yousaf Alamgirian

پاکستان نہیں اب دنیا ’’ڈو مور‘‘ کرے

نائن الیون کے بعد سے بھارت کی گویا لاٹری نکل آئی کہ وہ پاکستان کے خلاف کھل کر کھیل رہا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے سازشیں کرتا رہتا ہے۔ اس میں اسے اُس بین الاقوامی طاقت کی سرپرستی بھی حاصل ہے جس کی اسٹیبلشمنٹ یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے نہیں تھکتی کہ دنیا میں قیام امن میں اس کی بڑی خدمات ہیں۔ اس کا دیگر ممالک کے ساتھ رویہ رعونت آمیز ہوتا ہے۔ وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہے اس نے غلط اطلاعات کی آڑ میں عراق جیسے ملک کو تہس نہس کر دیا۔ اس نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ وہ اپنے ہاں ہونے والے نائن الیون کے دھماکے کو جواز بنا کر دہشت گردی کی جنگ جنوبی ایشیائی خطے بالخصوص افغانستان اور پاکستان میں لے آیا۔ اب یہ جنگ پاکستان کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے یہ جنگ پاکستان کی جنگ بن چکی ہے اور پاکستان نے اس کا سامنا دلیری سے کیاہے۔ بین الاقوامی طاقتوں کے فنڈڈ لوگ ہی کبھی القاعدہ تو کبھی داعش کے روپ میں پُرامن دنیا کو جہنم بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ مغربی میڈیا نے دہشت گردی اور شدت پسندی کو اس انداز سے کوریج دی ہے کہ اب اس کی جڑیں اُن کی اپنی نوجوان نسلوں میں مضبوط ہو رہی ہیں۔ اب یہی وجہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک میں عیسائی اور یہودی دہشت گرد خودکش حملے کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مغربی میڈیا عیسائی اور یہودی دہشت گردوں کو صرف دہشت گرد کہتے ہیں اور اُنہیں عیسائیت اور یہودیت سے نہیں جوڑتے ۔ یہی حال بھارت کے ہندو دہشت گردوں کا ہے۔ اُن کا ایک حاضر سروس کرنل پروہت سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے میں ملوث تھا۔ لیکن مغربی میڈیا نے اسے ہندو دہشت گرد قرار نہیں دیا۔ بلکہ اسے سرے سے دہشت گرد کہا ہی نہیں گیا۔ وہ صرف ملزم قرار دیا گیا اور بھارت کی عدالتوں نے اسے ٹھیک اس دن باعزت بری کر دیا جس روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر کر کے جنوبی ایشیا کے لئے اپنی پالیسی وضع کی اور بتایا کہ پاکستان کو بتانا ہو گا کہ وہ ہمارے ساتھ ہے یا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کا ملک اتنا مُنا کاکا ہے کہ اسے آج تک یہی معلوم نہیں ہو رہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے والا ملک پاکستان کس کے ساتھ ہے۔ پاکستان کے 70ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ دلیرانہ انداز میں لڑی ہے اور الحمدﷲ آج ہمارے ملک میں امن اور خوشحالی کے اثرات دکھائی دیتے ہیں اور لوگ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خوف سے باہر نکل آئے ہیں۔ بین الااقوامی سطح پر یہ بخوبی معلوم ہے کہ افغانستان کے اندر 42ممالک پر مشتمل نیٹو افواج کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ لگتا ہے یہ افواج افغانستان کے اندر بھارت کو زیادہ سے زیادہ رول دے کر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے آئی تھیں۔ پاکستان کے خلاف بارڈرپار سے جتنے حملے ہوتے رہے اس کے ڈانڈے بھارت اور افغانستان میں موجود پاکستان مخالف لابی سے ملتے رہے۔ بارڈرپار سے حملے نیٹو افواج کی موجودگی میں بھی ہوتے رہے اور اُن کے جانے کے بعد بھی ہوتے رہے۔ پاکستان نے تن تنہا ان سازشوں کا سامنا بھی کیا ہے اور اندرونی و بیرونی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ پھر بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ ڈومور کا یہ ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب پاکستان کے پاس صرف ان طاقتوں کو آنکھیں دکھانے کا آپشن ہی رہ گیا ہے۔ اس کے لئے پاکسان کو اپنے اندر کی کرپشن، غیریقینی صورت حال پر قابو پاتے ہوئے لئے گئے قرضوں کی بتدریج واپسی اور آئندہ کم سے کم قرضے لینے کی پالیسی پر گامزن ہونا پڑے گا۔ وگرنہ جس سے لے کر کھایا جائے اس کے سامنے کیسے کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔ ہمیں باعزت قوم بننے کے لئے باعزت اقدامات عمل میں لانا ہوں گے۔ ہماری عزت تبھی ہو گی جب ہم خود کو اس کا اہل ثابت کریں گے۔
عسکری سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی ایک تقریر میں اسی لئے ببانگ دہل کہا کہ پاکستان نے بہت کردار ادا کرلیا ہے اب یہ وقت ہے کہ دنیا ’’ڈومور‘‘ کر کے دکھائے۔ گویا دنیا کا کردار اب تک صرف انسپکشن کرنے والا یا کسی آبزرور کا رہا ہے۔ دنیا کو اس سے آگے بڑھ کر اپنا کردار بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی سطح پر ظاہر ہے امریکہ جیسے ملک کی بات تو سنی جاتی ہے کہ وہ ایک سپرپاور ہے لیکن اُس کی کریڈ یبلٹی وہ نہیں ہے جو کسی با قار ملک کی ہوتی ہے۔ وہ صرف دھونس اور دھمکی کے زور پر اپنی پالیسیوں کا نفاذ چاہتا ہے۔ جبکہ دنیا ’’لاجک‘‘ کے ساتھ ان پالیسیوں کو دیکھتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں کی ناقص اور سازشی پالیسیوں کی بدولت دنیا کا امن تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم دکھائی نہیں دیتا۔ انہیں فلسطین کے مظالم بھی دکھائی نہیں دیتے۔ اُنہیں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والا ظلم و ستم بھی اس طرح سے دکھائی نہیں دے رہا اور اس کے لئے اس انداز سے موثر آواز نہیں اُٹھائی جا رہی لیکن پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف ڈومور کا کردار ہمیشہ ان کے ذہن میں رہتا ہے۔ پاکستان اپنے حصے کا کام کر رہا ہے بلکہ کافی حد تک مکمل کر چکا ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو اگر اپنی ساکھ اور کریڈیبلٹی کی فکر ہے تو پھر اُنہیں سچے جذبوں کے ساتھ کام کرنا ہو گا اور دنیا کو دکھانا ہو گا کہ یہ بین الاقوامی طاقتیں واقعتا دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتی ہیں۔