tariq mehmood ch

پاکستان جنگ جیت رہا ہے

یلغار بہت سخت ہے، دشمن نے ایک مرتبہ پھر شدید وار کیا ہے۔ مشرق و مغرب دونوں جانب سے۔ ملک کے اندر بھی اور سات سمندر پار سے بھی۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ ایسے میں جب دیگر ممالک اس جنگ میں پسپا ہو رہے ہیں۔ یہ بات مبتدی قلم کار ہی نہیں کہتا بلکہ اعدادوشمار بھی گواہی دیتے ہیں۔ ایسے اعدادوشمار جو مستند تحقیقی اداروں نے عرق ریزی کے بعد مرتب کئے ہیں۔ جن کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے زیرسایہ یہ ادارے تو ہمہ وقت پاکستان پر ادھار کھائے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ وہ تو پاکستان کو بالخصوص اور بالعموم عالم اسلام کو دہشت گردوں کا سرپرست ثابت کر کے اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ لیکن جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ سچائی وہ جس کا اعتراف اپنوں کے ساتھ پرائے بھی کریں۔ لیکن وطن عزیز کے باسی اور مکین میں سے ان گنت ایسے ہیں جو صبح و شام سیاپا فروشی کرتے ہیں۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر منفی خبر لیکر آتے ہیں۔ نام اس کو آزادی اظہار کا دیتے ہیں۔ خیر ان کو وہی کچھ کرنا ہے، جس کے عوض ان کی دکان چوبیس گھنٹے چلتی ہے۔ ڈالر، پاؤنڈ اور دیگر کرنسیاں۔ بعوض خدمات ظاہری و خفی ملتے ہیں۔ لیکن سچ چھپتا نہیں۔ ابھی دو روز قبل گلوبل ٹیررازم انڈیکس جاری کیا گیا ہے۔ کنگرو کے دیس براعظم آسٹریلیا کے ادارہ برائے معاشیات اور قیام امن نے یہ رپورٹ پورے ایک سال کی تحقیق کے بعد جاری کی ہے۔ رپورٹ کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ گویا، دہشت گردی کی آگ ماضی کی بہ نست تیزی سے پھیلی ہے۔ یورپ ہو یا امریکہ، مشرق وسطی ہو یا افریقہ۔ دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ آسٹریلیوی ادارے کے مرتب کردہ یہ اعدادوشمار 2016ء کے دورانیہ کے ہیں۔ ادارہ ہذا 2014ء سے دہشت گردی اس کے مراحل، اثرات و نتائج پر مسلسل ریسرچ کر رہا ہے۔ 2017ء یعنی سال رواں کے اعدادوشمار، تحقیق کے بعد اگلے سال شائع ہوں گے۔ گلوبل ٹیرر ازم انڈیکس کہتا ہے کہ ایک عشرے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور اس کے نتیجہ میں ہلاکتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والی کوششیں بالخصوص آپریشن ضرب عضب اور اس کا اگلا مرحلہ آپریشن رد الفساد کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 25 ہزار سے زائد افراد دہشت گردی کی نذر ہوئے۔ رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں پاکستان چند سال تک دہشت گردی کے شکار ممالک میں دوسرے نمبر پر تھا۔ لیکن آج قوم کے عزم کی وجہ سے پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔ باقی ممالک میں عراق، افغانستان، نائیجریا، شام ہیں۔ تاہم 77 ممالک ایسے ہیں جہاں دہشت گردی کے واقعات ریکارڈ ہوئے۔ واضح رہے کہ مغربی طاقتوں کا لاڈلا اور امریکہ کا چہیتا ملک بھارت دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ لیکن تحقیقاتی ادارے بھارت کے متعلق عام طور پر اپنی زبان بند ہی رکھتے ہیں۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے سبب بین الاقوامی طور پر معاشی خسارے کا تخمینہ تقریباً 80 ارب ڈالر ہے۔ اس سے زیادہ خسارہ موسمیاتی تبدیلیوں، زلزلوں، بارشوں اور دیگر قدرتی آفات کے وجہ سے ہوتا ہے۔ گویا عالمی برادری کو اقتصادی خسارہ دینے والا تیسرا بڑا عنصر دہشت گردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 2014ء دہشت گردی کے جان لیوا خونی واقعات کے حوالے سے بدترین تھا۔ لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر تجزیہ کیا جائے تو گزشتہ 17 سالوں میں ہونے والی واقعات میں کمی نہیں آئی۔ اسی طرح ٹی ٹی بی، جماعت الاحرار کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔ اسی طرح نائیجریا میں دہشت گرد تنظیم بوکو حرام کے حملوں میں 82 فیصد کمی، تاہم عراق، شام اور اب افغانستان میں برسرعمل داعش کے خونی حملوں میں 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے مرتکب گروپوں اور گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کی ہے۔ گزشتہ برس یعنی 2016ء میں 736 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جو کہ 2014ء کے مقابلہ میں 12 کم اور 2013ء کے مقابلے میں 54 فیصد کم ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتیں 2006ء کے بعد سب سے کم ہیں۔ حال ہی میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے۔ یہ رفتار بالخصوص امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے بعد بڑھی ہے۔ کیونکہ امریکہ نے اب حتمی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی مرضی کا حل مسلط کر کے رہے گا۔ کیونکہ افغانستان پر موثر قبضہ کر کے ہی وہ بیک وقت چین اور پاکستان پر نظر رکھ سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے بھارت کو علاقہ کا تھانیدار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ارد گرد کے ممالک بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان پہلے ہی بھارتی بالادستی کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔ صرف پاکستان اس کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے۔ لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ایک جانب اپنے دفاع کا میگا پراجیکٹس کی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ سی پیک عمل درآمد کی جانب گامزن ہے۔ موٹر ویز تکمیل کے قریب ہیں۔ گوادر بندر گاہ کی آزمائش ہو چکی۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے کوششیں آخری مراحل میں ہیں۔ ایسے میں دشمن قوتوں نے مشترکہ لشکر بنا کر ہر طرف سے یلغار کی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے 57 ارب ڈالر کے خفیہ فنڈ مختص کر دیئے ہیں۔ بلوچستان میں کلبھوشن کے نیٹ ورک کی گرفتاری کے بعد اب اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا کہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے کون ہے۔ بھارت اور افغانستان وقفے وقفے سے ہونے والی دہشت گردی کے حصہ دار ہیں۔ مشرقی سرحد پر ایک ہزار سے زائد مرتبہ ایل او سی کی خلاف ورزی کی جا چکی۔ کئی شہادتیں بھی ہوئی ہیں۔ مغربی بارڈر پر گزشتہ دو ماہ میں دہشت گردی کے پانچ واقعات ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں دو ہفتوں میں دو مرتبہ پولیس افسروں پر اٹیک کئے گئے۔ گزشتہ ہفتے بھی غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے خواہشمند نوجوانوں کو پنجاب کا شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا گیا۔ بھاگتے ہوئے دہشت گرد اب آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نئے فیز میں داخل ہو گئی ہے۔ راہ فرار اختیار کرتے ہوئے دشمن نے پھر یلغار کی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ جنگ ہار رہا ہے۔