dr-zahid-munir-amir

پاکستان میں تعلیم اورقائداعظمؒ کا تصور

آج مسلم دنیا کی واحدایٹمی طاقت بن جانے والا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ،بہت سے دوسرے اسلامی ممالک کی طرح ۱۹۴۷ تک برطانوی استعمار کے ظالمانہ پنجے سے رہائی کی کوشش کر رہا تھا۔ابنائے وطن کی سوسالہ جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد اسلامیان ہند نے آئینی اور جمہوری طریقے کے ذریعے سے ۱۴/ اگست ۱۹۴۷ کو یہ جنگ جیت لی اور ایک آزاد خود مختار اسلامی جمہوری ملک قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ استعماریت کا طویل عذاب سہنے اور تقسیم ہند کے وقت ہونے والی ناانصافیوں کے باعث اس نو آزاد مملکت کو شروع ہی سے بہت سے مسائل کا سامنا ہوا،جغرافیائی، تاریخی سماجی، اقتصادی ناانصافیوں کے ذکر سے قطع نظر کرتے ہوئے یہاں موضوع کا لحاظ رکھتے ہوئے صرف تعلیمی صورت حال کا جائزہ پیش نظر ہے ۔
برصغیر میں انگریز کی آمد سے پہلے جو تعلیمی نظام رائج تھا اس میں عربی فارسی کو کلیدی اہمیت حاصل تھی بلکہ فارسی تو صدیوں تک بر صغیر کی سرکاری زبان بھی رہی اور مسلمانان ہند کابڑا دینی ادبی اور تہذیبی سرمایہ انھی دو زبانوں میں تھا لیکن انگریزوں نے مسلمانانِ ہند کو ان کی تہذیب و ثقافت کے سر چشموں سے کاٹ دینے کے لیے نئے نظام تعلیم میں ان دونوں زبانوں کوکوئی حصہ نہ دیابلکہ انگریزی نظام تعلیم کے مجوز اور خالق مسٹر میکالے نے نئے سامراجی نظام تعلیم کی عمارت استورا کرتے ہوئے یہ کہا کہ ہمیں اس نظام سے ایسے افراد پیدا کرنے ہیں جو رنگ و نسل کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوں لیکن ذہن اور روح کے اعتبار سے انگریز۔ دراصل اس طریق کار کو پنا کر انگریز ہندوستانی عوام کو دائمی ذہنی غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا تھا جیسا کہ ہمارے حکیم شاعر اکبر الہ آبادی نے خوب صورتی سے اس بات کو بیان کردیا تھا کہ
شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتاہے
دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے
(اپنے مذہبی راہنما ؤں اور مرشدوں کی بات اب سمجھ میں آتی ہے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر قوموں کی تعلیم بدل دی جائے تو اس سے اذہان و قلوب تبدیل ہو جایا کرتے ہیں)
ہندوستانی عوام کے اذہان و قلوب بدلنے کی اس استعماری کوشش نے نہ صرف ہندوستان کے نظامِ تعلیم کوبلکہ ہندوستانی سماج کو بھی دو واضح دھاروں میں تقسیم کردیا۔معاشرے کے ایک بڑے طبقے نے انگریزوں کے متعارفہ نئے نظام تعلیم کو قبول نہ کیا اور وہ اپنی پرانی روش پر گامزن رہے معاشرے کے ایک طبقے نے صورت حال سے مفاہمت کی راہ اختیار کی اور نئے نظام کو قبول کرلیا۔پہلے طبقے کی راہ نمائی اگرمذہبی طرزِ فکر کے حامل علما کے ہاتھوں میں تھی تو اس طرزِ فکر کے سربرآوردہ راہ نما سر سید احمد خان مرحوم تھے ۔حققیت میں پاکستان کا نظام تعلیم آج بھی انھی دو دھاروں میں سفر کر رہا ہے ۔ قیام پاکستان کے وقت ملک کے دو بازو مشرقی اور مغربی پاکستان ایک ہزار میل کے فاصلے واقع تھے اس طویل وعریض مملکت کے حصے میں سابقہ متحدہ ہندوستان سے محض دو یو نی ورسٹیاں آئی تھیں ۔مغربی پاکستان کے شہر لاہور کی پنجاب یونی ورسٹی اور مشرقی پاکستان کی ڈھاکہ یو نی ورسٹی،حکومت نئے وطن کے قیام کے ساتھ ہی وراثت میں ملنے والے سیاسی اور اقتصادی مسائل سے نبرد آزما تھی۔ایک کٹے پھٹے اور
بے وسیلہ ملک کے عوام نے جس ہمت اور لگن کے ساتھ حصول آزادی کی منزل سر کی تھی اسی ہمت اور لگن کے بل پر اگلی دو دہائیوں میں ملک میں بیسیوں نئے تعلیمی ادارے قائم کر لیے گئے ،قیام پاکستان کے وقت قوم کے پیش نظر علم و تعلیم کا جو معیار اور مقاصد تھے انھیں بانیء پاکستان کے الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے ،قائد اعظم نے یہ الفاظ ۲۷ نومبر ۱۹۴۷ء کو منعقد ہونے والی آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس کے نام پیغام میں کہے تھے :
There is no doubt that the future of our state will and must greatly depend upon the type of education we give to our children and the way in which we bring them up as future citizen of Pakistan. Education does not merely mean academic education. There is immediate and urgent need for giving scientific and technical education to our people in order to build up our future economic life and to see that our people take to science, commerce, trade and particularly well-planned industries. We should not forget that we have to build up the character of our future generation. We should try ,by sound education, to instill into them the highest sense of honor, integrity, responsibility and selfless service to the nation. We have to see that they are fully qualified and equipped to play their part in the various branches of national life in a manner which will do honor to Pakistan.
اس امرمیں کوئی کوئی شبہ نہیں کہ ہماری ریاست کے مستقبل کا انحصارزیادہ تربچوں کو دی جانے والی تعلیم کی نوعیت اور اس انداز پرہے جس پر ہم انھیں پروان چڑھاکرمستقبل کا شہری بنائیں ۔تعلیم کا مطلب فقط مکتبی تدریس نہیں ۔ہمیں اپنے لوگوں کو فوری طورپرسائنسی اور فنی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی مستقبل کی معاشی زندگی کی تعمیرکرسکیں اور ہمارے لوگ سائنس ،کامرس، تجارت اورخاص طور پر بہترمنصوبہ بندی کے ساتھ لگائی جانے والی صنعتوں کی تعمیرمیں اپناکرداراداکرسکیں ۔ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے کردارکی تعمیرکرنی ہے۔ ہمیں معیاری تعلیم کے ذریعے ان کے اندر وقار،داخلی وحدت،احساسِ ذمہ داری اوربے غرض قومی خدمت کے جذبات پیداکرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہمیں یہ دیکھناہے کہ کیاوہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں ایساکرداراداکرنے کے لیے مکمل طور پر تیارہیں جو پاکستان کے لیے وقارکا باعث بنے ۔
قوم نے ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنی مدد آپ کے اصول پر سکولوں ،مدارس، کالجوں اور جامعات کی صورت میں متعدد ادارے قائم کیے ۔جنھوں نے تین دہائیوں تک آزادانہ تعلیمی خدمات انجام دیں ۔عصرِ حاضر کی سیاسی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے گزشتہ صدی کے نصف آخر میں ابھرنے والے سوشلزم کے اس طوفان سے بے خبر نہیں جس نے دنیا کے متعدد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ مصر اور دنیا کے بعض دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی اس لہر سے متاثر ہوا ۔۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں مغربی پاکستان میں اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھرنے والی پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے وژن کے مطابق ملک کے سیاسی۔سماجی اور تعلیمی ڈھانچے کو سوشلسٹ تصورات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ۔اس سلسلے میں ملک کی صنعتوں کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی قومیا لیا گیا جس کے نتیجے میں وہ تمام تعلیمی ادارے جو عوام نے اپنی محنت،سرمائے اور بعض سماجی انجمنوں کے پلیٹ فارم سے قائم کیے تھے سرکاری تعلیمی ادارے بن گئے لیکن تیسری دنیا کے اکثر مما لک کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری ادارے بن جانے کے بعد ملازمتوں میں ملنے والے غیر مشروط تحفظ اور کسی چھوٹی سطح پر جواب دہی کے احساس سے آزادی نے کچھ زیادہ اچھے نتائج پیدا نہیں کیے۔ یہاں تک کہ اسی کی دہائی میں اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے ملک کی صنعتوں کی طرح تعلیمی ادارے بھی سابقہ مالکان کو واپس کردیے گئے اور پبلک سیکٹر میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے قیام کی اجازت دے دی گئی ۔