M-Osama-new

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی

عالمی دہشت گردی کے پیش نظر داخلی سکیورٹی خدشات نے جہاں عوام الناس کی روزمرہ زندگی متاثر کی، وہیں شائقینِ کرکٹ کو وطنِ عزیز میں بین الاقوامی سطح کا کھیل دیکھنے سے بھی محروم کر دیا۔ ماضی کی غلطیوں اور حریف کرکٹ بورڈز کی منفی حکمت عملی کے سبب بین الاقوامی میچز پاکستان سے رخصت ہو گئے۔ یہاں تک کہ ہمیں 2011ء کے ورلڈکپ کی میزبانی سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ 2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر قابل مذمت حملے کے بعد سے پاکستان کو ہوم میچز مستقل طور پر متحدہ عرب امارات منتقل کرنا پڑے۔ لیکن حالیہ دور میں بین الاقوامی کھیل کی خوشیاں وطنِ عزیز میں واپس لوٹ آئی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی زمبابوے کی ٹیم کا دورۂ پاکستان تھا ، جب 2015ء میں مہمان کھلاڑیوں نے پانچ ون ڈے اور ٹی 20 میچز کھیلے۔یہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا نقطۂ آغاز تھا۔
یقیناًاس کامیابی کا سہرا سابق وزیراعظم و پیٹرن ان چیف پاکستان کرکٹ بورڈ میاں محمد نوازشریف اور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کو جاتا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سبکدوش وزیراعظم کے صحت مند سرگرمیوں اور بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کے مشن کو آگے بڑھانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں وزارت کھیل، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی کامیاب ڈپلومیسی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ کھلاڑیوں کو کامیاب اور فول پروف سکیورٹی مہیاکرنے کے لئے پاک افواج اور پولیس کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ چنانچہ افراد اور اداروں کی مشترکہ کاوشوں کے تحت عالمی کرکٹ پاک سرزمین پر لوٹ آئی ہے۔
پاکستان کرکٹ کی ترقی میں چیئرمین پی سی بی کا کلیدی کردار ہے۔ پی ایس ایل کا انعقاد ہو یا پاکستان کا آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں اوج کمال، کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نجم سیٹھی نے بھی ان تھک محنت کی ۔ نجم سیٹھی کی سفارتی ’چڑیا‘ نے پاکستانی شاہینوں کے حوصلے اور پرواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے مختلف ممالک کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں سے مستقل اور مسلسل رابطہ استوار رکھا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی فٹنس کو بحال کرنے کے لئے دورۂ انگلینڈ سے قبل آرمی نے ورزشی کیمپ کا بھی انعقاد کیا۔اس اقدام نے ٹیم کو نظم و ضبط کا عادی بنا کر کپتان کی ہدایات کے مطابق اچھا کھیل پیش کرنے کی تربیت دی۔
پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل پاکستان میں کھیلا گیا۔ جس میں کئی مایہ ناز بین الاقوامی کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ پاک افواج نے کھلاڑیوں کوکھیل کے لئے محفوظ اور پُرسکون ماحول مہیا کیا۔ پی ایس ایل کی کامیابی کا نتیجہ تھا کہ نئے کھلاڑی ابھر کر کھیل کے منظرنامے پر ستاروں کی طرح نمودار ہوئے۔ فخرِ پاکستان فخر زمان اور نوجوان باؤلر حسن علی نے قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنا لی۔پی ایس ایل کی دریافت کے باعث ان کھلاڑیوں نے چیمپئنز ٹرافی جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نتیجتاً آٹھویں رینکنگ کی پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کی فیورٹ قرار دی جانے والی ورلڈنمبر ون اور روایتی حریف انڈین ٹیم کو ناقابل فراموش شکست سے دوچار کیا۔ پاکستان کی فتح نے دیگر ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب ارضِ پاکستان کو بین الاقوامی کھیل سے زیادہ دیر محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ عالمی کرکٹ برادری کو دورے پر قائل کرنے کے لئے نجم سیٹھی نے روابط تیز کر دیئے۔ سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور دیگر بورڈز سے بات چیت اور معاہدے کئے۔ اس راہ پر چلتے ہوئے وہ ایک دوستانہ سیریز انڈیپنڈنس کپ میں دنیا کے مایہ ناز ٹی 20 کھلاڑیوں کی شرکت کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے۔ چنانچہ ستمبر 2017ء میں یہ سیریز طے پائی۔ ورلڈ الیون میں ساؤتھ افریقہ کے بہترین بلے باز ہاشم آملہ، فاسٹ باؤلر مورنے مورکل ، سپنر عمران طاہر اور کپتان فاف ڈوپلیسی نے شرکت کی جبکہ ویسٹ انڈیز کے دو بار عالمی کپ جیتنے والے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے ایک بار پھر پاکستانی قوم کے جذبے اور ولولے کو سراہتے ہوئے شرکت کا اعلان کیا۔ دیگر کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے سٹار آل راؤنڈر بین کٹنگ اور سابق آسٹریلوی کپتان جارج بیلی بھی شامل ہیں۔گزشتہ شب اس سیریز کا پہلا میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ بظاہرایک دوستانہ لیکن شائقین کرکٹ کے دلدادہ شہریوں کو ایک عمدہ کھیل دیکھنے کا موقع ملا۔ خوش قسمتی سے میزبان ٹیم نے یہ میچ 20 رنز سے جیت لیا۔ چیمپئنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کے لئے یہ ایک اچھا شگون ہے۔ دونوں ٹیموں نے اپنی قابلیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس میچ کا مقصد محض ہار اور جیت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ سٹیڈیم میں موجود شائقین نے مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کی شاندار پذیرائی کی۔ یہ امر پاکستانی عوام کی کرکٹ سے بے پناہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔مہمان کھلاڑیوں کی آمد کے بعد منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں کپتان ڈوپلیسی نے بھی اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سریز کی اہمیت کھیل سے بڑھ کر ہے۔ یقیناًمہمان کھلاڑی کرکٹ سے بڑھ کر پاکستان میں امن اور اُمید کے سفیر ہیں۔ اس سیریز کے کامیاب انعقاد کے لئے ان کھلاڑیوں اور بورڈز کے شکر گزار پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ یہ نجم سیٹھیکی کامیاب کوششوں کا ایک خوبصورت ثمرہ ہے کہ شائقینِ کرکٹ کو 2017ء میں ایک بار پھر بین الاقوامی کھلاڑیوں اور اپنی فاتح ٹیم کے ہیروز کو وطن عزیز میں مدمقابل دیکھنے کا موقع ملا۔
چیئرمین پی سی بی نپے تلے اور مستحکم اقدام لینے کے خواہاں ہیں۔ جس تیزی سے بین الاقوامی کھیل کا انعقاد ہوا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیئرمین پی سی بی جلد بازی کی بجائے صابر حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل کی ہوم سیریز کا انعقاد پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی ہو گا۔ ہمارے شاہینوں نے چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو شکست سے دوچار کر کے ہمارا سر فخر سے بلند کیا۔ ورلڈ الیون کے مہمان کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور اس سے بڑھ کر دنیا میں پاکستان کو پُرامن ملک ثابت کر دیا ہے۔ یوں پاکستان مخالف بھارتی پراپیگنڈا مکمل طور پر زائل ہو کر رہ گیا۔ یہ حکومت پاکستان اور چیئرمین پی سی بی کیٹھوس اقدامات کا نتیجہ ہے کہ شائقین کرکٹ مستقبل میں پاک سرزمین پر بین الاقوامی سیریز کے انعقاد کے لئے پُرامید ہیں۔