Khalid Bhatti

پاکستان کی انتخابی سیاست

پاکستان کی انتخابی سیاست ابھی تک گلیاں پختہ کروانے، نالیاں بنوانے، ملازمتوں کے وعدے اور گیس کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل اور معاملات سے اوپر نہیں اٹھ سکی۔ قومی معاملات، خارجہ پالیسی، اقتصادی پالیسیوں اور نظام میں اصلاحات اور تبدیلی کے معاملات کو سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور بڑے رہنماؤں کی باہمی گفتگو اور بحث و مباحثے تک محدود رکھا جاتا ہے۔ انتخابی جلسوں اور عوامی اجتماعات میں سنجیدہ اور متین گفتگو کرنے اور اپنا سیاسی لائحہ عمل بتانے کی بجائے مخالفین پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ مخالفین کی پالیسیوں پر تنقید کرنے اور اپنی متبادل پالیسیوں کے بارے میں بتانے کی بجائے غیر اہم معاملات اور مسائل پر وقت ضائع کیا جاتا ہے۔
عوام کو منظم کرنے اور انہیں سیاسی طور پر متحرک کرنے میں سیاسی جماعتوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں آبادی کی مختلف پرتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کے مسائل کو اپنے پروگرام منشور اور لائحہ عمل کا حصہ بناتی ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ سیاسی قیادت کو نہ تو محنت کش عوام سے دلچسپی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل اور مشکلات سے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں پاکستان کے محنت کش، کسان، طلباء اور غریب عوام سیاست میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ پیپلزپارٹی کی تو بنیاد ہی محنت کش عوام کے مسائل کے حل پر رکھی گئی تھی۔ پیپلزپارٹی وہ پہلا سیاسی پلیٹ فارم تھا جہاں سے محنت کش عوام نے اپنے اجتماعی سیاسی شعور کا بھرپور اظہار کیا۔ پیپلزپارٹی کو قلیل مدت میں ملک گیر مقبول عام جماعت بنانے میں محنت کش عوام نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ درمیانے طبقے کے سیاسی دانشوروں، کارکنوں، محنت کشوں، کسانوں، طلباء اور نوجوانوں نے پیپلزپارٹی کو سیاسی حقیقت میں تبدیل کر دیا۔ مگر بدقسمتی سے پارٹی اپنے نصب العین، پروگرام اور منشور پر قائم نہ رہ سکی اور راستہ بھٹک گئی۔ جس کی سزا آج تک پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔
1970ء کے انتخابات میں پہلی بار پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو پنجاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلزپارٹی کے نوجوان سیاسی کارکنوں، مزدور رہنماؤں، کسان لیڈروں اور سابقہ طالب علم رہنماؤں نے پنجاب کی روایتی سیاسی اشرافیہ کو چیلنج کیا اور نئی سیاست کی بنیاد رکھی مگر یہ جلد ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور پنجاب کی سیاسی اشرافیہ نے جوق در جوق پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی جبکہ سندھ میں تو بڑے جاگیردار پہلے ہی ذوالفقار علی بھٹو کے ہم رکاب تھے۔ موجودہ پارٹی تو سندھ کے جاگیرداروں اور وڈیروں کی پسندیدہ جماعت ہے۔
سندھ میں گنتی کے چند جاگیردار سیاسی خاندان ہی پیپلزپارٹی سے باہر رہ گئے ہیں۔ استحصال، جبر، نا انصافی اور طبقاتی تفریق کے خلاف بننے والی جماعت آج سندھ کے محنت کش عوام کا بدترین استحصال اور جبر کرنے والے وڈیروں کی نمائندہ جماعت بن چکی ہے۔
پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی اسی پالیسی پر کاربند ہے اور الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے با اثر امیدواروں کی تلاش میں ہے۔ 2002ء میں پیپلزپارٹی کو داغ مفارقت دینے والے مخدوم فیصل حیات کی دوبارہ پارٹی میں شمولیت اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ چند با اثر شخصیات کے ذریعے چند نشستیں حاصل کی جائیں مگر ابھی تک پارٹی کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) آج بھی سرمایہ داروں اور تاجروں کی پسندیدہ جماعت ہے۔ پنجاب کے شہروں میں اس کا ٹکٹ کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کے روایتی سیاسی خاندانوں کی اکثریت اس وقت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے جو اس جماعت کی اصل انتخابی طاقت ہے۔ مگر ان خاندانوں یا با اثر افراد کے لیے سیاسی وفاداری تبدیل کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس کا بہت تلخ تجربہ ہے۔ جب مسلم لیگ (ن) کے دیہی ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت جنرل مشرف کی خواہش پر اس جماعت کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں چلی گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) جس نے 1997ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی مگر 2002ء کے انتخابات میں محض 17 نشستوں تک محدود ہو گئی تھی ۔ بدلتے ہیں رنگ آسمان کیسے کیسے۔
باقی صوبوں کی نسبت پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں درمیانے طبقے اور خاص طور پر درمیانے طبقے کی بالادستی پر توں کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ فوجی اور سول افسر شاہی کا غالب حصہ انہی پرتوں سے آتا ہے جس کی وجہ سے ان پرتوں کے افراد کا سیاست میں عمل دخل بڑھ رہا ہے لیکن یہ عمل زیادہ تر وسطی اور شمالی پنجاب تک محدود ہے۔ اسی طرح دولت کے زور پر سیاست میں داخل ہونے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
بلکہ حکمران طبقات اور اشرافیہ نے سیاست میں سرمائے کی فراوانی کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا الیکشن تو دور اب تو متوسط اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص یونین کونسل کا الیکشن لڑنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر غیر متعلقہ افراد کا قبضہ ہے۔ انتخابی سیاست میں سرمائے کے غلبے اور تسلط نے عام آدمی کو محض ووٹ ڈالنے کے کردار تک محدود کر دیا ہے۔ کئی دہائیوں کی شعوری پالیسی کے نتیجے میں یہ سوچ اب سماج میں سرایت کر چکی ہے اور اس حد تک راسخ ہو چکی ہے کہ غریب عوام نے اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا ہے کہ الیکشن لڑنا صرف بڑے لوگوں کا کام ہے۔ بڑے لوگوں سے مراد یہ سرمایہ دار، جاگیردار، قبائلی سردار اور نو دولتیے ہیں جو سرمائے کے زور پر سیاست پر غالب ہیں۔
پاکستان کی انتخابی سیاست 3 دہائیوں سے محض با اثر افراد اور روایتی سیاسی گھرانوں کے درمیان سیاسی غلبے کی انتخابی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس سیاسی اکھاڑے میں جیت ہمیشہ اشرافیہ کی ہوتی ہے اور ہار عوام کا مقدر بنتی ہے۔ پنجاب اور KPK کے شہروں میں درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے نوجوان کا سیاسی اظہار زیادہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں شہری درمیانے طبقے اور دیہی درمیانے طبقے کی پرتوں کی طرف سے سیاسی اشرافیہ کو نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پنجاب کی مڈل کلاس دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ سماجی اثر و رسوخ کی حامل ہے جس کی ریاستی اداروں میں ان پرتوں کا عمل دخل ہے۔ عمران خان کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ تحریک انصاف کو ان پرتوں اور محنت کش عوام کی خواہشات، آرزوؤں اور سیاسی اظہار کا ذریعہ بناتے اور سیاسی اشرافیہ کی بالادستی اور غلبے کو چیلنج کرتے مگر انہوں نے روایتی سیاست اور سیاست دانوں کا انتخاب کیا۔ تبدیلی کے نعرے کو بلند کرنے والی تحریک انصاف بھی اس اشرافیہ کا سیاسی اظہار بن چکی جس کے خلاف اسے بر سر پیکار ہونا تھا۔
2018ء کے انتخابات میں سیاسی اشرافیہ کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں ہو گا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے نام پر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے نام پر جبکہ KPK میں تحریک انصاف یا پھر کسی اور نام سے اور بلوچستان میں مختلف ناموں سے اس اشرافیہ کا راج قائم رہے گا۔ صرف انتخابی نشان تبدیل ہوں گے جبکہ وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور قبائلی سرداروں کی جمہوری حاکمیت کا تسلسل جاری رہے گا۔ شاید چند نام اور چہرے تبدیل ہو جائیں اور ہم اسی تبدیلی کو انقلاب قرار دے کر خوشی کے شادیانے بجاتے رہیں۔
جب جمہوریت کی حیثیت اشرافیہ کی لونڈی کی رہے گی اس وقت تک جمہوری نظام اسی طرح خشک پتوں کی طرح ہوا کے معمولی جھونکوں سے لرزتا رہے گا۔