں ہے۔ اتحادی افواج اور دیگر سکیورٹی اہلکار ہرلمحہ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔امریکہ جیت کیلئے بے چین، طالبان عالمی افواج کو کمزور کرنے اور گھٹنے ٹیکنے پر بضد جبکہ خطے کے دیگر سٹیک ہولڈرز آپس میں ایک دوسرے کو چِت کرنے میں مصروف ہیں۔
افغانستان میں دلی مراد برنہ آنے پر ٹرمپ سرکار نفسیاتی عارضے میں مبتلاہوچکی ہے۔ امریکہ جس انداز اور جس بھونڈے طریقے سے یہ توقع لگائے بیٹھا ہے کہ پاکستان افغانستان میں اس کی مخالف قوتوں کو ایک میز کے گِرد بٹھائے گا پھر امریکہ اپنی شرائط سے ان سے معاہدہ کرے گا اور دنیا بھر کے سامنے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرخرو ہوکر واہ واہ سمیٹ لے گا، یہ تو شاید دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ افغانستان کی دلدل سے نکلنا ہے تو امریکہ کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ مگر طاقت کے نشے میں مخمور امریکہ کو کوئی کیسے سمجھائے کہ دنیا خواہشات پر نہیں معروضات پر چل رہی ہے۔
برس ہا برس بیت گئے مگر عالمی استعمار کی سوچ نہ بدلی، ٹرمپ نے صدارتی کرسی سنبھالی تو اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ مسلمان ممالک کی امریکہ میں پابندی کے بکھیڑے سے لے کرپاکستان اور افغانستان کی پالیسی تک، ایران کے خلاف سعودی عرب میں اتحادی افواج کی پیٹھ پرتھپتھپاہٹ سے لے کر اسرائیل میں دیوارگریہ کے سامنے گریہ و زاری تک، یروشلم کو صہیونی ریاست کا دارالخلافہ تسلیم کرنے سے لے کر اقوام متحدہ میں ڈھٹائی اور پھر مدد کے نام پر کئی ممالک کو دھمکانے تک، مودی کی گودی میں بیٹھ کرشاباشی سمیٹنے سے لے کرچین کو بے چین کرنے کے کے لیے پاکستان پر زمین تنگ کرنے تک ٹرمپ انتظامیہ ایسے ایسے اقدامات کررہی ہے۔ جو دنیا میں فساد کیلئے تو کافی ہیں تاہم قیام امن کیلئے نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے پاکستان کو 33 ارب ڈالر مدد دی ہے جبکہ افغانستان میں امریکی تاریخ کی اس طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ پر 714 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ پاکستان کئی بار یہ یقین دہانی کراچکا ہے کہ پاکستانی سرزمین کے ایک ایک انچ پر رٹ بحال ہوچکی ہے جبکہ امریکہ یہ ماننے کو تیار نہیں اور اب بھی ’ڈومور‘ کا مطالبہ دہرا رہا ہے۔ دنیا کو ہماری قربانیاں، ہماری بربادیاں نظر نہیں آرہیں، ہماری نیت ، ہمارے اخلاص اور ہماری کوششوں پر شک کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ نے بحث کا ایک نہ بند ہونے والا باب کھولا ہے۔ امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں دینا کوئی نئی بات نہیں۔ سیٹو ، سینٹو میں ساتھ دینا ہو، افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف امریکا کی مدد کرنی ہو یا پھر اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار نبھانا، پاکستان ہر حال میں اپنے یار سے وفاداررہا۔ لیکن امریکہ نے ہمیشہ گن بھارت کے ہی گائے۔
مگر اب ہواؤں کا رخ تبدیل ہوگیا ہے۔ کل کی سپریم طاقت کو آج چیلنج کرنے والا صرف چین ہی نہیں روس کی سانس بھی بحال ہوچکی ہے۔ طاقت کا توازن اب کسی خاص سمت نہیں رہا۔ دنیا یونی پولر(UniPolar)سے بائی پولر (Bipolar)میں تقسیم ہونے جارہی ہے۔ بین الاقوامی بساط پرشطرنج کے مہرے اور پیادے بھی اپنی اپنی جگہ پر کردار ادا کرنے کیلئے میدان میں کود گئے ہیں۔
پاکستان سے متعلق ٹرمپ کے حالیہ بیان کو افغانستان اور پاکستان کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ چین اور امریکہ کے مفاداتی ٹکراؤ کے تناظر میں دیکھا جائے تو سب کچھ واضح ہوجائے گا۔ جب سے چین نے اپنی معاشی پالیسیوں میں وسعت پیدا کی ہے، ون بیلٹ ون روڈ کی بنیاد ڈال دی، سی پیک کے ذریعے مختلف ممالک کو جوڑنے کا عمل شروع کررکھا ہے تب سے چین عالمی طاقتوں کی نظر میں کھٹک رہا ہے۔۔ لیکن ایسے میں ہم نے اپنے مفاد کے تحت آگے بڑھنا ہوگا نہ کہ کسی کی مخالفت مول لے کر۔
اس میں شک نہیں کہ سکیورٹی کے لحاظ سے پاکستان ایک ناقابل تسخیرملک ہے۔ جس کی فوج دنیا کی گیارہویں بڑی مضبوط فوج ہے۔۔ ایٹمی قوت اور جدید دفاعی ساز و سامان سے لیس۔ پاکستان کے خلاف کوئی بھی ملک کارروائی کرے گا تو سوبار سوچے گا۔ مگر کچھ حقائق ایسے بھی ہیں کہ جن پر ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
کیا پاکستان نے امریکہ کے سایۂ عاطفت سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا؟ کیا پاکستان اب چین کے زیرسایہ رہے گا؟ہم جس کی چھتری تلے جارہے ہیں کیا وہ ہماری ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمارا ساتھ دے گا؟ اگرایسا ہے تو پھر واپسی میں ہمیں کیا دیناہوگا؟ اب جو موڑ آیا ہے وہ بہت ہی فیصلہ کن ہے۔ یاری دلداری نبھانی ہے تو بھی ذرا سوچ سمجھ کے، اپنی معشوق سے سترسالہ رفاقت بھی نبھانی ہے تو بھی ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ، کیونکہ ہم جس گیم کا حصہ بنتے جارہے ہیں اس میں جیت صرف مفادات کی ہوتی ہیں۔ جب تک مفاد ہے سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ مفاد ختم تو قصہ بھی ختم۔