farrukh sohail goindi copy

پاکستان میں جمہوریت پروان کیوں نہیں چڑھتی؟

پاکستان میں جمہوریت ہروقت خطرات میں گھری رہتی ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں حکومت بننے کو ہمارے ہاں مکمل جمہوریت سمجھ کر یہ یقین کرلیا جاتا ہے کہ بس اب ہم اپنی راہ پر چل نکلے۔ گو ہم بھارت کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں لیکن مثال ہم بھارت کی ہی دیتے ہیں کہ وہاں جمہوریت کا تسلسل ہے۔ اور خود بھارت بھی اپنے تشخص کو دنیا بھر میں مضبوط کرنے کے لیے یہ بات ہرجگہ کرتا ہے کہ ’’ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں‘‘۔ وہ یہ بات یقیناًبھارت میں تسلسل کے ساتھ انتخابات کے نتائج میں بننے والی حکومتوں اور دنیا کی دوسری بڑی آبادی کے سبب کرتا ہے۔ کیا بھارتی جمہوریت ماڈل ڈیموکریسی ہے؟ قطعاً نہیں۔ ستر سال سے ’’تسلسل سے قائم جمہوریت‘‘ نے بھارت کو کس طرح اور کس قدر بدلا؟ ہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بھارت میں آزادی کے بعد وہاں جاگیرداری نظام کا خاتمہ کردیا گیا جوکہ جمہوریت کے لیے ایک لازم جزو ہے۔ کوئی بھی جمہوریت اپنے ساتھ جاگیرداری نظام کو نہیں پال سکتی۔ یہاں تک یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے اس جزو کو مکمل نہیں کیا گیا۔ لیکن سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے جاگیرداری نظام کا تو خاتمہ کردیا، مگر کیا کسانوں کے حالات بدل گئے؟ ایک مصدقہ تحقیق کے مطابق 1990ء سے 2013ء تک بھارت میں غربت سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کی تعداد 2لاکھ 70ہزار سے زائد ہے۔ 2014ء میں بھارت کے 5650کسانوں نے غربت کے سبب خودکشی کی۔ بھارتی جمہوریت اور پاکستانی جمہوریت کا سرچشمہ ایک ہی ہے، فرق یہ ہے کہ وہاں یہ چشمہ تسلسل سے پھوٹتا رہا، یہاں اس میں فوجی آمریتوں کے سبب تعطل آتا رہا۔ بھارت کے بارے جہاں یہ فخریہ جملہ دنیا بھر میں مشہور ہے کہ India is the largest democracy of the world، تو یہ بھی حقیقت ہے کہ India is the largest poverty of the world۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بھارتی جمہوریت اپنے ہاں غربت کو دُور کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ جاگیرداری ختم کرکے، بھارتی جمہوریت مضبوط تو ہوئی مگر کسانوں کے حالات نہیں بدلے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی مڈل کلاس رکھنے والی ریاست ہے جسے جمہوریت کا محافظ قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہ حقیقت غلط نہیں۔ بس یہیں سے سب سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔ بھارت نے جاگیرداری ختم کردی، جمہوریت مضبوط ہوئی، یعنی جمہوریت کا تسلسل برقرار رہا۔ اور یہیں اہم نکتہ جو سامنے آتا ہے کہ بھارت نے شروع کے تقریباً چالیس سال ملی جلی معیشت کو چلایا۔ یہ معیشت سرمایہ دارانہ اور سوشلسٹ معیشت کی ملی جلی معیشت نہیں تھی بلکہ عالمی سرمایہ داری نظام کے مقابلے میں اپنے سرمایہ دار اور صنعت کار کو پھل پھولنے کے مواقع دئیے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسّی کی دہائی تک بھارت میں عالمی سرمایہ داری کی مصنوعات دیکھنے کو نایاب تھیں۔ یعنی انہوں نے قومی سرمایہ دار کو پنپنے کے مواقع دئیے جب قومی سرمایہ دار مضبوط ہوگیا تو بھارتی ریاست اور بھارتی جمہوریت، عالمی سرمایہ داری سے بغلگیر ہوگئی۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد دنیا بھر کی کاروں سے لے کر مشروبات تک، سب وہاں آن پہنچے۔ بھارت نے ایک مضبوط صنعتی اور سرمایہ داری ڈھانچا تعمیر اور مضبوط کرلیا تو عالمی سرمایہ داری سے اشتراکیت کرلی اور یوں درحقیقت اپنے آپ کو عالمی سرمایہ داری کا حصہ بنا لیا۔ اس جہد میں بھارت میں ایک بڑی مڈل کلاس نے جنم لیا۔ دنیا کی بڑی Consumer Class جس نے عالمی اور بھارتی سرمایہ داری کو دنیا کی ایک بڑی منڈی فراہم کردی۔ اور یوں جنم لینے والی یہ بڑی مڈل کلاس اس نظام کی محافظ بن کر ہراول دستے کا کردار ادا کرنے لگی ہے، جو بھارتی سرمایہ داری، صنعت کاری اور عالمی سرمایہ داری نے مل کر جنم دی۔ وہ بھارت میں لاگو نظام کی محافظ ہے۔ جمہوریت، غربت اور سرمایہ داری۔ بھارت نے اپنے ہاں جنم لینے والی آزادی اور علیحدگی کی تحریکوں کو پوری قوت سے کچلا اور کچلنے کا یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ سرخ لکیر والی ریاستوں یعنی جہاں ماؤسٹ سوشلسٹ تحریکیں برپا ہیں اور کشمیر جہاں لوگ اپنی آزادی کے لیے فلسطین سے بھی زیادہ لہو کا نذرانہ دے رہے ہیں۔ بھارتی جمہوریت نے جس انداز
سے اپنے ہاں Militarization کی ہے، وہ دنیا کی منفرد مثال ہے۔ صرف کشمیر میں سات لاکھ کے قریب فوجی اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس Militarization میں مصروف ہیں۔ اور یوں ہی بھارتی ریاست جس کے ہاں دنیا کا سب سے بڑا سمندر موجیں مار رہا ہے، دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار اور اپنے ہاں بھی اسلحہ سازی میں پیش پیش ہے۔ نہ تو جاگیرداری ختم کرنے سے کسان خوش حال ہوئے اور نہ ہیں جمہوریت سے عوام کی قسمت میں تبدیلی آئی۔ ہاں ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بھارتی جمہوریت نے قاتلوں، ڈاکوؤں کو منتخب ہونے کے مواقع فراہم کردئیے، اسی لیے بھارتی جمہوریت کو Gangland Democracy بھی کہا جاتا ہے۔
بھارتی سرمایہ داروں کی عالمی سرمایہ داری کے اشتراک سے بھارتی درمیانے طبقے سے اتحاد سے جاری جمہوریت، جوکہ برطانوی کلونیل ریاست کا ہی تسلسل ہے۔ کلونیل ریاست کے مرہون منت ریاست اور جمہوریت کا یہ امتزاج جو وہاں کی غربت ختم نہ کرسکا اور نہ ہی عام آدمی کو Empower کرسکا۔ پاکستان میں جمہوریت اور ریاست کا سرچشمہ وہی ہے مگر تسلسل نہیں۔ اس تسلسل کو فوجی آمروں نے چار بار، فوجی حکومتیں اور مارشل لاء مسلط کرکے توڑا۔ غور سے تحقیق کریں تو یہ فوجی آمریتیں بھی اسی برطانوی کلونیل نظام کی مرہون منت ہیں۔ برطانوی راج میں یہاں پر لگنے والے مارشل لاء اور فوجی طاقتوں کا اندرونی استعمال اس کا ثبوت ہیں۔ اور اسی طرح جیسے پاکستان آج دنیا بھر میں عسکری معاملات میں اپنے کردار کا خواہاں ہے، اس کی Roots بھی اسی برطانوی عسکری جبلت میں ہیں جس نے برٹش راج میں لاکھوں کی تعداد میں یہاں سے فوج بھرتی کرکے دنیا کے دنیا کے بڑے فوجی معرکے کیے، جن میں فلسطین کی جگہ اسرائیل کا قیام، حجاز پر عثمانی سلطنت کو لپیٹ کر ایک خاندان کی حکومت اسی انڈین برٹش آرمی کے مرہون منت ہوئی۔ اور ایسے ہی بغداد، درۂ دانیال (ترکی)، مشرقِ وسطیٰ، جاپان اور برما میں۔ جی ہاں، سیکیوریٹی سٹیٹ کی یہ جڑیں وہیں سے پھوٹی ہیں۔ بنگالیوں نے دو مرتبہ آزادی حاصل کی، ایک مرتبہ برطانوی سامراج سے، دوسری بار پاکستان سے بلکہ پاکستان کی فوج سے ہتھیار ڈلوا کر۔ لیکن یہ خطۂ برصغیر بھی اسی طرح آگے بڑھ رہا ہے جیسے بھارت اور پاکستان ۔ بنگلہ دیش میں فوجی آمریتیں بھی آئیں اور غربت بھی برقرار رہی۔
ہمارے ہاں جو لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ جمہوریت کا تسلسل رہے تو سب ٹھیک ہوجائے گا،ان سے سوال یہ ہے کہ بھارت کو تو بدل جانا چاہیے تھا، اسے چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، روس اور جاپان سے آگے ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ذرا غور سے دیکھیں تو پاکستانی جمہوریت ہو یا بنگلہ دیشی جمہوریت، یا ایسے ہی فوجی آمریتیں، ان جمہوریتوں اور آمریتوں کا سرچشمہ ایک ہی کلونیل نظام، یعنی ہماری جمہوریتیں اور آمریتیں تصویر کے دو رخ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ آج کل پاکستان میں تبدیلی کے علم بردار ہیں، کیا وہ یہ سب کچھ،اس نظام کو پلٹ سکتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ نہ صرف پلٹ نہیں سکتے بلکہ اس کو پلٹنے بلکہ اس نظام کی بُنت ہی سے آگاہ نہیں۔ بھارتی جمہوریت کی محافظ وہاں کی مڈل کلاس ہے اور اسی طرح پاکستان کی جمہوریت کی محافظ بھی یہاں کی مڈل کلاس ہے۔ گلوبلائزیشن کے بطن سے کارپوریٹ مڈل کلاس نے ہمارے ہاں جنم لیا اور وہی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ حکومتیں بدل دو، نظام بدل جائے گا۔ اس مڈل کلاس نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آخری سالوں میں اپنا وجود ثابت کیا او روکلا تحریک کی شکل میں آمریت کو مشکل وقت دیا۔ اب یہ مڈل کلاس سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت کو بدل دو، تبدیلی آجائے گی۔ بھارت میں تو کئی حکومتیں بدلیں، حتیٰ کہ بائیں بازو کے لوگ بھی بھارتی جمہوریت میں داخل ہوئے، وہاں تو تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ وہ بھارت جو 1947ء میں تھا، وہ کہیں نہیں بدلا، سوائے ایک بڑی مڈل کلاس کے ظہور کے۔ تو پھر یہ نئی کارپوریٹ مڈل کلاس کیا، اس حکومت کو جو مرکنٹائل کلاس کی نمائندہ ہے، شکست دے کر تبدیلی برپا کرنے کی طاقت اور اہلیت رکھتی ہے؟ نہیں، اس لیے کہ یہ دو درمیانے طبقات کے مابین طاقت، مفادات اور سماجی قیادت کی کشمکش ہے۔ اس میں پاکستان کے پیداواری طبقات شامل ہی نہیں، خصوصاً دہقان اور بچے کھچے صنعتی مزدور۔
ترکی میں جمہوریت کی کامیابی ایک اہم نکتہ ہے جو میں نے تین دہائیوں کے مطالعے اور مشاہدے سے پایا۔ ترکی میں جمہوریت کسی کلونیل نظام کی پیداوار نہیں۔ ترکوں نے تو سلطنتِ عثمانیہ کے قدرتی زوال کے بعد دنیا کی کلونیل طاقتوں برطانیہ، فرانس اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ لڑ کے اپنی آزادی برقرار رکھی۔ مغربی کلونیل ریاستوں کے ساتھ جنگوں میں فتح پانے کے بعد اتاترک نے کسی کلونیل بطن سے نہیں بلکہ اپنی عوامی فکر سے ریپبلک قائم کرکے جمہور کا نظام متعارف کروایا۔ یہ تیسری دنیا کی واحد جمہوریت ہے جو کسی Colonial Legacy سے حاصل نہیں کی گئی۔ اس جمہوریت کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ اتاترک نے ریپبلک بناتے ہوئے کہا کہ ’’ترکی کسانوں کا۔‘‘ جی یہ کسان ہی تھے جو اتاترک، عصمت اِنونو کی فوج کے ساتھ مل کر مغربی کلونیل ریاستوں کے خلاف لڑے اور اپنی آزادی کا دروازہ کھول دیا۔ ترک جمہوریت کی جڑیں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش کی طرح کسی سامراجی ریاست اور نظام سے نہیں نکلیں۔ برصغیر کی ریاستوں کا موجودہ ڈھانچا تو درحقیقت سامراجیت کی تقویت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ بھارتی جمہوریت نے اپنے آپ کو سیکولر قرار دیا اور پاکستانی جمہوریت نے اسلامی۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں ہی حقیقی جمہوریت کو جنم دینے میں ناکام رہے۔ ایک بڑھتے بڑھتے Gangland Democracy بن گئی اور دوسری Security State۔ جب تک یہ ریاستی ڈھانچے برقرار رہیں گے، Gangland Democracy اور Security State چلتے رہیں گے۔ نہ جمہوریت کا تسلسل اور نہ ہی مضبوط فوجی آمریت اور نہ ہی ’’تبدیلی‘‘ کے علمبردار ان ڈھانچوں کو توڑنے کی اہلیت اور ادراک رکھتے ہیں۔ یہ ریاستیں اپنے ہی لیڈروں کو نگلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی۔ شیخ مجیب۔ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو اور ایسے دیگر کئی لیڈر۔
قارئین، استنبول سے سلام و محبت۔